آزاد سنگھ - عبدالصبور شاکرؔ

’’ایکسکیوزمی سر! کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں؟ ‘‘میں جو آنکھیں موندے، بینچ سے ٹیک لگائے اور پاؤں پسارے بیٹھا ہوا تھا یکدم سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ میرے سامنے اٹھارہ بیس سال کا نوجوان کھڑا تھا۔ بھوری ڈاڑھی، لمبی پلکیں، سفید چہرہ اور گلابی ہونٹ، البتہ سر پر بندھی مخصوص سٹائل کی پگڑی اس کے سکھ ہونے کی چغلی کھا رہی تھی۔ ’’کیوں نہیں؟ آئیں بیٹھیں۔‘‘ میں نے پاؤں سمیٹتے ہوئے کہا۔ اور وہ میری دائیں جانب بے تکلفی سے آ کر بیٹھ گیا۔

’’میرا نام آزاد سنگھ ہے۔ امرتسر انڈیا سے تعلق ہے۔ جرمنی میں دھن کمانے آیا تھا لیکن قسمت نے یاوری نہ کی۔ اب امریکہ جا رہا ہوں۔ وہاں میرے رشتے کے چچا رہتے ہیں۔جن کا چمڑے کا کاروبار ہے۔ آپ غالباً پاکستان سے ہیں؟‘‘ وہ بے رُکے بولتا چلا گیا۔

’’جی ہاں! میں پاکستان سے ہوں اور امریکہ ہی جا رہا ہوں۔ آپ نے درست اندازہ لگایا۔‘‘ میں نے جواب دیا تو وہ مسکرا دیا۔ اس کا چہرہ محبوبوں جیسا تھا۔ ہنس مکھ اور شوخ چنچل، بات کرے تو پھول جھڑیں، ہنسے تو جیسے چرچ میں گھنٹیاں سی بج اٹھیں۔ برلن سے واشنگٹن ڈی سی تک چھ ہزار سات سو چھتیس کلومیٹر کا سفر نو گھنٹوں میں طے ہوا اور آزاد سنگھ بے تکان بولتا رہا۔ اس دوران انڈیا کی سیاست سے امریکہ کے صدارتی انتخابات اور مذہب سے گلیمر تک ہر موضوع پر اس نے بات کی۔ حتی کہ گھریلو معلومات تک سے آگاہ کیا۔ اپنی دادی اماں اور اس کی سہیلیوں سے متعارف کروایا۔ ایئرپورٹ پر اترتے ہوئے اُس نے مجھ سے ایک سیلفی کی درخواست کی جو میں نے قبول کر لی۔

یوں تو زندگی کے سفر میں ہر موڑ پر مسافروں سے مڈبھیڑ ہوتی رہتی ہے۔ لیکن بعض مسافر ہاتھ پر چبھی پھانس کی طرح ذہن میں اٹک جاتے ہیں۔ آزاد سنگھ بھی انہی میں سے تھا۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ وہ میرا ہم نام تھا۔ بس فرق تھا تو اتنا کہ میرا نام ’’آزاد خان‘‘ تھا اور اس کا ’’آزاد سنگھ‘‘۔ جاتے ہوئے وہ اپنے چچا کاپتا لکھ کر مجھے دے گیا۔ کہہ رہا تھا پردیس میں سب برصغیر والے ایک ہی گھرانے کے فرد ہوتے ہیں؛ چاہے مسلم ہوں یا غیر مسلم، پاکستانی ہوں یا ہندوستانی۔ رہن سہن، کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا، بول چال غرض لائف سٹائل کی یکسانیت کی وجہ سے سارے لوگ بھائی بھائی ہوتے ہیں۔ انگریز سب کو بلڈی انڈین کہہ کر بلاتے ہیں۔

ہمارے بچھڑنے سے ٹھیک ایک مہینے بعد اس کی کال آئی۔ کہنے لگا واپس انڈیا جا رہا ہوں۔ دادی اماں کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ وہ مجھے ہر دم یاد کرتی رہتی ہیں۔ جانے کیوں میرے دل میں ٹیس سی اٹھی۔ یا اللہ! آزاد سنگھ کی دادی اماں کو صحت عطا فرما۔ ایک غیر مسلم کے لیے ایسا جذبہ خود میری سمجھ سے بالا تر تھا۔ اس کی کال آنے سے لے کر وطن روانہ ہونے تک میں برابر اس کے رابطے میں رہا۔ پھر وہ چلا گیا اور ہمارا رابطہ منقطع ہو گیا۔ چند دن میرے ذہن پر اس کا غبار چھایا رہاپھر وقت اور مصروفیت کی دھول نے ہر چیز دھندلا دی۔ خود میں بھی واشنگٹن سے کینیڈا اور پھر تین سال بعد پاکستان واپس آ گیا۔

سردیوں کی ایک خنک صبح میں اپنے کھیتوں پر بیٹھا آگ سینک رہا تھا جب ایک سرکاری ہرکارہ میرے پاس آیا۔ اس نے ایک چٹھی نکال کر میرے سامنے رکھی جس پر رومن حروف میں میرا نام جگمگا رہا تھا۔ اس نے ایک جگہ انگلی رکھتے ہوئے کہا ’’صاحب! یہ خط آپ کے لیے انڈیا سے کسی آزاد سنگھ نامی شخص نے بھیجا ہے۔‘‘

میں نے جلدی میں اس کے ہاتھ سے خط لے کر چھینا اور لفافہ پھاڑ کر پڑھنے لگ گیا۔ لکھا تھا

یہ بھی پڑھیں:   منٹو، ہم اور ہمارا عہد - اشرف لون

’’پیارے آزاد خان! آداب، امید ہے کہ آپ خوش و خرم ہوں گے۔ میں نے بڑی مشکل سے آپ کا پتا ڈھونڈا ہے۔ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔ اگر یہ خط آپ کے پاس پہنچ جائے تو برائے مہربانی مجھے فوراً ای میل کر دینا۔ میں آپ کو ای میل سے تیسرے دن نارووال کے بارڈر کے ساتھ ملحق گاؤں چک جام چٹھہ میں ملوں گا۔ ‘‘ نیچے ای میل ایڈریس درج تھا۔

میں سوچ میں پڑ گیا۔ یا الہی! کہیں کوئی چکر ہی نہ ہو جائے۔ خط میں نے احتیاط سے اپنے کوٹ کی جیب میں ڈالا اور گھر آ گیا۔ سارا دن خط میرے اعصاب پر سوار رہا۔ کبھی خوشی ہو جاتی کہ آزاد سنگھ نے مجھے اتنے عرصے بعد بھی یاد رکھا ہے اور کبھی پریشانی ہوجاتی کہ کہیں کوئی گڑ بڑ ہی نہ ہو جائے۔ مغرب کے بعد میں نے والد صاحب کو ساری روئیداد سنائی اور ان سے مشورہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اپنے ملک کے اندر کہیں بھی جانے میں حرج نہیں ہے۔ لیکن تم اسے کہو، میرے ملک میں چوری چھپے نہ آئے۔ اگر ممکن ہے تو قانونی طریقے سے ہمارے گھر آ جائے اور اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو وہ اپنے علاقے کے بارڈر پر کھڑا رہے اور تم اپنے علاقے کے بارڈر پر۔ آمنے سامنے کھڑے ہو کر موبائل پر بات کر لینا۔‘‘ مجھے ابو جان کی بات میں وزن محسوس ہوا۔ میں نے رات کو رضامندی کی ای میل کی۔ اور ابو جان کا مشورہ بھی سنا دیا۔ تھوڑی ہی دیر میں جواب آ گیا۔ لکھا تھا ’’پیارے آزاد خان! قانونی طور پر آنے کا وقت میرے پاس نہیں ہے۔ اگر آ سکتے ہو تو کل ہی وہاں پہنچ جاؤ، باقی بندوبست میں کر لوں گا۔تم سے نہایت ضروری بات کرنی ہے۔‘‘ چار وناچار مجھے ہاں کرنا پڑی۔ یوں میں دوسرے ہی دن نارووال اور پھر چک جام چٹھہ پہنچ گیا۔

یہ کوئی عصر کا وقت ہوگا۔ جب میں وہاں پہنچا۔ گاؤں پہنچ کر میں نے آزاد سنگھ کو فون کیا۔ اس نے کہا تم گاؤں سے آگے آ جاؤ، میں بارڈر پر کھڑا تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔ میں گاؤں سے باہر نکل آیا۔ یہ ایک میدانی علاقہ تھا، جہاں خود رو جڑی بوٹیاں اور جھاڑ جھنکار اگا ہوا تھا۔ تھوڑی دور میری نظروں کے عین سامنے آزاد سنگھ کھڑا تھا۔ آج اس نے پگڑی نہیں باندھی ہوئی تھی۔ بال کھلے تھے جو اس کے شانوں سے چھو رہے تھے۔ سفید شلوار قمیض میں ملبوس، حلیے سے وہ کوئی دوسری صدی کا مسلم مجاہد لگ رہا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی ہاتھ ہلانے لگ گیا۔ میں نے فون کرنا چاہا تو اس نے کاٹ دیا اور آہستہ آہستہ میری جانب آنے لگا۔ ادھر ادھر جھانکتا وہ پانچ منٹ میں میرے قریب پہنچ گیا اور خالص پنجابی انداز میں مجھ سے چمٹ گیا۔ میں نے اسے اپنے سے جدا کیا تو کیا دیکھا کہ اس کی آنکھیں ساون بھادوں کی طرح برس رہی تھیں۔میں نے اسے آزاد سنگھ کے جذباتی پن پر محمول کیا۔ اس سے حال احوال پوچھا اور پھر اس کی دادی اماں کی خیریت دریافت کی۔ وہ ایک بار پھر رونے لگا۔ کہا ’’دادی اماں تو رب کو پیاری ہو گئیں۔ ان کے ایک اہم پیغام کا بوجھ سر پر اٹھائے تین سال سے تمہاری تلاش میں ہوں۔ لیکن تم تو گدھے کے سینگ کی مانند یوں گم ہوئے کہ پتا ہی نہیں چلا تم کہاں ہو؟ بڑی مشکل سے علم ہوا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے پھر رونا شروع کر دیا۔

’’یار تمہیں ہوا کیا ہے؟ تم کیوں روتے ہو؟ جانے والے چلے جاتے ہیں۔ دنیا کا نظام یوں ہی چلتا ہے۔ اگر سارے لوگ زندہ رہیں تو یہ دنیا بوڑھوں سے اٹ جائے۔ نوجوانوں کے رہنے کی جگہیں کم پڑ جائیں۔‘‘ میں نے اسے دلاسا دیتے ہوئے کہا۔

یہ بھی پڑھیں:   منٹو، ہم اور ہمارا عہد - اشرف لون

لیکن وہ کہاں ماننے والا تھا۔ بالکل بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر روتا جا رہا تھا اور کبھی کبھی میرا منہ، ہاتھ اور گردن بھی ساتھ ساتھ چومتا چلا جا رہا تھا۔ میں اس کی اس حرکت پر حیرت کی تصویر بنا کھڑا تھا۔ آخر اس نے ہچکیوں زدہ آواز میں کہا ’’میرے بھائی! ہمیں معاف کر دینا۔‘‘ اور پھر اپنے جیب سے ایک خط میری طرف بڑھا دیا اور خود تقریبا دوڑتا ہوا مجھ سے جدا ہو گیا۔ یہ خط اس کی دادی کا تھا۔ لکھا تھا:

’’پیارے بیٹے آزاد خان!السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

امید ہے کہ تم اپنے اسلامی وطن میں خوش و خرم اور آزادی کے ترانے گا رہے ہوگے۔ اللہ تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو خوش رکھے۔ گزشتہ دنوں آزاد سنگھ آیا تو اس نے تمہارے بارے میں کافی ساری باتیں بتائیں اور ساتھ ہی تمہاری تصویر بھی دکھائی۔ جسے دیکھ کر میں اپنے بچپن میں کھو گئی۔ بالکل تمہارا ہم شکل میرا ایک بھائی بھی تھا۔ ہم نے اپنی زندگی کے پندرہ سال اکٹھے گزارے، پھر وہ مجھ سے بچھڑ گیا۔ یا یوں سمجھو میں اس سے بچھڑ گئی۔ تقسیم ہند والی رات سکھوں نے ہمارے گھر پر دھاوا بولا اور مجھے زبردستی اغوا کر کے لے گئے۔ میں ایک مسلمان گھر کا چشم و چراغ تھی۔ لیکن اسلامی ریاست کی بنیادیں مضبوط کرنے کے لیے مجھے اپنی عزت کی قربانی دینی پڑی اور آج ساٹھ سال سے ایک سکھ کے گھر میں بیٹھی کسی معتصم و محمد بن قاسم کی منتظر ہوں۔

شاید میری زندگی کا سفر اختتام پذیر ہے۔ اگر تم نذیر حسین کے پوتے ہواور مجھے یقین ہے کہ تم اسی کے ہی پوتے ہو تو میری تمہیں وصیت ہے کہ میرے کفن دفن کا انتظام تم کرنا۔ میں اللہ کے دربار میں مسلمان کی حیثیت سے پیش ہونا چاہتی ہوں۔ دوسری وصیت یہ ہے کہ آزاد سنگھ کو مسلمان کر لینا۔ اللہ نے اسے سونے جیسا دل عطا فرمایا ہے۔ میں نے اس کی تربیت اسلامی طور طریقوں سے کی ہے۔ وہ بہت جلد کلمہ پڑھ لے گا۔ اگر وہ کلمہ پڑھ لے تو یوں سمجھنا ’’خدیجہ‘‘ تمہارے پاس زندہ سلامت واپس آ گئی ہے۔

اگر تمہارے دادا نذیر حسین زندہ ہیں تو انہیں ان کی بدنصیب بہن خدیجہ کا سلام عرض کر دینا۔ اور آخری وصیت یہ ہے کہ اپنے ملک کی پل پل حفاظت کرنا۔ اسے دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھنا۔ اگر کبھی اس کی حفاظت میں کوتاہی ہونے لگے تو اتنا جان لینا کہ اس میں تمہاری دادی کی عزت کا خون بھی شامل تھا۔فقط خدیجہ ‘‘

میں نے خط کو مقدس صحیفہ سمجھتے ہوئے تہہ کر کے جیب میں ڈال لیا۔ اس میں تو کوئی شک نہیں رہا تھا کہ آزاد سنگھ کی دادی دراصل میری بھی رشتے کی دادی تھیں۔ اور اللہ نے کس طرح ہمارا رابطہ کروایا تھا۔ لیکن آزاد سنگھ کو اسلام کی دعوت کیسے دی جائے؟ میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ گولیاں چلنے کی آواز گونجی تڑ تڑ تڑ۔۔۔۔ ساتھ ہی ایک دلدوز چیخ بھی بلند ہوئی۔ میں بھاگ کر آواز کی سمت میں گیا، دیکھا تو ایک شخص خون میں لت پت پڑا تھا۔ یہ گولیاں بارڈر سیکورٹی والوں نے چلائی تھیں۔ میں نے ہاتھ کے ذریعے اس شخص کا چہرہ اپنی طرف کیا تو وہ آزاد سنگھ تھا۔۔۔۔ میری دادی کا خون ایک مرتبہ پھر اسلام اور وطن کے لیے بہہ گیا تھا!