بیوی کے حقوق - صاحبزادہ محمد امانت رسول

مرد اور عورت کا سب سے خوبصورت رشتہ میاں بیوی کا ہے۔ قرآن مجید نے اس رشتے کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔ ’’ھن لباس لکم وانتم لباس لھن‘‘ وہ (بیویاں)تمہارا لباس ہیں اور تم (خاوند) ان کا لباس ہو‘‘۔ لباس کے بے شمار فوائد ہیں لیکن تین فائدے ایسے ہیں جو بالکل واضح ہیں۔

ایک فائدہ یہ ہے کہ لباس ہمیں موسمی اثرات سے محفوظ رکھتا ہے۔ ہم سردی میں گرم لباس اور گرمی میں باریک اور ہوا دار لباس استعمال کرتے ہیں۔ گویا لباس ہمیں زمانے کے اثرات سے محفوظ رکھتاہے۔ اس کی تبدیلی حالات و واقعات کے مطابق ہوتی ہے۔ دوسرا فائدہ، لباس کا انسان کے حسن و جاذبیت میں اضافہ کرنا ہے۔ کسی شادی، تقریب اور عید کے لیے جب انسان نیا لباس زیب تن کرتا ہے یا ویسے ہی معمول کی زندگی میں خوبصورت لباس پہنتا ہے تولباس اس کے وقار، حسن اور جاذبیت کو بڑھا دیتا ہے۔ موجودہ دورمیں فیشن انڈسٹری وجود میں آ چکی ہے جو اس حوالے سے نت نئے ڈیزائن اور فیشن متعارف کرواتی رہتی ہے۔ تیسرا فائدہ یہ ہے کہ لباس ہمارے ستر کی پوشیدگی کاذریعہ ہے۔ یعنی انسانی تہذیب کی علامت یہ لباس ہے۔ اب ان تین فوائد کو میاں بیوی کے باہمی تعلق کی روشنی میں دیکھیے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے حوادثِ زمانہ، مشکلاتِ حیات اورزندگی کے اذیت ناک لمحات میں ایک دوسرے کے لیے حفاظت اور سہارے کا ذریعہ ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ خاوند مشکلات میں گھرا ہو تو بیوی اسے چھوڑ جائے یا بیوی ایسے حال میں ہو اورخاوند اسے چھوڑ جائے.

انسان کی شخصیت میں حسن و جاذبیت کا ایک ذریعہ وہ روحانی اورجسمانی اطمینان ہے جو اسے اپنے زوج سے ملتا ہے۔ ذہنی سکون انسان کو اعتماد اورحوصلہ دیتا ہے۔
میاں بیوی ایک دوسرے کے عیوب ونقائص کو چھپانے کا سبب ہیں، یہ نکتہ سماجی اور خاندانی زندگی میں بہت اہم ہے کہ میاں بیوی باہمی اختلافات کو رشتہ داروں کے آگے رکھ کر ایک دوسرے کو بدنام کرنے کے بجائے، ایک دوسرے کے مشورے اور افہام و تفہیم سے مسائل کو حل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بیوی کے متعلق خاوند سے یہ فرمایا’’ممکن ہے تمہیں کوئی چیز پسند نہ آئے اور اللہ تعالیٰ اس میں خیر کثیر رکھ دے’’ ازدواجی زندگی میں کوئی فیصلہ جلد بازی سے نہیں کیا جانا چاہیے اور کسی ایک بات کی وجہ سے ناپسند یدگی کا اظہار نہیں کرنا چاہیے۔ ممکن ہے ایک عادت ناپسند ہو اور دوسری کئی عادات قابل تعریف ہوں‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے تعلق کے لیے ’’وقد افضی بعضکم الی بعض‘‘ فرمایا افضی سے مراد بے حجابانہ تعلق ہے۔ جس میں کوئی حجاب اور پردہ حائل نہیں ہوتا۔ اس مقام پہ ان مردوں کو مخاطب کیا ہے جو کسی نہ کسی بہانے عورت سے حق مہر لینا چاہتے ہیں۔

اپنے پرانے تعلق اور رشتہ کوبھول جاتے ہیں جو تعلق اتنا گہرا تھا کہ سوائے بیوی کے جوکسی اور فرد سے نہیں ہو سکتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ’’ایمان میں وہ شخص مکمل ہے جو اخلاق میں اچھا ہے اور بہترین شخص اسے فرمایا جو اپنی گھر والی کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے‘‘۔ ایک مقام پہ ’’اہل‘‘ فرمایا اور دوسرے مقام پہ ’’نساء‘‘ فرمایا۔ اپنے متعلق فرمایا کہ ’’میں تم سب میں بہترین ہوں کہ میں اپنی بیویوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا ہوں‘‘۔ رسول اللہﷺ نے اپنی بیوی پہ ہاتھ اٹھانے والے کو ’’شریف‘‘نہیں فرمایا یعنی ایسا شخص خاندانی نہیں ہے۔ رسو ل اللہ ﷺ کااپنا عمل یہی ہے کہ آپﷺ نے زندگی میں کسی کو پیٹا اور نہ کبھی ہاتھ اٹھایا۔ آپﷺ نے فرمایا ’’تین چیزوں کی محبت میرے دل میں پیدا کر دی گئی ہے۔ ایک عورت دوسری خوشبو، تیسری نماز‘‘۔
اگرغور کیا جائے تو دنیا میں ان تین کے علاوہ ہے کیا؟ علامہ اقبالؒ نے کہا


وجود زن سے ہے تصویر کا ئنات میں رنگ


ماں، بہن، بیٹی اور بیوی، یہ تمام رشتے اس لیے پیارے ہیں کہ یہ عورت سے متعلق ہیں۔ خوشبو ایسی شے ہے جو انسان کے مشامِ جاں کو معطر کر دیتی ہے۔ انسان کے مزاج، سلوک، سوچ اور ذوق پہ اثر انداز ہوتی ہے۔

انسان خوشبو کی دنیا میں رہے تو وہ احساسِ تکلیف و اذیت سے آزاد ہو جاتا ہے۔ وہ ایسے احساس میں جیتا ہے جسے وہ خود بیان کرنے سے قاصر ہے۔ نماز کا تعلق انسان کے ایمان اور روحانیت سے ہے۔ انسان رہتا زمین پر ہے لیکن حاضر بارگاہ ِ رب العزت میں ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا الصلوۃ معراج المومنین’’نماز مومن کی معراج ہے‘‘مومن کو جو’’بلندی‘‘ نماز میں نصیب ہوتی ہے وہ کسی اورعبادت میں نصیب نہیں ہو سکتی۔ رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان کہ ’’عورت، خوشبو اورنماز کو میرے لیے محبوب بنا دیا گیا‘‘ در حقیقت کائناتِ حسن کو سمیٹ دیا گیا اور مسلمان کو دنیاوآخرت میں مسرت و کامیابی کا راز سمجھا دیا گیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے بالخصوص مردوں کواپنی بیویوں سے حسن سلوک اور نرمی کی تلقین فرمائی ہے۔ اس لیے فرمایا ’’مرد چاہتا ہے بیوی ویسے ہو جائے جیسے میں ہوں یا جیسے میں چاہوں‘‘۔ اصل جھگڑے کی جڑ یہی سوچ ہے، عورت اپنی ذات، عادات اور سوچ لے کر جوان ہوتی ہے۔ اس لیے عورت کو پسلی سے تشبیہہ دی کہ پسلی دل کے قریب ہوتی ہے کہ خاوند اس سے محبت والاسلوک کرے۔ فقہائے کرام لکھتے ہیں، عورتیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔

ایک وہ جو اپنے میکے میں کام نہیں کرتی، ہر وقت خادمائیں موجود رہتیں اور شہزادیوں کی طرح زندگی بسر کرتی ہے۔ دوسری وہ عورت جو میکے میں کام کرتی یعنی اسے خادمائیں اور ملازم میسر نہیں، پہلی قسم کی عورت سے خاوند گھر کے کام کاج کا نہیں کہہ سکتا، یہاں تک کہ اسے کھانا مہیا کرنا بھی خاوند کی ذمہ داری ہے۔ دوسری قسم کی عورت اپنا کھانا خود پکانے کی ذمہ دار ہے۔ خاوند اور بچوں کی خدمت اس کے فرائض میں شامل نہیں ہے۔ ساس سسر کی خدمت بھی بیوی کی ذمہ داریوں میں شامل نہیں ہے۔ اگر وہ اپنی محبت اور جذبے سے خدمت کرے تو یہ اس کی سعادت مندی ہے۔ ایسے بہت سے مسائل ہیں جن کی تفصیل فقہا ء کی کتب میں موجود ہے۔ ہمارے معاشرے میں عورت خاص طور پر بیوی کے ساتھ روا رکھے جانے والا سلوک سماجی دباؤ، خاندانی جبر اور صدیوں پرانے رواجات کا نتیجہ ہے۔ دین اسلام نے عورت بالخصوص بیوی کے حقوق کو جس طرح بیان کیا ہے۔ اس سے متعلق ہر مسلمان مردکو آگاہی ہونی چاہیے تاکہ وہ اپنی بیوی سے کسی قسم کے ناروا سلوک اورظلم کا مرتکب نہ ہو۔