ادھ پڑھا مسٹر نما مولوی - سعید بن عبدالغفار

آج سے کوئی دس سال پہلے کی بات ہے کہ جب ہم مدرسہ کی تعلیم مکمل کرنے کے قریب پہنچ چکے تھے، ایک صاحب جو جدید تراش خراش کے ساتھ ہمارے پاس ملنے آتے تھے، ہم ان کا نام فراز فرض کر لیتے ہیں، انہوں نے صرف قرآن پاک حفظ کیا ہوا تھا اور بقیہ تعلیم اسکول اور کالج سے حاصل کی۔ کبھی کبھار وہ ملنے آتے اور اپنے قصے کہانیاں سناتے۔ لڑکپن کی عمر اوپر سے والدین کا لاڈ پیار، پیسہ اور خوبصورت وجیہ چہرہ، بلا کی ذہانت اور عیار دماغ، گویا خدا نے کوئی کمی نہ چھوڑی۔ مگر موصوف صنف نازک کے چکر میں ہمیشہ رہتے اور اپنی مکاری سے کسی کو بھی رام کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے۔ ان کا بیان تھا کہ ایک لڑکی سے جو ایک عام سے گھرانے سے تھی، دوستی کی بات کی تو اس نے کہا کہ اسلام میں لڑکے اور لڑکی کی دوستی کا کوئی تصور نہیں، مجھے معاف کرنا۔

یہ سن کر میں نے اسے کہا کہ اگر میں قرآن سے ثابت کردوں کہ ایسا کوئی حکم نہیں بلکہ لڑکے اور لڑکی کی دوست ایک مستحسن چیز ہے تو پھر؟ جواباً لڑکی نے کہا کہ پھر تو میں بھی تیار ہوں۔ اب ہماری بھی دلچسپی بڑھ گئی کہ یار یہ کون سی آیت لانے والا ہے؟

ایک لمبی آہ بھرنے کے بعد کہنے لگا، میں نے یہ آیت پڑھی، و المؤمنین والمؤمنات بعضھم اولیاء بعض، اس آیت کا ترجمہ دیکھ کہ مجھے فون کرنا۔ اس کے بعد تو وہ میری دوست بن گئی، کیونکہ اس نےترجمہ دیکھ لیا۔ دین کے احکامات کو توڑ مروڑ کے پیش کرنا یا آیات کو مطلوب مقصد کے لیے بطور دلیل دے کر سادہ لوح لوگوں کے جذبات سے کھیلنا اس طبقے کے لوگوں کو اچھے سے آتا ہے۔

یہ قصہ بیان کرنے کا واحد مقصد یہ ہے کہ جب ذہن کج روی پہ آمادہ ہو، تو دل و دماغ قرآن و حدیث سے مطلب کے ٹکڑے نکال لانے کی قدرت دیتا ہے۔ گمراہی کی راہوں کا ایسا عادی بناتا ہے کہ حق اور واضح ہدایت بھی اسے منافرت سجھاتی ہے، پھر وہ" یضل بہ کثیرا" کا عملی مظہر بن جاتا ہے۔ اپنے آس پاس نظر ڈالیے مطلب پرست و موقع پرست لوگ کسی بھی حد تک جانے کو تیار کھڑے ہیں۔ ان سے خبردار رہیے!