نہلے پہ دہلا - نوید اقبال

زندگی،حسین یادوں کا مرقع ہے۔مختلف اوقات اور مختلف انداز میں پیش آنے والے حالات و واقعات، انسانی زندگی پر گہرا اثر مرتب کرتے ہیں۔ کوئی واقعہ حسین یادوں کی صورت، زندگی کے صفحات پر مرتسم رہتا ہے اور کسی واقعے کی تلخ یادیں، تا حیات انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ کوئی یاد ہمیشہ خون کے آنسو رلاتی ہے اور بعض، چہروں پر مسکراہٹ بکھیر کر دلوں میں خوشی کے جلترنگ بجا جاتی ہیں۔ تلخ وشیریں حالات،واقعات اور یادیں، ٹمٹماتے چراغ کی مانند زندگی کے تاریک راستوں میں روشن رہتے ہیں۔ زندگی کی گھٹن اور حالات کی تلخی سے تنگ آکر انسان جب مایوسی کے گہرے بھنور میں اترنے لگتا ہے تو یہی واقعات خضر راہ بن کے اس کا ہاتھ تھامتے ہیں۔ یہ بھی ایک ایسا ہی واقعہ ہے جس کا انجام آپ کو چونکنے پر مجبور کر دے گا۔

چاند کی مدھم روشنی میں دو سائے آگے پیچھے دوڑتے چلے جا رہے تھے۔ اگلے سائے کی دلخراش چیخوں نے، رات کی خاموشی کے پردے کو چاک کر کے رکھ دیا تھا۔ مدرسہ ایک چھوٹی سی مسجد پر مشتمل تھا ۔جس کی اوپری منزل پر ایک تنگ حجرہ جس میں طالب علموں کا سامان رکھنے کے بعد پانچ یاچھ افراد کے سونے کی جگہ ہی باقی بچتی تھی اور ایک چھوٹا سا صحن تھا جہاں گرمیوں میں طالب علم سونے کی ناکام کوشش کرتے تھے۔ شمالاً جنوباً دو دروازے تھے اور شمالی دروازے کے ساتھ ہی سیڑھیاں اوپری منزل کو جاتی تھیں۔

مدرسہ شہر کے بالکل آخری سرے پر واقع تھا۔اس سے چند گز کے فاصلے پر مین روڈ تھا، جہاں سے ہر وقت گاڑیوں کے گزرنے کا شور سنائی دیتا تھا۔سڑک پار ایک پٹرول پمپ اور چند گھر،اس سرے پر، شہر کی بالکل آخری آبادی تھی جس کے بعد سرسبز کھیتوں یا بے آباد ٹاؤنوں کا سلسلہ دور تک چلا گیا تھا۔

وہ مدرسے میں میرا پہلا دن تھا۔داخلے کے بعد، گھر سے سامان لیکر ظہر کے تنگ وقت میں مدرسے پہنچا تھا۔سامان چونکہ اوپری منزل پر رکھا رہتا تھا،اس وجہ سے میں سیڑھیاں چڑھ کر اوپر ہی چلا گیا۔ویسے بھی کوئی جان پہچان تو تھی نہیں، ماحول اور طالب علم، سب کچھ نیا تھا۔

السلام علیکم!

میں نے سامنے بیٹھے طالب علم کو سلام کیا اور سامان رکھ کر اس کے پاس ہی بیٹھ گیا۔

"وعلیکم السلام!"طالب علم جس کا نام حسان تھا، نے جواب دیا۔

آپ نئے داخل ہوئے ہیں؟پوچھا گیا۔

جی، میں نے مختصر سا جواب دیا۔

ابھی بیٹھے ہی تھے کہ ایک لڑکا(نثار) سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آیا اور ہماری طرف توجہ دیے بغیر اندر چلا گیا۔

" اس میں جن آتے ہیں ۔"

حسان منمنایا۔

میں نے تعجب سے اسے گھور کر دیکھا، لیکن بولا کچھ نہیں۔

ایسی باتوں پر میرا یقین بس اس حد تک ہی تھا کہ "جنات"کا تذکرہ قرآن پاک میں ہے،ایک نہ نظر آنے والی مخلوق ہے اور بس۔اس سے زیادہ باتیں میرے لیے قابل ہضم نہ تھیں۔

اتنی دیر میں عصر کی اذان ہو ئی اور چھٹی ہو گئی۔ نماز سے فارغ ہو کر کھیل کے میدان میں جا نکلے۔

چند دنوں میں، میں ماحول سے کچھ مانوس ہو گیا اور تھوڑی بہت جان پہچان بھی ہو گئی۔اس دوران، حسان کی کہی ہوئی بات ذہن سے نکل چکی تھی۔

مغرب کے بعد بڑی جماعتوں کے لڑکے مطالعہ کرتے، جبکہ ابتدائی جماعت، گردان میں مشغول رہتی۔گردان میں چونکہ شور شرابا ہوتا تھا اس لیے ہم، ابتدائی جماعت والوں کو باہر برآمدے میں بٹھایا جاتا تھا اور مطالعے والے اندر بیٹھتے تھے۔

یہ میرے آنے کے ایک ہفتہ بعد کی بات ہے۔مغرب کے بعد، تمام جماعتیں اپنے اپنے کام میں مشغول تھیں کہ اچانک ایک زوردار چیخ سنائی دی۔پڑھائی رک گئی اور سب "نثار "کو دیکھنے لگے،اس کی آنکھیں سرخ تھیں اور سانسیں تیز، کبھی کبھار پاؤں بھی مارنے لگتاتھا۔ اساتذہ نے کچھ دم وغیرہ کیا تو کچھ دیر بعد،اس کی طبیعت میں بہتری کے آثار محسوس ہوئے۔

اسی ہفتے کے دوران عبداللہ اور زاھد بھی اسی کیفیت کا شکار ہوئے۔ان دونوں کے بارے میں بھی یہی مشہور تھا کہ ان پر بھی" جنات" کا سایہ ہے۔ان باتوں کے بارے میں تو کچھ یقینی اور بے یقینی کی کیفیت رہی البتہ دل میں ڈر ضرور بیٹھ گیا۔

جگہ کی کمی کی وجہ سے مدرسہ کو سڑک کے پار، پٹرول پمپ کے پچھواڑے، واقع ایک بے آباد ٹاؤن منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔جو "شاھین ٹاؤن" کے نام سے مشہور تھا۔

یہ ایک بڑا سا علاقہ تھا، جس کی مغربی جانب تو کھیت اور آموں کا ایک بڑا باغ تھا اور مشرقی طرف ایک اجڑا پجڑا گودام اور پھر ایک لنک روڈ ۔جنوبی سمت، کافی فاصلے پر ایک بھوت بنگلہ نما مکان تھا اور اس کے بعد ریت کے ٹیلے تھے۔

اس ٹاؤن کی واحد آبادی، اللہ دتہ،اس کے بیوی بچے اور بوڑھا باپ تھا جو پانی کی ٹنکی کے نیچے ایک جھونپڑی نما مکان میں رہتے تھے۔یہ جگہ ان کی ذاتی نہیں تھی بلکہ ویسے ہی جگہ خالی دیکھ کر وہاں رہائش رکھی ہوئی تھی۔اللہ دتہ کا باپ "سکہ بند عشاق"کی جماعت میں سے تھا اور مدرسہ بننے کے بعد، اکثر فجر کی نماز منفرد پڑھ کر جلانے کی غرض سے، با آواز بلند........پڑھ کر اپنے عشق کا اظہار کیا کرتا تھا ۔

اسی پانی کی ٹنکی کے نزدیک ہی مسجد کے لیے مختص جگہ میں مدرسہ کی تعمیر ہوئی۔طالب علموں نے بھی حسب توفیق اس کی تعمیر میں حصہ لیا۔مکمل ہو جانے پر سب یہاں پر منتقل ہو گئے۔یہ جگہ کھلی بھی تھی اور پر سکون بھی۔ دن میں بھی یہاں سناٹا نما خاموشی رہتی تھی۔

نیا تعمیر شدہ مدرسہ ایک بڑے ہال پر مشتمل تھا،ہال کی دیواروں کے ساتھ ہی سامان رکھنے کے لیے بانسوں سے ریک بنائے گئے تھے۔ہال کے سامنے صحن میں وضو خانہ،غسل خانے اور بیت الخلاء تھے۔صحن کی جنوبی دیوار کے ایک کونے میں تندور اور دوسرے کونے میں خالی جگہ چھوڑ دی گئ تھی،جہاں گیٹ لگانے کا ارادہ تھا۔آمدورفت کا یہی واحد راستہ تھا۔

مدرسے کے ایک طرف تو اللہ دتہ کا گھر تھا اور باقی اطراف میں خالی پلاٹ تھے گویا اخپل بادشاہی۔گرمیوں کے لیے،ایک پلاٹ کو تو نماز اور کھانے کے لیے اور ایک کو لائٹیں لگا کر،مطالعے اور رات کو سونے کے لیے صاف کر لیا گیا جبکہ سردیوں میں یہ تمام کام،ہال کے اندر ہی انجام پاتے تھے۔

یہاں پر آنے کے بعد کچھ عرصہ تو سکون رہا، لیکن پھر دوبارہ سے دوروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔نہ صرف پہلے والے افراد بلکہ ان کے ساتھ دو لڑکوں اقبال اور عمر کو بھی دورے پڑنا شروع ہو گئے اور ترتیب کچھ ایسی بنی کہ روز ہی، متاثرہ لڑکوں میں سےایک دو کو دورہ پڑنے لگ گئے ۔اس سے، ایسا خوف بیٹھا کہ رات تو رات دن میں بھی لڑکے ڈرنے لگ گئے۔

اساتذہ کی طرف سے، حفاظت کے پیش نظر اور سنت کی نیت سے بھی، پہرے کی ترتیب بنائی گئی۔چھ جماعتیں اور ہر جماعت میں امیر سمیت چھ افراد تھے۔ایک ایک گھنٹہ پہرے کی باری تھی۔ اتفاقا ایک جماعت کا امیر، میں تھا۔میری جماعت میں میرے علاوہ قاسم، عبدالھادی، عبدالباسط، رفیع اللہ اور طفیل تھے۔ہمارے پہرے کا وقت رات بارہ بجے سے ایک بجے تک تھا۔ ذرا چشم تصور سے دیکھیے، جناتی دوروں سے خوفزدہ افراد،سردیوں کی رات کے بارہ بجے کا وقت،جگہ ایسی سنسان کہ جہاں دن میں بھی ہو کا عالم رہتا ہو۔

رات بارہ بجے کا عمل تھا،جب عزیز الرحمان نے مجھے پہرے کے لیے اٹھایا۔"دو آدمی باہر کے دروازے پر بھی کھڑے کرنے ہیں"،استا د جی نے فرمایا ہے۔اس نے مجھے اطلاع دی۔

شدید سردی، ہو کا عالم اور ابتدائی راتوں کےچاند کی مدھم روشنی ، دور کہیں سے کتوں کے بھونکنے کی آواز ماحول کو مزید خوفناک بنا رہی تھی۔ عبدالباسط پہلے ہی اٹھ کر، دروازےکے بائیں طرف والے پلاٹ میں تہجد پڑھ رہا تھا۔میں نے اٹھ کر وضو کیا اور اپنے باقی ساتھیوں کو بیدار کیا۔ عبدالھادی اور قاسم کو میں نے باہر کے دروازے پر کھڑا کیا۔

یہ کون ہے؟قاسم نے ڈری ڈری آواز میں تہجد پڑھتے عبدالباسط کی طرف اشارہ کر کے پوچھا۔"عبدالباسط تہجد پڑھ رہا ہے"میں نے جواب دیا۔

ان کو باہر کھڑا کر کے میں اندر کا جائزہ لینے کے لیے، ہال کے دروازے پر ہی پہنچا تھا کہ اچانک تیز چیخ کی آواز سنائی دی۔میں نے مڑ کر دیکھا تو قاسم اپنے دونوں ہاتھ کانوں پر رکھے چیختا ہوا بھاگا چلا آرہا تھا اور عبدالھادی اس کے پیچھے بھاگتا ہوا پوچھ رہا تھا،کیا ہوا؟

چیخوں کی آواز سن کر سارے لڑکے جاگ گئے۔جاگنے والوں میں سے بھی بعض نے ڈرکر" اللہ اکبر"کے نعرے لگا کر ماحول کو مزید سنگین بنا دیا۔

میں جلدی سے بھاگ کر قاسم کے پاس پہنچا تو وہ کہنے لگا:امیر صاحب!اس نے(عبدالھادی) نے مجھے ڈرا دیا۔میں حیرانی سے اس کا منہ تکنے لگا۔ جب تفصیل پوچھی تو معلوم ہوا کہ دونوں ہی باہر کے ماحول سے خوفزدہ تھے۔جب میں ان کو چھوڑ کر اندر آیا تو قاسم نے عبدالھادی سے کہا کہ میں اندر سے چادر لیکر آتا ہوں۔عبدالھادی اس کی بات سمجھ نہ سکا، اس دوران قاسم پیٹھ موڑ کر اندر کا رخ کر چکا تھا ۔

عبدالھادی نے اس کو متوجہ کرنے کے لیے اپنے ہاتھ اس کے کندھوں پر رکھ دیے تاکہ دوبارہ پوچھ سکے کہ وہ اس کو اکیلا چھوڑ کر کہاں جا رہا ہے۔ مدرسے میں پیش آنے والے روز کے واقعات سے جنات کا خوف پہلے ہی دلوں میں بیٹھا ہوا تھا۔قاسم یہ سمجھ کر کہ شاید عبدالھادی پر بھی دورہ پڑ ا ہے، خوف کے مارے دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ کر چیخ مارتے ہوئےدوڑ پڑا۔اور عبدالھادی بھی ڈر کر دوڑا کہ شاید قاسم پر آج حملہ ہو گیا۔

جاگ تو سب گئے ہی تھے۔حقیقت حال معلوم ہونے پر سب خوب ہنسے اور کئی دن تک یہ واقعہ ہنسی مذاق کا ذریعہ بنا رہا۔آج بھی جب یہ واقعہ یادآتاہے تو ہنسی روکے نہیں رکتی۔