"یہ وطن ہمارا ہے" - خدیجہ افضل مبشرہ

"بچنا اے حسینو۔۔۔ لو میں آ گیا !"

وہ پورے جوش و خروش سے گلا اور ہاتھ چلا رہا تھا۔

"طیب! طیب بیٹا! مجھے بازار سے کچھ سامان تو لا دو "

گا گا کر بائیک لشکاتے طیب کے کانوں میں امی کی آواز پڑتے ہی وہ جھنجھلا گیا۔

"افوہ، امّی! آپ ابو کہ میسج کر دیں نا۔۔ وہ آتے ہوئے لے آئیں گے " طیب نے گائیکی ادھوری چھوڑ کر بائیک رگڑتے ہوئے جواب دیا۔

" تمہارے ابو کے آنے تک کھانا تیار کرنا ہے مجھے۔۔ جلدی سے لادو میرا بیٹا !" امی نے اسے پچکارا۔

"بھیا! بازار جا رہے ہو تو میرے لیے سبز اور سفید چوڑیاں بھی لے آنا پلیز " طیب کے بازار جانے کا سن کر اندر سے نتاشہ بی بی بھی اپنی فرمائشی لسٹ کے ساتھ آ برآمد ہوئیں۔

" کوئی نہیں جا رہا میں بازار وازار۔۔ جب دیکھو کبھی دہی لا دو، دھنیا لادو، یہ لادو وہ لادو۔۔۔ اور تم۔۔ تم تو سموسے، قلفی سے نکلتی ہو تو چوڑیوں اور ڈائجسٹوں میں آ گرتی ہو " طیب نے بدتمیزی سے کہتے ہوئے پہلے امی اور پھر نتاشہ کے گزشتہ فرمائشی پروگرام کے حساب سے اپنی چڑ چڑاہٹ کا اظہار کیا۔

" فارغ ہی تو ہو، ماں کا ذرا سا کام کر دو گے تو کیا ہو جائے گا؟ میں بھی تو سارا دن تم سب کے لیے لگی رہتی ہوں " امی نے حسب معمول جذباتیت کا شاندار مظاہرہ کیا جو حسب معمول کارگر بھی ثابت ہو گیا۔

"اچھا اب زیادہ سینٹی مت ہوں لسٹ بنا کر دیں سامان کی " طیب نے بیزاری سے کہتے ہوئے ہاتھ میں پکڑا کپڑا ایک طرف پھینکا۔

برآمدے میں تخت پر بیٹھے دادا جان نے اس منظر کو بغور دیکھا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ یہ سب تیاری یوم آزادی کے سلسلے میں کی جا رہی تھی۔

"بھائی میری چوڑیاں بھی لے آؤ گے نا پلیز ؟ میری سب فرینڈز نے چودہ اگست کے لیے گرین اینڈ وائٹ ڈریس کے ساتھ میچنگ کی چوڑیاں لی ہیں۔ میرے پاس نہیں ہیں بس " نتاشہ نے بھی امی والا حربہ استعمال کرتے ہوئے بھائی کے برادرانہ جذبات بیدار کرنے چاہے۔

" جو مرضی پہن لو تم اور تمہاری وہ چوچی دوستیں، لگو گی تم سب پھر بھی سرکس کی بندریاں ہی " طیب نے امی کے سامنے جو غصہ دبایا تھا وہ نتاشہ پر نکالا۔

نتاشہ کے اندر کی جنگلی بلی جاگی تو فورا ہی مگر اس نے اسے ڈانٹ کر سلا دیا کیونکہ اس نازک وقت میں یہ اشتعال انگیزی مہنگی بھی پڑ سکتی تھی۔ طیب صاف انکار کر دیتا تو وہ کیا کرتی پھر؟ کل چودہ اگست تھی اور اس کے پاس بالکل بھی وقت نہیں تھا کہ وہ خود جا کر لے آتی۔ سو اس وقت طیب کی منت سماجت اور خوشامد کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔

" بھائی بائیک تو خوب چمکائی ہے۔ ایک دم شہزادی لگ رہی ہے " نتاشہ جانتی تھی کہ طیب کو خوش کرنا ہو تو اس کی بائیک کی مدح سرائی کرنی شروع کر دو بس۔

" ہے ناں؟ ابھی تو اب بازار کا مسئلہ آ گیا درمیان میں نہیں تو اسے سجانا ابھی باقی ہے " طیب نے پیار سے اپنی بائیک کو تھپتھپایا۔

اتنے میں امی سامان کی لسٹ لکھ لائی تھیں۔ طیب نے ان کے ہاتھ سے پرچی پکڑ کے جیب میں اڑسی اور بائیک نکالنے لگا۔

"بھائی میری چوڑیاں" نتاشہ نے منت کرنے والے انداز میں طیب کو دیکھا تو اسے واقعی ترس آگیا۔

" اچھا لے آؤں گا وہ بھی " اس نے گیٹ سے نکلتے ہوئے جواب دیا۔

سامان لا کر امی کو دیا اور چوڑیاں نتاشہ کو پکڑائیں۔ وہ ایک دم خوش ہو گئی۔

" تھینک یو سو مچ بھائی! اللہ مجھے چاند سے بھابھی دے " اس نے شرارتی انداز میں اسے دعا دی تو پاس بیٹھے دادا جان نے بھی شرارت سے آمین کہا۔ دونوں بہن بھائی کھکھلا کر ہنس پڑے۔

"دادا جان! آپ واقعی میں گریٹ ہیں سچی۔ میری کچھ فرینڈز بیچاری تو اتنی تنگ ہیں کہ ان کے دادا، دادی ہر وقت ڈانٹتے اور ٹوکتے رہتے ہیں مگر ہمارے دادا جان بہت ہی سویٹ ہیں " نتاشہ نے ان کے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے ان کے گال پر بوسہ دیا۔

دادا جان نے اپنے بوڑھے ہونٹ اس کے سر پر رکھتے ہوئے اسے خوشحال زندگی کی ڈھیروں دعاؤں سے نوازا۔ طیب دوبارہ سے اپنی بائیک کے سولہ سنگھار میں مصروف ہو چکا تھا جب کہ نتاشہ چوڑیوں کا پیکٹ لے کر اپنے کمرے میں غائب ہو گئی۔

دادا جان نے طیب کی بائیک کو دیکھا۔ سیاہ چمکتی ہوئی موٹر بائیک پر سبز رنگ کے سبز ہلالی پرچم والے اسٹیکر بہت خوبصورتی سے سجائے گئے تھے۔ طیب اب بائیک کا آخری جائزہ لے رہا تھا۔ پھر اس نے موبائل پر کسی دوست کو کال ملائی اور "آزادی نائٹ" کا پروگرام ڈسکس کرنے لگا۔

موبائل بند کر کے وہ اندر آیا اور برآمدے میں رکھی فریج سے پانی کی بوتل نکال کر برآمدے میں رکھے صوفے پر دھپ سے آ بیٹھا۔

" اونہوں! ایک تو ستر سال میں یہ ہمیں بجلی تک نہیں دے سکے، اس سے تو بہتر ہے کہ بندہ ٹونٹی کا پانی پی لے "

اس نے غصے سے بوتل سامنے پڑے میز پر پٹخ دی اور ریموٹ اٹھا کر ٹی وی کے چینلز بدلنے لگا۔ ایک چینل پر کوئی انڈین فلم چل رہی تھی، طیب نے وہ چینل لگا کر ریموٹ رکھ دیا۔

دادا اس کی ساری کاروائی چپ چاپ دیکھ رہے تھے۔ اچانک بولے " طیب کل کیا تاریخ ہے بیٹا؟ "

"ارے دادا جان، اتنا اہم دن کیسے بھول سکتا ہے کوئی؟ کل چودہ اگست ہے دادا جان! ابھی ذرا سانس لے لوں تو اس تاشی کی بچی کے ساتھ مل کر جھنڈیاں لگائیں گے " طیب نے ان کے دماغ کی کمزوری پر تاسف کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اطلاع دی۔

" تو کل پورے ستر سال ہو جائیں گے؟" دادا جان نے اس کی بات تو جیسے سنی ہی نہیں، وہ گہرے سوچتے لہجے میں بولے تھے۔

"اوہ۔۔۔ " طیب کھسیانا سا ہو گیا۔ دادا جی کی آنکھیں فضا میں کچھ کھوج رہی تھیں۔ نتاشہ آ کر ان کے پاس بیٹھ گئی۔

"دادا جان۔۔ پاکستان کی کہانی سنائیے نا؟" اس نے ان کے کندھے سے جھول کر فرمائش کی۔

" پاکستان کا مطلب کیا۔۔ لا الہ الا اللہ " دادا جان کی آنکھیں ابھی بھی فضا میں کسی غیر مرئی نقطے پر مرکوز تھیں۔ طیب نے آہستگی سے ریموٹ اٹھا کر پہلے چینل بدلا اور پھر ٹی وی بند کر دیا۔

"پاکستان بننے ہونے سے پہلے ہم انڈیا کے پنجاب کے گاؤں بھوگ پور میں رہتے تھے۔ سکھوں کا محلہ تھا وہ۔ ہمارا اور تایا کا گھر چھوڑ کر صرف ایک اور مسلمان گھرانہ تھا ہمارے سارے محلے میں۔ گاؤں میں کل ملا کر کوئی پانچ سات گھر مسلمانوں کے بنتے ہوں گے۔ باقی سب سکھ تھے، مگر بہت پیار سے رہتے تھے سب۔ کوئی شور شرابہ نہیں ہوتا تھا۔ لیکن یہ پاکستان بننے سے پہلے کی بات ہے۔ جیسے ہی پاکستان کے قیام کا شور اٹھا، سب کی آنکھیں بدلنے لگیں۔ پھر ایک دن شام کو میں اپنے باقی بہن بھائیوں کے ساتھ چولہے کے گرد بیٹھا روٹی کا انتظار کر رہا تھا۔ اماں لکڑیوں کے چولہے کو پھونکوں سے دہکا رہی تھیں۔ روزہ کھلنے میں کچھ ہی وقت باقی تھا۔ ابا ہانپتے کانپتے گھر آئے ہمیں بتایا کہ پاکستان بن رہا ہے۔ "

دادا جی سانس لینے کو رکے۔

اماں روٹی پکانا بھول کر ابا کی شکل دیکھ رہی تھیں۔

" پاکستان بن گیا تو ہم کیا کریں گے سراج ؟" اماں نے ابا سے پوچھا۔

" کرنا کیا ہے۔۔ ہم بھی پاکستان جائیں گے۔ پاک لوگوں کی سر زمین میں رہیں گے جا کر " ابا کے لہجے میں جوش امنڈ آیا تھا۔

"آہستہ بولو، کسی نے سن لیا تو جان عذاب ہو جائے گی "

ابا نے اماں کو بتایا کہ وہ اور چاچا شام ڈھلے سب مسلمانوں کے ہاں جا کر مشورہ کریں گے۔ جو جو ہجرت کرنا چاہتا ہو گا وہ سب تیاری کر کے کسی رات اکٹھے ہی گاؤں سے نکلیں گے۔

چاچا فضل دین کے علاوہ سب ہی پاکستان جانا چاہتے تھے۔ چاچا فضل دین اپنے پرکھوں کے گھر بار اور زمینیں چھوڑنے کو راضی نہیں تھا۔

اماں نے ایک رات اپنے زیور، نقدی اور زمین کی رجسٹریاں وغیرہ ایک گٹھڑی میں باندھیں اور اگلی رات ہم شام ڈھلتے ہی گھر سے نکل گئے۔ گاؤں کے باہر کی بڑی سڑک پر گاؤں کے باقی خاندان بھی ساتھ مل گئے۔ چھپتے چھپاتے ہم لوگ کسی طرح مہاجرین کے کیمپوں تک آ گئے۔ بھوک پیاس سے برا حال تھا سب کا۔ سوجے ہوئے پیر اور تھکن سے نڈھال وجود۔ پھر بھی سب اس پر شکر گزار تھے کہ اپنی منزل پر پہنچ تو گئے۔ اب یہاں سے ہم سیدھا پاکستان چلے جائیں گے۔ ہمارے خوابوں کی سر زمین، پاک لوگوں کا وطن! "

دادا جی کی آنکھوں میں لفظ پاکستان پر ہمیشہ سے جو ستارے سے چمکتے تھے، وہ ابھی بھی جگمگا رہے تھے۔

" ہمیں بتایا گیا کہ شام کو ٹرین لاہور کے لیے روانہ ہو گی اور اس خبر نے بھوک پیاس نیند سب اڑا دی۔ اللہ اللہ کر کہ ٹرین آئی اور شور مچا کہ جلدی سے سوار ہو جاؤ سب لوگ۔ اماں ابا بھی ہم بہن بھائیوں کو اٹھائے گھسیٹتے ٹرین کی ایک بوگی میں گھس گئے۔ ٹرین چلی تو سب نے باآواز بلند پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ! کے نعرے لگائے۔ مگر تھوڑی ہی دیر میں ٹرین پھر رک گئی۔ شورمچا کہ سکھ بلوائیوں نے پٹڑی بلاک کر رکھی تھی۔ ابا اور بڑے بھائی سمیت سب مردوں نے ہمیں چھپنے کی ہدایت کی اور بوگی سے باہر نکل گئے۔ اماں ہمیں برتھ پر چڑھا کر خود ہمارے آگے بیٹھ گئیں۔ رات کے اندھیرے میں ایک دہشت سی چھائی ہوئی تھی ساری بوگی میں۔ سانس لینے کی آواز کے سوا کوئی آواز نہ تھی کہیں۔ کچھ ہی لمحوں میں "واہے گرو دی جے " کی آوازیں بلند ہونے لگیں اور ہم مزید پیچھے ہو کر دبک گئے۔ آن کی آن میں قیامت برپا ہو گئی۔ گھپ اندھیرے میں سکھ بلوائیوں کا ٹولہ ہاتھوں میں جلتی لکڑیاں اور خون سے رنگی تلواریں لہراتا بوگی میں گھس آیا۔

وہ اندھیرے میں اندھا دھند تلواریں چلاتے جا رہے تھے۔ جن کے ہاتھ میں آگ تھی وہ اس کی روشنی میں دیکھ کر عورتوں کے سروں سے چادریں نوچ کر نیچے پھینکتے اور گھسیٹتے ہوئے بوگی سے باہر لے جاتے۔ "خدا کے واسطے چھوڑ دو مجھے۔۔ تمہیں واہے گرو کا واسطہ " یہ چیختی بلکتی آواز تو صغریٰ کی تھی، میرے چاچا کی بڑی بیٹی۔ وہ درندہ اسے گھسیٹ کر باہر لےگیا تھا۔ میں یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا مگر کچھ نہیں کر سکا میں۔ ہم سب بہن بھائی اماں کے پیچھے دبکے ہوئے تھے اور اماں سانس روکے ہمارے سامنے بیٹھی تھیں۔ اچانک ہمارے بالکل سامنے آگ لہرائی اور ایک زناٹے سے کسی نے اماں کی چادر کھینچ لی۔ میرے منہ سے چیخ نکل گئی۔ سامنے دیکھا تو چاچا بلویندر سنگھ تھا، بھوگ پور میں ہمارا ہمسایہ۔ اماں نے بے بسی سے بہتے آنسوؤں کے درمیان اچانک اس کے آگے ہاتھ جوڑ دئیے اور اماں کے منہ سے سسکاری سی نکلی۔ " ویر جی!"، نجانے یہ اتنے برسوں کی ہمسائیگی کی شرم تھی یا لفظ ویر کی حرمت، چاچا بلویندر سنگھ کی آنکھوں سے نفرت کے شعلے سے نکلے اور اس نے سامنے کی سیٹ پر پڑا خون آلود میلا سا کھیس ہمارے اوپر ڈال دیا۔ "

دادا جی کی آواز بھرا گئی تھی۔ آنکھوں میں آنسو اترنے لگے تھے۔ انہوں نے تھوک نگل کر پھر سے کہانی شروع کی

" بہت دیر تک تلواریں چلتی رہیں، عورتوں اور لڑکیوں کے چلانے کی آوازیں آتی رہیں۔ وہ اللہ رسولؐ کے ساتھ ساتھ واہے گرو کے اور بھگوان کے واسطے دے دے کر اپنی عزت کی بھیک مانگتی رہیں مگر وہ سب اس وقت بھیڑیے بن گئے تھے۔ بھنبھوڑتے، چیرتے پھاڑتے اور مار ڈالتے۔ ابّا، جمال اور بوگی سے جانے والے تمام مردوں میں سے کوئی بھی واپس نہیں آیا تھا۔ رات کے کہیں تیسرے پہر ٹرین پھر سے چلنا شروع ہوئی۔ مگر ہم نے اس کھیس سے باہر منہ نہ نکالا۔ اماں سارا وقت بے آواز سسکتی رہیں۔ میں اماں کو دیکھ دیکھ کر اور بھی رونے لگتا۔ بتول میری چھوٹی بہن میرے ساتھ بیٹھی تھی، اور سب سے چھوٹا کمال اس کے ساتھ۔ بتول اور کمال شاید سو گئے تھے۔ مگر میں اور اماں سارا وقت اس خون آلود کھیس کے نیچے سسکتے رہے۔ بہت دیر کے بعد ٹرین رکی تو پھر بھی ہم نے کھیس سے سر نکال کر نہیں دیکھا۔ باہر لوگوں کے شور سے پتہ چلا کہ لاہور آ گیا ہے۔ میں نے ذرا سا کھیس سرکایا تو سامنے کے مناظر نے میری آنکھیں پتھرا دیں۔ بوگی میں ہر طرف خون ہی خون تھا۔ کٹی ہوئی لاشیں اور خون آلود چادریں اپنی بے حرمتی کی داستان سنا رہی تھیں۔

بوگی کے فرش پر خون میں لتھڑی باجی صغریٰ کی چادر میں نے پہچان لی تھی۔ اماں نے کھیس ہٹایا اور ہمیں برتھ سے نیچے اتارنے لگیں۔ میں نیچے اتر کر سیدھا اس سیٹ کی برتھ کی طرف لپکا جہاں چاچی اور ان کے بچے بیٹھے تھے۔ برتھ پر چڑھنے سےپہلے ہی مجھے اپنی چچا زاد مراد کا خون میں نہایا مردہ بدن مل گیا۔ برتھ پر صرف چاچا کی چھوٹی بیٹی نسیم تھی وہ بھی نیم بے ہوش۔

میرا چھوٹا بھائی کمال بھی بے ہوش تھا، جو لاہور پہنچ کر بھی ہوش میں نہ آ سکا۔ ہم جسے سویا سمجھتے رہے خوف اور دہشت نے اس کی جان لے لی تھی۔

بھوگ پور سے لاہور تک کے سفر میں ہم نے سب کو کھو دیا۔ صرف میں اماں بتول اور نسیم ہی زندہ بچے تھے۔ اتنے بڑے قافلے میں سے چار خوش نصیب لوگ جنہیں پاکستان کی پاک سر زمین پر قدم رکھنا نصیب ہو سکا "

نتاشہ نے اپنے ہاتھوں سے دادا جان کا آنسوؤں سے تر چہرہ صاف کیا۔ اس کا اپنا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔

"اب جب تم لوگوں اور تمہاری عمر کے بچوں کو جشن آزادی کے نام پر اخلاقیات کا جنازہ نکالتے دیکھتا ہوں تو وہ بوگی آنکھوں میں گھوم جاتی ہے۔ جب تم اپنی بائیک کا سائیلنسر نکال کر ون ویلنگ کرنے جاتے ہو تو سکھ بلوائیوں کی چنگھاڑتی آوازیں میرے کان پھاڑتی ہیں۔ جب تم میرے پاکستان کی سڑک پر آتی جا تی بچیوں اور عورتوں پر فقرے کستے ہو تو مجھے وہ درندے یاد آتے ہیں جو باجی صغریٰ کے سر سے چادر نوچ کر اسے بوگی سے گھسیٹ کر باہر لے گئے تھے۔ جب بچیوں کو سبز و سفید کپڑے پہن کر انڈین گانے فلمیں دیکھتا سنتا ہوں تو وہ لڑکیاں آنکھوں میں گھوم جاتی ہیں جو خدا رسولؐ کے ساتھ واہے گرو اور بھگوان کے واسطے دیتی رہیں۔ جب تم لوگوں کے منہ سے سنتا ہوں کہ ہم آزاد نہیں تقسیم ہوئے تھے تو دل کٹ جاتا ہے۔ تم لوگ کیا جانو اس آزادی کی قیمت؟ تمہیں تو یہ وطن وراثت میں ملا ہے بیٹا۔۔ اس وطن کی خاطر قربانیاں دینے والوں سے پوچھو کہ آزادی کیسے ملتی ہے؟ جنہوں نے جانیں عزتیں مال سب لٹا دیا ان سے پوچھو کہ پاکستان کیا ہے ؟"

دادا جان نے رک کر طیب کو دیکھا جو شرمندگی سے سر جھکائے بیٹھا تھا

" بیٹا! پاکستان ایک زمین کا ٹکڑا نہیں، ایک عقیدہ ہے، ایک نظریہ ہے۔ اس نظریے کی حفاظت کرنا سیکھو۔ آزاد زمین مل گئی ہے تو اپنی سوچ کو بھی آزاد کرو۔ دماغ کو انگریزوں اور ہندوؤں کے تسلط سے باہر نکال کر سوچو۔ قائد اعظم کی زندگی اور اقبال کی شاعری کو پڑھو تو پتہ چلے کہ انہیں تم لوگوں سے کتنی امیدیں تھیں۔ہم پاکستان کا ماضی تھے، تم لوگ اس پاکستان کا مستقبل ہو، جو مستقبل ماضی پر شرمسار ہو وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا ۔"

دادا جان خاموش ہو گئے تھے۔ کہانی ختم ہو گئی تھی لیکن طیب کے دماغ میں کہانی اب شروع ہوئی تھی۔ اسے کیا بننا تھا اور وہ کیا بن رہا تھا؟ اسے پاکستان کا مستقبل بننا تھا، جس پر اس کے ماضی کو فخر ہوتا۔ اب اسے دادا جان اور دادا جیسے لاکھوں لوگوں کی قربانیوں کا حق ادا کرنا تھا۔ اسے اس آزادی کی قدر کرنی تھی۔

پاکستان کے لیے کچھ کرتے ہوئے یہ مت سوچیں کہ آپ اکیلے کیا کر سکتے ہیں؟ بلکہ یہ سوچیے کہ جو آپ کو کرنا چاہیے تھا آپ نے وہ کیا ہے؟ ہر کوئی بس اپنا فرض ادا کرتا جائے، چاہے وہ معمولی سی ہی کوشش کیوں نہ ہو۔ کیونکہ " یہ وطن ہمارا ہے۔۔ ہم ہیں پاسباں اس کے "