مروّجہ نعت خوانی یا پیشہ - محمد عمیر کاشف

نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت مبارک اور سیرت طیبہ کا ذکر بلا شبہ باعث خیر و برکت و سعادت دارین ہے یہی وجہ ہے کہ ہر دور کے مبلغین نے اپنی تبلیغ، واعظین نے واعظ ، مقررین نے اپنی تقریر، خطباء نے اپنی خطابت، مورخین نے اپنی تاریخ، محدثین نے اپنی حدیث، مفسرین نے تفسیر، شعراء نے اپنے اشعار کے ذریعے اس بابرکت، مقدس اور عظیم موضوع پر سیر حاصل کلام کیا۔ اس کے باوجود یہ عنوان اتنی ہمہ گیر جہات اور تاثیر رکھتی ہے کہ قاری اور سامع کی تشنگی دور نہیں ہوتی۔

لیکن گزشتہ کچھ عرصہ سے سیرت طیبہ کا ذکر ایک نئے انداز سے کیا جارہا ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ مبارک کے بیان سے زیادہ گستاخی کا پہلو نمایاں ہے۔ آغاز میں تو یہ انداز سب سامعین نے پسند بھی کیا اور نعت خواں حضرات کی خوب پذیرائی بھی کی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس نعت خوانی جیسے مقدس عمل نے اب ایک پیشے کی صورت اختیار کر لی ہے ۔

نعت خواں حضرات کے ریٹ فکس ہیں جو جتنا مشہور ہوگا اس کا ریٹ اتنا ہی زیادہ ہوگا بغیر وعدہ خدمت کے یہ حضرات کم وبیش ہی حضور کی نعت سنانے کی لیے تشریف لاتے ہیں اور جو آتے ہیں ان کے مزاج ہی نہیں ملتے اسٹیج پر قدم رنجہ فرمانے کے بعد سب سے پہلے اپنی حاضری کا احساس دلایا جاتا ہے کہ ہم آج دن میں اتنے پروگرام کرنے کے بعد یہاں حاضر ہوئے ہیں پھر اس کے بعد عوام کے جوش و خروش کو بڑھانے کی لیے ایسی نعتیں پڑھی جاتی ہیں جن سے نعوذ بااللہ گمان کسی محفل موسیقی کا ہوتا ہے ، اسٹیج پر پیسے نچھاور کرنا گانوں کی طرز پر نعتیں پڑھنا معاوضہ کے بغیر نعت پڑھنے سے انکار کرنا یہ کونسا دین اور کیسا عشق رسول ہے ؟ ہم اتنے گئے گزرے ہیں کہ حضور کی نعت سننے کی لیے ہمیں ان ڈسکو ملاؤں کا محتاج ہونا پڑے گا۔ بقول ایک دوست کے کہ نعت خواں اب نعت خور بن چکے ہیں!