بھجنگا … سو لفظوں کی کہانی- مبشر علی زیدی

مجھے اس ملنگ کی شکل سے نفرت تھی۔
کالا بھجنگ، لال آنکھیں، الجھے ہوئے بال۔
میں مغرب کے بعد دفتر سے نکلتا تھا۔
وہ بس اسٹاپ پر نظر آتا۔
میں دوسرے بھکاریوں کو کچھ نہ کچھ دے دیتا،
بھجنگے کو دیکھ کر منہ بناتا،
کبھی ڈانٹ بھی دیتا۔
بس آتی تو سوار ہو جاتا۔
ایک شام اسٹاپ پر آیا۔
جیب میں ہاتھ ڈالا تو دھک سے رہ گیا۔
بٹوہ غائب تھا۔
کئی بسیں آئیں اور گئیں۔
میں سوچتا رہا، کرائے کے بغیر سفر کیسے کروں۔
پھر وہ بھجنگا میرے پاس آیا۔
ایک نوٹ میرے ہاتھ میں دبا کے چلا گیا۔