کیا چیونٹی ہاتھی کی سونڈ میں داخل ہونے کو تیار ہے؟ - مسرور احمد

شمالی کوریا بحرالکاہل میں امریکی جزیرے گوام پر میزائل حملے کی دھمکیاں دے رہا ہے اور اس پس منظر میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان امریکی رویّوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ پیانگ یانگ اور واشنگٹن کے مابین شمالی کوریا کے متنازع جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے حالیہ دنوں میں ایک بار پھر الفاظ کی جنگ میں شدت دیکھنے میں آئی ہے جبکہ پچھلے ہفتے شمالی کوریا نے کہا تھا کہ وہ اگست کے وسط تک بحرالکاہل میں امریکی جزیرے گوام کے قریب چار میزائلوں کو داغنے کے قابل ہوجائے گا۔ شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنے جوہری ہتھیار شمالی کوریا کے قریب لے آیا ہے اور اگر وہ یہ ہتھیار نہیں ہٹاتا تودونوں ملکوں میں عسکری تصادم ناگزیر ہو جائے گا۔ دوسری طرف امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس نے خبردار کیا ہے کہ شمالی کوریا کا کوئی بھی اشتعال انگیز اقدام دونوں ملکوں کے درمیان مکمل جنگ میں بدل سکتا ہے۔ اس صورتحال میں شمالی کوریا کے پڑوسی جنوبی کوریا نے امریکہ پر زور دیا ہےکہ وہ اس بڑھتے ہوئےتنازع کو سفارتی طور پر حل کرنے کی کوشش کرے۔ شمالی کوریا کا روایتی ساتھی چین بھی دونوں ملکوں کو ضبط سے کام لینے کی تلقین کر رہا ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ فریقوں کو ایسے الفاظ اور افعال کو فوری طور پر بند کر دینا چاہئے جس سے حالات مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہو۔

شمالی کوریا اور امریکہ کے تعلقات 53- 1950میں ہونے والی کوریا کی جنگ کے وقت سے خراب ہیں جب شمالی کوریا نے جنوبی کوریا پر حملہ کیا اور اس موقع پر امریکہ نے جنوبی کوریا کی مدد کی جبکہ چین اور روس نے شمالی کوریا کی حمایت کی۔ تاریخی اعتبار سے شمالی کوریا کمیونسٹوں جبکہ جنوبی کوریا سرمایہ دارانہ نظام کے حامی امریکا اور مغربی ممالک کے زیر اثر رہا ہے۔ شمالی کوریا اور جنوبی کوریامیں ایک ہی نسل، ثقافت اورعقائد کو ماننے والے لوگ رہتے ہیں لیکن گزشتہ کئی دہائیوں سے سیاست نے دونوں ملکوں کو نہ صرف تقسیم کر رکھاہے بلکہ بہت سے انسانی المیوں کو بھی جنم دیا ہے کیونکہ منقسم خاندان دونوں طرف آباد ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کا حامی ہونے کی وجہ سے جنوبی کوریا کو امریکہ اوردیگر مغربی ممالک سے وسیع امداد، سرمایہ کاری اور دیگر معاشی فوائد حاصل ہوئے جس سے جنوبی کوریا نے اپنی معیشت کو نہ صرف ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر استوار کیابلکہ اپنی عوام کا معیار زندگی بھی بلند کیا جبکہ دوسری طرف انتہا پسندانہ اور غیر لچکدار رویوں کی بدولت شمالی کوریا بین الاقوامی تنہائی اور پابندیوں کا شکار چلا آرہا ہے۔ 1910سے لے کر دوسری جنگ عظیم کے خاتمے تک کوریا پر جاپان کا تسلط رہا، جب اگست 1945میں روس نے جاپان پر حملہ کر دیا اور امریکہ کے ساتھ ایک معاہدے کے نتیجے میں شمالی کوریا کو آزاد کرا لیا جبکہ جنوبی کوریا امریکہ کے زیر تسلط آگیا یوں ایک ہی قوم اور خطے کے لوگوں کا اتحاد عالمی سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا۔

جس طرح پاکستان کی بیس کروڑ عوام کو بھارت، امریکہ اور کسی دور میں روس کےخوف کو بنیاد بنا کر ملک کو سیکیورٹی سٹیٹ میں تبدیل کر دیا گیا ویسے ہی شمالی کوریا کی حکمران اشرافیہ نے اپنے ملک کی اڑھائی کروڑ عوام کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور وہ تعلیم، صحت اور صاف پانی جیسی بنیادی ضروریات سے پاکستانی عوام کی طرح محروم ہیں

شمالی کوریا کی امریکہ مخالف پالیسیوں اور اس کی میزائل و ایٹمی صلاحیت کے باعث سابق امریکی صدرجارج بش نے اس ریاست کو لیبیا، افغانستان، ایران اور عراق کے ساتھ برائی کا محور(axis of evil) قرار دیا تھا۔ امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان روایتی سفارتی روابط نہیں ہیں اور ضرورت پڑنے پر شمالی کوریا میں سوئیڈن کے سفارت خانے کے ذریعے امریکی اپنے معاملات چلاتے ہیں کیونکہ امریکی جنوبی کوریا کو ہی پورے کوریا کا نمائندہ تسلیم کرتے ہیں جس پر شمالی کوریاکو اعتراض ہے۔ جبکہ امریکی فوجیں کوریا کی جنگ کے بعد سے آج تک جنوبی کوریا میں موجود ہیں جو دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

سال 2015میں ہونے والے گیلپ کے سالانہ عالمی سروے کے مطابق صرف نو فیصد امریکی شمالی کوریا کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں جبکہ بی بی سی ورلڈ پول کے ایک سروے کے مطابق صرف چار فیصد امریکی شمالی کوریا کے امریکہ مخالف اقدامات کے حامی ہیں جبکہ چھیانوے فیصد امریکی شمالی کوریا کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں جوکسی بھی ملک کے بارے میں شرح کے اعتبار سےدنیا بھرمیں سب سے زیادہ منفی رائے ہے۔ شمالی کورین عوام کی رائے بھی امریکہ کے بارے میں اتنی ہی منفی ہے۔ انجلینا جولی کی فلم 'سالٹ' اور ہالی ووڈ کی دیگر بہت سی فلموں میں شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔

شمالی کوریا کی آبادی اڑھائی کروڑ ہے جبکہ یہ ایک لاکھ بیس ہزار پانچ سو چالیس مربع کلو میٹر پرپھیلا ہوا چھوٹا سا ملک ہے جہاں ایک ہی پارٹی کی آمرانہ حکومت چلی آرہی ہے۔ اپنی جنگی ترجیحات کی وجہ سے یہ ایک انتہائی غریب ملک ہے جہاں فی کس سالانہ آمدنی محض ہزار ڈالر سالانہ سے بھی کم ہےجبکہ جنوبی کوریائی باشندوں کی فی کس سالانہ آمدنی تیس ہزار ڈالرہے۔ دوسری طرف جنوبی کوریا چھوٹا سا ملک اور محدود وسائل ہونے کے باوجود دنیا کی گیارھویں بڑی معیشت ہے اور اس کی 1500سو ارب ڈالر سے زائد کی جی ڈی پی کے مقابلے میں شمالی کوریا کی جی ڈی پی محض پچیس بلین ڈالرہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق دنیا میں انسانی حقوق کی سب سے زیادہ خلاف ورزیاں شمالی کوریا میں ہوتی ہیں۔ شمالی کوریا کی ساری آبادی ریاست اور برسراقتدار پارٹی کے سخت کنٹرول میں ہے۔ روزگار کا حصول سیاسی وابستگی سےمشروط ہے جبکہ شمالی کوریا کے شہری اپنی حکومت کی پیشگی اجازت کے بغیر دیگر ممالک میں آزادانہ سفر نہیں کر سکتے۔ یہ چھوٹا سا ملک 80انفنٹری ڈویژنز پر مشتمل بارہ لاکھ فوج رکھتا ہے۔ شمالی کوریا کے پاس تیس آرٹلری بریگیڈ، پچیس سپیشل جنگی بریگیڈ ہیں، بیس سریع الحرکت بریگیڈ، دس ٹینک بریگیڈ جبکہ سات ٹینک رجمنٹ ہیں۔ اسلحہ گولہ بارود اور میزائلوں کی بہتات کے باعث کہا جاسکتا ہے کہ اس ملک کے شہری بارود کے ڈھیر پر بیٹھے ہیں۔

شمالی کوریا کے پاس دنیا کی سب سے بڑی سپیشل فورس اور سب میرین پر مشتمل سب سے بڑا جنگی بحری بیڑہ ہے۔ وسیع روایتی جنگی ہتھیاروں کے علاوہ یہ ایٹمی صلاحیت بھی رکھتا ہے اور بعض رپورٹوں کے مطابق شمالی کوریا کے پاس دس پلاٹونیم وار ہیڈز موجود ہیں۔ میزائل ٹیکنالوجی میں شمالی کوریا نے بے مثال کامیابیاں حاصل کی ہیں اور کہا جاتا رہا ہے کہ پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی بھی شمالی کوریا کی مرہون منت ہے۔ شمالی کوریا کے پاس گیارہ ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل موجود ہیں اور امریکہ و یورپ اس کے نشانے پر ہیں۔ اس ریاست کے پاس کیمیائی اور بائیولوجیکل ہتھیار بھی وافر مقدار میں موجود ہیں۔

سوال یہ ہے کہ آیا اپنی عوام کی کسمپرسی اور غربت کی قیمت پر جنگی جنون کو ہوا دینا درست عمل ہے ؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ شمالی کوریا کی اشرافیہ کا مفاد اس جنگی جنون کو قائم رکھنے میں ہے۔ پاکستان اور شمالی کوریا کے طبقہ اشرافیہ اور فوجی جنتا میں یہ ایک قدر مشترک قرار دی جاسکتی ہے۔ جس طرح پاکستان کی بیس کروڑ عوام کو بھارت، امریکہ اور کسی دور میں روس کےخوف کو بنیاد بنا کر ملک کو سیکیورٹی سٹیٹ میں تبدیل کر دیا گیا ویسے ہی وہاں کی حکمران اشرافیہ نے اپنے ملک کی اڑھائی کروڑ عوام کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور وہ تعلیم، صحت اور صاف پانی جیسی بنیادی ضروریات سے پاکستانی عوام کی طرح محروم ہیں۔ جنوبی کوریا اور امریکہ کو شمالی کوریا میں ایک خوف بنا کر پیش کیا جاتا ہےا ور اس کی آڑ میں شروع سے ہی ایک ہی خاندان اور پارٹی کی حکومت عوام پر مسلط ہے۔ 'تہذیبوں کا تصادم' نامی مشہور کتاب کے مصنف سیموئل پی ایس ہنگٹن نے لکھا تھا کہ امریکہ کبھی کسی ایٹمی قوت کے حامل ملک پر براہ راست حملہ نہیں کر سکتا، البتہ اس ملک کو کئی دیگر طریقوں سے نقصان پہنچا سکتا ہے۔ شمالی کوریا کی ایٹمی اور بیلسٹک میزائلوں کی صلاحیت خاص طور پرامریکہ، یورپ جنوبی کوریا اور جاپان کے لیے درد سر بنی ہوئی ہے۔ وگرنہ شائد بہت پہلےشمالی کوریا کو تابع کیا جاچکا ہوتا۔

دیکھنا یہ ہے کہ واقعی چیونٹی ہاتھی کی سونڈ میں داخل ہو نے کو تیار ہے یا یہ شمالی کورین رہنماؤں کی اپنی عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کی ایک نئی چال اور سیاسی بڑھک ہے۔ شمالی کوریا کے صدر کم جونگ اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں سخت گیر اور غیر متوازن و جذباتی شخصیات ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ شمالی کوریا یا امریکہ کی طرف سے شروع کی گئی کوئی بھی مہم جوئی عالمی امن کو شدید خطرات سے دوچار کر دے گی۔ اگر صورتحال خرابی کی طرف بڑھی تو شمالی کوریا سے زیادہ امریکہ پر اسکی ذمہ داری عائد ہو گی کیونکہ بین الاقوامی چودھری ہونے کے ناطے عالمی معاملات میں توازن برقرار رکھنا اس کے فرائض میں شامل ہے۔ ایک بات طے ہے امریکا جیسا ہاتھی اس چیونٹی سے بری طرح خائف ہے کیونکہ بہرحال شمالی کوریا نہ صرف اندرونی طور پر مضبوط ہے بلکہ زبردست دفاعی قوت بھی ہے اس لئے لیبیا، شام، افغانستان، عراق اور ایران کے برعکس یہ امریکہ کے لیے لوہے کا چنا ثابت ہو گا۔