تحریک پاکستان میں علما و مشائخ کا کردار - مسرور احمد

تحریک پاکستان میں جہاں زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنےوالے افراد نےگراں قدر خدمات دیں وہاں علما و مشائخ کا بھی ایک تاریخی کردار رہا ہے۔لیکن چونکہ یہ کردار کبھی اتنا زیر بحث نہیں آیاسو دیکھنے میں آیا ہے کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے افراد بھی تحریک پاکستان میں علماومشائخ کی خدمات سے ناواقف ہیں۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کانگریسی علما کے پراپیگنڈے کا مسلم لیگی علما نےڈٹ کر مقابلہ کیا۔ایسے میں تحریک پاکستان کی حمایت کرنے والے علما و مشائخ قدر شناسی نہ کرنا ان سے زیادتی ہو گی۔

برصغیر کی سیاست میں علما کا ایک تاریخی کردار رہا ہے۔ خاص طور پر مختلف روحانی سلسلوں جیسے سلسلہ قادریہ، سہروردیہ، نقشبندیہ اور چشتیہ سے تعلق رکھنے والے علما اور ان کے پیروکاروں نے تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ وہ علما و مشائخ جنہوں نے تحریک پاکستان یا تاریخی اعتبار سے نظریہ پاکستان اور دو قومی نظریے کے فروغ کے لیے کام کیاان میں علامہ شبیر احمد عثمانی، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا عبدالمجید بدایونی، مفتی محمد شفیع، مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹی، پیر غلام مجددسرہندی،امین الحسنات، پیر صاحب آف مانکی شریف،پیر صاحب آف زکوری شریف، پیر جماعت علی شاہ، مولانا ثنااللہ امرتسری، مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا محمد قاسم نانوتوی، حاجی زمان علی شہید اور دیگر بہت سے نام بھی شامل ہیں۔

درحقیقت تحریک پاکستان کی بنیاد حضرت مجدد علی ثانی کے دور میں ہی رکھ دی گئی تھی۔دوسری طرف شیخ احمد سرہندی جیسے علما نے مشکل ترین حالات میں بھی اسلام کی شمع جلائے رکھی جبکہ شاہ ولی اللہ جیسے بزرگوں نے برصغیر میں مسلم شناخت کو معدوم ہونے سے بچانے کے لیے اپنا کردار بخوبی نبھایا۔ہمارے بہت سے لبرل دوست ان ہستیوں کو اکثر تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں لیکن وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ ان بزرگوں نے مسلمانوں کی جو بھی خدمت کی اس میں ان کی نیک نیتی اور قوم پرستی کے جذبے پر شک نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے اس وقت کے مروجہ حالات و زمانہ کےموافق اپنی سمجھ، وسعت فکر اورفہم وفراست کے مطابق مسلمانان برصغیر کی دینی و ملّی رہنمائی کا فریضہ سر انجام دیا۔ شاہ اسمٰعیل شہید اور سید احمد شہید کی مسلم ریاست کےحصول کے لیے مسلح جدوجہد کی جگہ اب سر سید احمد کی جدت پسندی پر مبنی فکرنے لے لی۔یوں 1857کے بعد مسلمانوں کی مسلح جدوجہد کا مکمل خاتمہ ہو گیااور اس کی جگہ اب سیاسی جدوجہد نے لے لی۔ مسلم قوم کے تشخص کی حفاظت اور سیاسی کامیابی کے لیے مدارس اور جہاد کی بجائے جدید علوم اور جدید سیاسی و عمرانی نظریات نے لے لی جو ایک درست جدلیاتی تبدیلی (paradigm shift) ثابت ہوئی اور ایک پرامن سیاسی جدو جہد کے نتیجے میں ہم نے اپنے لیے ایک الگ ریاست حاصل کر لی۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ پاکستان کی حالیہ تاریخ میں جب ہماری ہیئت مقتدرہ نے اس جدلیاتی تبدیلی سے روگردانی کی تو نتیجے میں پاکستان کو بدامنی اور دہشت گردی کے نہ تھمنے والے طوفان نے جکڑ لیا۔ برصغیر کے مسلمانوں نے آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے سیاسی جہاد سے پاکستان کی منزل حاصل کی۔نفسیاتی طور پر ایک ایسی قوم جس نے ہندوستا ن پر آٹھ صدیاں حکومت کی تھی ہندوؤں کی غلامی قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھی۔ اگرچہ مسلمان تعداد میں ایسے کم بھی نہ تھے کہ وہ متحدہ ہندوستان میں ہندوؤں کا ترنوالہ بن جاتےلیکن اس خیال کوتقویت ملتی ہے کہ مسلمان ہندوؤں سے مغلوب نہیں ہونا چاہتے تھے اور یہی سوچ انہیں الگ ریاست کے قیام کی طرف لے گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   علامہ ظفراحمد عثمانی کی دینی و ملی خدمات - مولانا محمد جہان یعقوب

سلطنت عثمانیہ کو بچانے کی غرض سے شروع کی گئی تحریک خلافت نے عام مسلمانوں اور علما میں بہت زیادہ سیاسی شعور بیدار کیا۔مولانا محمود الحسن، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، مولانا ظفر علی خان، مولانا حسرت موہانی، مولاناعبدالباری فرنگی محل، سید سلیمان ندوی اور دیگر بہت سے علما، مشائخ اورمسلم زعماوسیاستدان تحریک خلافت کے دوران نمایاں ہوئے۔ یہیں سے انہیں مسلمانان برصغیر کے حقوق کی جدوجہد اورعلیحدہ ریاست کے قیام کے لیے تحریک ملی۔جمعیت علمائے ہند متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کی سب سے بڑی مذہبی آواز تھی جو غیر مشروط طور پر کانگریس کی حمایتی تھی لیکن بعد میں اس بات پر جمعیت کے دو گروپ بن گئے۔ 1938میں مولانا اشرف علی تھانوی نے ایک وفد قائد اعظم کے پاس بھیجا اور قائد اعظم کے ساتھ ایک طویل نشست کے بعد جمعیت علمائے ہند کےاینٹی کانگریس علما نے مسلم لیگ کی حمایت کا فیصلہ کیا۔کانگریس اور اینٹی مسلم لیگ علما کا بہت زور تھا لیکن ایسےمیں مسلم لیگ سے وابستہ علما نے مسلمانوں کو مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی طرف مائل کیا اور اس مقصد کے لیے شرعی فتوے بھی جاری کئے۔ جبکہ 1940میں مجوزہ نئی ریاست کے نظام حکومت کے خدوخال طے کرنے کے لیے آل انڈیا مسلم لیگ کی جانب سے برصغیر کے جید علماپر مشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی جس نے 1942میں مسلم لیگ کو اپنی سفارشات پیش کیں کہ نئی ریاست میں قرآن اور سنت کے اصولوں پر قانون سازی کی جائے گی۔ سید سلیمان ندوی، مولانا ابو الاعلیٰ مودودی، مولانا اعظم سبحانی اور مولانا عبدالمجید دریا آبادی جیسے جیّد علما اس کمیٹی میں شامل تھے۔ اب کانگریس سے بدظن علمامشائخ بھی کھل کرتحریک پاکستان کی حمایت کرنے لگے اور انہوں نے مسلمانوں کو پاکستان کے لیے بہت متحرک کیا۔

ان حالات میں جبکہ کانگریس کے پروردہ اور حمایتی خان برادرز کا صوبے پر بہت اثرورسوخ اور غلبہ تھا، جمعیت علمائے اسلام کے مفتی محمد شفیع نےتحریک پاکستان کی کامیابی کے لیے کئی فتاویٰ اور پمفلٹ تقسیم کیے اور موجودہ خیبر پختونخواہ کی عوام کو پاکستان کے لیے ووٹ دینے پر قائل کیا۔ 46- 1945میں جب جمعیت علمائے ہند نے کانگریس کی حمایت کا اعادہ کیا تو اس آڑے وقت میں مولانا شبیر احمد عثمانی نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ قائد اعظم اور مسلم لیگ کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے مسلمانوں کو کانگریسی علما کے ارادوں سے خبردار کیا۔قائد اعظم نے خاص طور پر مولانا شبیر احمد عثمانی کو سرحدی صوبے کی طرف بھیجا تاکہ وہ مسلمانوں کو لیگ کی حمایت کے لیے قائل کر سکیں۔ پیر صاحب آف مانکی شریف اور پیر صاحب آف زکوری شریف نے بھی پشتون علاقوں کی عوام کو مسلم لیگ میں شامل کرنے کرنے کے لیے دور دراز علاقوں کےد ورے کیے جس کے نتیجے میں مسلم لیگ کو بے مثال فتح نصیب ہوئی۔ اسی طرح ریفرنڈم کے ذریعے سلہٹ کی پاکستان میں شمولیت کے لیے مولانا حسین احمد مدنی اور ظفر احمد عثمانی نے شاندار کردار ادا کیا اگرچہ یہ علاقہ کانگریسی علما کےزیر اثر تھالیکن ان حضرات کی بدولت ریفرنڈم میں مسلم لیگ کو کامیابی حاصل ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:   علامہ ظفراحمد عثمانی کی دینی و ملی خدمات - مولانا محمد جہان یعقوب

تحریک پاکستان میں پیر جماعت علی شاہ کے کردار کو فراموش کرنا بہت زیادتی ہو گی۔ انہوں نے بزرگی اور کمزور صحت کے باوجود مسلم لیگ کی حمایت کے لیے نا صرف پاکستان بھر کا دورہ کیا بلکہ اپنی جیب سے مسلم لیگ کو چھ لاکھ روپے چندہ بھی دیا۔ا س وقت جب نیشنلسٹ کانگریسی علما قائد اعظم کی ذات کوشدید تنقید کا نشانہ بنا رہے تھےا ور ان کے خلاف فتوے دے رہے تھے پیر جماعت علی شاہ نے ایک جلسہ میں کانگریسی علما کو مخاطب کر کے قائد اعظم کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ تم لوگ جناح صاحب کے بارے میں جو بھی سوچو لیکن میرے نزدیک جناح صاحب ایک ولی اللہ ہیں۔ شمس العلما خواجہ حسن نظامی آف تونسہ شریف بھی تحریک پاکستان مین پیش پیش رہے۔ پیر غلام محی الدین سجادہ نشین دربار حضرت پیر مہر علی شاہ نے اپنے مریدوں کو مسلم لیگ کی حمایت کا حکم دیا۔ جمعیت العلمائے اسلام کلکتہ نے فتویٰ جاری کیا کہ جو مسلمان مسلم لیگ کی حمایت نہیں کرے گا وہ گنہگار ٹھہرے گا۔ سجادہ نشین جلال پور شریف مولانا فضل شاہ نے مسلمانوں کو اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان قوم کا مفاد اسی میں ہے کہ مسلم لیگ کی حمایت کی جائے۔اسی طرح حضرت غلام مجدد سرہندی اور شیخ عبدالمجید سندھی نے سندھ میں تحریک پاکستان کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔

مولانا عبدالمجید بدایونی نے علما و مشائخ کی جانب سے متفقہ طور قرار داد پاکستان کی حمایت کا علان کیا۔ مزید براں مولانا عبدالمجید بدایونی نے نظام آف دکن کو قائد اعظم سے ملاقات کے لیے ترغیب دی۔ وہ 1946میں سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے دورے پر جانے والے مسلم لیگ کے اس وفد کے سیکرٹری تھے جس کا مقصد مسلمان دنیا کو تحریک پاکستان کے مقاصدسے روشناس کرانا تھا۔ خواجہ قمر الدین سیالوی کی کوششوں سے جھنگ اور سرگودھا میں مسلم لیگ کے مقابلے میں ٹوانوں کو شکست ہوئی۔ سجادہ نشین اجمیر شریف نے بھی تمام علما و مشائخ اور گدی نشینوں سے مسلم لیگ کی حمایت کی اپیل کی تھی۔بریلویوں کے تمام مکاتب فکر نے تحریک پاکستان کی غیر مشروط حمایت کی۔ بریلوی علما میں نمایاں شخصیات جنہوں نے تحریک پاکستان میں کردار ادا کیا ان میں مولانا نعیم الدین، مولانا عبدالحسنات، مولانا غلام محمد ترنّم، مفتی غلام محی الدین، مولانا عبدالغفور ہزاروی، مولانا ثنا اللہ امرتسری، مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹی اور مولانا فضل الٰہی وزیر آبادی شامل ہیں۔ علما و مشائخ کے مثبت کردار نے مکمل طور پر تحریک پاکستان کا ماحول تبدیل کر دیا اور قائد اعظم کے لیے جو کام نہائیت کٹھن تھا اسے آسان بنا دیا۔ اس طرح محض دعاؤں اور وظیفوں سے نہیں بلکہ علماومشائخ کے بھرپور عملی کردار اور حمایت کی بدولت 14اگست 1947کوپاکستان دنیا کے نقشے پر معرض وجود میں آیا۔