ایک جرأت مندانہ فیصلہ اگر ہو جائے - پروفیسر جمیل چودھری

جو کچھ ہونا تھا وہ تو ہوگیا۔ اس ہونے میں"دولت" ہی ذریعہ بنی، باقی کہانیاں ہیں۔ محترم میاں صاحب! آپ نے صوبائی سطح سے لیکر مرکزی سطح تک اقتدار کے مزے لیے۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ اقتدار تمام عمر کے لیے نہیں ہوتا۔ مغرب میں تو دو ادوار سے زیادہ اقتدار کا تصور ہی نہیں۔ بادشاہوں کے زمانے گزرے تو صدیاں بیت گئیں۔ مشرق وسطیٰ میں بھی باپ یا بھائی کے مرنے کا انتظار ہوتا ہے اور ہر ایک کے لیے اقتدار کا عرصہ مختصر رہ جاتا ہے۔ آپ تو پھر1980ء سے لیکر2017ء تک مختلف حیثیتوں میں مقتدر رہے۔ 7سالہ جلاوطنی کو بھی اقتدار میں شامل ہی سمجھنا چاہیے کہ وہاں بھی سرور محل کے ٹھاٹ باٹھ تھے۔

اب آتے ہیں مدّعے کی طرف۔ میں بحیثیت ایک استاد آپ کو مشورہ دیتا ہوں کہ آپ کسی بھی حیثیت کے اقتدار کو آئندہ بھول جائیں۔ جس دولت نے آپ کو بالآخر خراب کیا اور اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑا، اس کو آپ نارمل حالت میں تبدیل کرلیں۔ ابھی تک کسی کو بھی صحیح نہیں معلوم کہ آپ کی اولاد نے کن کن ملکوں میں اثاثے بنائے ہوئے ہیں؟ کہاں کہاں محلات ہیں؟ ابھی تو صرف لندن کے فلیٹس کا پتہ چلا ہے۔ کہاں کہاں آف شور کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں؟ ابھی یہ وضاحت نیب کے دفاتر میں ہوگی۔ ایک استاد جس نے دنیا کے مقتدر لوگوں کی تاریخ پڑھی ہے، جس نے مشکل اور آسان اوقات کو تفصیل سے دیکھا ہے، دولت مند لوگوں کا انجام بھی ذہن میں رہتا ہے، عمر کا بڑا حصہ اکنامکس پڑھنے اور پڑھانے میں صرف کیا ہے کہ جس میں ذکر دولت کا ہی ہوتا ہے۔ میرا آپ کو مخلصانہ مشورہ یہ ہے کہ آپ اپنے صاحبزادوں کو یہ مشورہ دیں کہ اپنے تمام غیرملکی اثاثے مناسب عرصے میں فروخت کردیں اور تمام دولت اپنے ملک میں لے آئیں۔ جونہی یہ کام کرنے کا آپ اعلان کریں گے۔ آپ کی اخلاقی حیثیت بلندیوں تک چلی جائے گی۔ آخر 30سال پہلے بھی آپ لوگوں کے تمام کاروبار ملک کے اندر ہی تھے نا؟ اپنے والد صاحب کے ساتھ آپ خود بھی ان کی دیکھ بھال کیا کرتے تھے۔ آپ کے دوسرے عزیزواقارب بھی ہاتھ بٹاتے تھے۔ کچھ عرصہ پیشتر آپ کے اثاثوں کی مالیت1.6 ارب ڈالر بتائی جاتی تھی۔ ملکی امراء کی رینکنگ میں آپ کو تیسرے یا چوتھے نمبر پر رکھا جاتا تھا۔ اب یہ غیر ملکی اثاثے فروخت ہونے کے بعد جب پاکستانی صنعتوں اور کاروبار میں لگیں گے تو آپ کو خود ہی اندازہ ہو گا کہ اس کا ملکی معیشت کو کتنا بڑا فائدہ ہوگا۔ آخر آپ کے چھوٹے بھائی محترم شہباز شریف کے تمام کاروبار بھی تو ملک کے اندر ہی ہیں اور انہیں ان کے بیٹے اچھے طریقے سے دیکھتے ہیں اور کاروبار میں وہ کامیاب بھی ہیں۔

جب آپ اپنے اثاثے پاکستان کے اندر منتقل کرنے کا اعلان کریں گے اور پھر منتقلی کا عمل شروع ہوجائے گا۔ تو میرے نزدیک پاکستانی معیشت میں ایک بڑا بریک تھرو ہوگا۔ لوگ عدالت پر دباؤ ڈالیں گے، نیب کو کہیں گے کہ پانامہ پیپرز میں جن جن لوگوں کے نام آئے ہیں ان کے کیسز پر بھی توجہ دی جائے اور ان کو مجبور کیاجائے کہ پاکستان کی لوٹی ہوئی دولت کو ملک کے اندر لائیں۔ گزشتہ30 سالوں میں پاکستان کے کھربوں ڈالر ملک کے حالات کی خرابی سے باہر منتقل ہوئے، یہ جائز طریقے سے بھی گئے اور ناجائز طریقے سے بھی گئے۔ منی لانڈرنگ ہوئی اور نقد روپیہ کشتیوں اور ہوائی جہازوں کے ذریعے بھی قریبی ممالک میں لے جایا گیا۔ خود وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں بتایا تھا کہ200 ارب ڈالر پاکستانیوں کے سوئس بنکوں میں چھپائے گئے ہیں۔ سوئٹزر لینڈ کے ایک سابق بنکر اور وزیر نے خود بھی97 ارب ڈالر کی پاکستانی خفیہ رقم کو تسلیم کیاتھا۔ 200 ارب ڈالر کی پاکستانی خفیہ رقم کو ایک اور سوئس وزیر نے بھی تسلیم کرلیاتھا۔ اب سوئس حکومت بات چیت پر راضی بھی ہوگئی ہے۔ ان کی حکومت اور بنکوں کے صدور پر یورپی یونین اور امریکہ کا شدید دباؤ ہے۔ ٹیکس بچانے کے لیے دنیا کے امیر ترین لوگ اپنی رقومات کو سوئٹزر لینڈ کے11 بڑے بنکوں میں چھپاتے ہیں۔ یوں یہاں کی مقامی حکومت کو اس کا بے شمار فائدہ ہوتا ہے۔ یہی رقم سوئٹزر لینڈ کی معیشت کوچلاتی ہے۔ یہاں کی 71 فیصد لیبر فورس صرف ایسے ہی مالیاتی کاموں میں مصروف رہتی ہے۔ یہاں 7 ٹریلین ڈالر چھپے ہوئے ہیں۔ باقی Tax havens میں32 ٹریلین ڈالر خفیہ موجود ہیں۔ یہ دھندا چین سمیت دنیا کے تمام امیر ممالک کے لوگ کررہے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ سے یہ خفیہ رقم اب دوسرے ممالک کو منتقل ہونی شروع ہوچکی ہے۔ حکومت پاکستان کو اپنے200 ارب ڈالر واپس لانے کے لیے جلد از جلد کوشش کرنی چاہیے۔ یہ کام عدالت عالیہ، انتظامیہ اور فوج جیسے طاقتوراداروں کو ملکر کرنا چاہیے۔ تمام طاقتور ادارے ملکر ایسا سسٹم بنائیں کہ سوئٹزر لینڈ اور دیگر Tax havens سے رقوم واپس لائیں اور رقومات باہر لے جانے پر پابندی لگا دی جائے۔ سوائے ضروری کام کرنے والوں کے کسی کو بھی زرمبادلہ جاری نہ کیا جائے۔

یہ کام کرنے سے ہمیں دو مالی فوائد فوری طورپر ہوں گے، ایک غیر ملکی قرض جو اس وقت 60 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے، وہ ہم اس واپس لائی ہوئی رقم سے فوراً اداکرسکیں گے، معیشت پر دباؤ فوراً ختم ہوجائے گا۔ 70 سال کے بعد ہماری جی ڈی پی اب آکر300 ارب ڈالر ہوئی ہے۔ خفیہ طورپر باہر رکھی ہوئی دولت کے واپس آنے سے اس جی ڈی پی میں تیزی سے اضافہ ہونا شروع ہوجائے گا۔ ہمیں آئی ایم ایف اور عالمی بنک کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ہمارے ملک کی معیشت اب عالمی رینکنگ میں46 ویں نمبر پر شمار ہوتی ہے۔ اگر ہماری تمام غیر ممالک میں چھپی ہوئی دولت واپس آجائے تو ہماری رینکنگ فوراً اوپر کی طرف جانا شروع کرہوجائے گی۔ منی لانڈرنگ اس وقت کافی کم ہوگئی تھی جب ایک بڑی فاریکس کمپنی کے دونوں مالک جاوید کالیا اور مناف کالیا پکڑے گئے تھے۔ تب تمام سیاستدان، ریٹائرڈ جرنیل اور کاروباری لوگ اسی کمپنی سے اپنی رقومات باہربھیجتے تھے۔ ان میں سے ایک مالک نے اونچی بلڈنگ سے چھلانگ لگا کر خودکشی بھی کرلی تھی۔ یہ لوگ اپنے35 سرور کمپیوٹر اور400 ملکی برانچوں کے ذریعے ملکی دولت کو باہر منتقل کرنے میں ہروقت مصروف رہتے تھے۔ انہو ں نے اپنے سوفٹ وئیر بنائے ہوئے تھے۔

امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق پاکستان سے اب بھی 10 ارب ڈالر باہر منتقل ہوتے ہیں۔ منتقلی کے تمام راستے بند کرنا ضروری ہیں۔ موقع پر پکڑے جانے والوں کو گولی سے اڑا دینے سے ہی اس گندے کام کو لوگ چھوڑیں گے۔ قانون میں ترمیم ضروری ہے۔ بات تو نواز شریف کو مشورہ دینے سے شروع ہوئی تھی۔ لیکن دولت کے باہر منتقلی کا دھندا ایسا کام ہے کہ ذکر پوری دنیا تک پھیل جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ دنیا میں Tax havens کو ختم کرائے۔ دنیا کے تمام ممالک کے امیر لوگ یہ کام کرتے ہیں۔ لیکن محترم نواز شریف صاحب آپ نے اپنے بیٹوں کو باہر شاید اس لیے بھیجا کہ میں یہاں سیاست کروں گا، وہ باہر جاکر کاروبار کریں۔ انہوں نے کاروبار کیا بھی لیکن اسی کاروباری دولت نے نوازشریف کو بلندیوں سے نیچے گرا کر ذلیل وخوار کیا۔ جناب! آپ نے اقتدار کا ایک لمبا عرصہ گزار لیا، اب آپ آئندہ پرسکون زندگی گزارنے کا پروگرام بنائیں، تمام اثاثے اپنے ملک میں منتقل کرلیں۔ اس سے نیب میں چلنے والے کیسز میں بھی آپ کو آسانیاں مل سکتی ہیں۔ دولت یہاں منتقلی کے بعد پاکستانی خزانے کو اس دولت پر ٹیکس ملیں گے۔ دولت کاروبار میں لگے گی تولوگوں کو روزگار ملے گا۔ یہ جرات مندانہ کام کرنے سے باقی لوگوں کے ضمیر بھی جاگیں گے۔ ہوسکتا ہے اسحاق ڈار اور آصف زرداری جیسے لوگ بھی اپنی دولت کو ملک میں منتقل کرلیں۔ پانامہ میں جن 500 مزید پاکستانی افراد کے نام ہیں ان کے بارے بھی پوچھ گچھ شروع ہو۔ عدالت عظمیٰ کی توجہ صرف ایک خاندان کی طرف نہیں رہنی چاہیے۔ محترم امیر جماعت اسلامی سراج الحق کو اب آگے بڑھنا چاہیے۔ سپریم کورٹ کو کہاجائے کہ تمام باقی ماندہ لوگوں کی بھی تفتیش کی جائے۔ اگرکوئی دولت مند شخص دولت واپس لانے کے لیے تیار نہیں ہوتا تو قانون کے مطابق انہیں سزائیں سنائی جائیں۔ ان کی اور ان کے خاندان کی شہریت تمام عمر کے لیے ختم کردی جائے۔ پورے شریف خاندان کی عزت واحترام کی بحالی اب صرف اور صرف غیر ملکی اثاثے ملک کے اندر لانے سے ہی بحال ہوسکتی ہے۔ عین وقت پر جرات مندانہ فیصلے ہی انسان کو نیچے سے بلندیوں تک لے جاتے ہیں۔ اگر آپ اس واپس لائی ہوئی دولت کے ایک بڑے حصے کو فلاحی کاموں پر صرف کرنا شروع کردیں جیسے تعلیمی معیار بلند کرنا تو آپ اسی دنیا میں جنت کے مزے لیں گے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */