اسلام کے ٹھیکیدار - محمد انس

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اللہ تعالی جس سے بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں اسے دین کی سمجھ ادا کر دیتے ہیں۔ دین کی سمجھ رکھنے یا سمجھنے کی کوشش کرنے والوں کو ہمارے ہاں کئی حلقوں میں مولوی کے عمومی اور اسلام کے ٹھیکیدار کے خصوصی لقب سے پکارا جاتا ہے۔

اسلامی ذہن پر ان الفاظ کے ساتھ پھبتی کسنے والے دو طرح کے لوگ ہیں ایک طرف وہ لوگ ہیں جو فرض کرتے ہیں کہ وہ خود بھی اسلام کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں اور مولویوں سے بڑھ کر جانتے ہیں اس لیے یہ طبقہ اس بات کا مخالف ہے کہ اسلامی تعلیمات کو سمجھنے کے لیے علما سے رجوع کیا جائے، اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جن کی سوچ کے مطابق جدید دور میں جینے کا سب سے پہلا تقاضا یہ ہے اسلامی تعلیمات سے بے رغبتی بلکہ بے زاری اختیار کی جائے۔اور جہاں تک ہو سکے اللہ کے دین میں ڈھکے چھپے لفظوں میں کیڑے نکالے جائیں۔ آخر دنیا چاند پر پہنچ چکی ہے اور مولوی ابھی تک چودہ سو سال پرانی باتوں کو سینے سے لگائے بیٹھا ہے 🙂

حیرانی کی بات یہ ہے کہ ایک ڈاکٹر کو صحت کا، ایک پائلٹ کو پرواز کا، ایک جج کو انصاف کا، ایک وکیل کو وکالت کا، ایک صحافی کو خبرکا، ایک فلسفی کو حقیقت کا، ایک سائنس دان کو سائنس کا، ایک محقق کو تحقیق کا، ایک پڑھے لکھے آدمی کو علم کا، ایک دانشور کو عقل و دانش کا، حتی کہ ایک گلوکار کو گانے کا اور ایک اداکار کو اداکاری کا ٹھیکیدار نہیں کہا جاتا یا کم از کم اتنے تواتر سے نہیں کہا جاتا۔ لیکن ایک عالم دین بے چارہ زندگی کے کچھ سال دینی تعلیم کے لیے وقف کر کے ایسی سنگین غلطی کر بیٹھتا ہے کہ اسلام کے ٹھیکیدار کی پھبتی اس پر ہمیشہ کے لیے چسپاں کر دی جاتی ہے۔

دستور دنیاہے کہ کسی بھی شعبہ زندگی میں مشکل پیش آنے کی صورت میں رہنمائی کے لیے متعلقہ شعبے کے ماہرین سے رجوع کیا جاتا ہے۔ مگر جب دینی معاملات میں رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے تو ہر لال بجھکڑ مجتہد عصر بننے کی کوشش لا حاصل کرتا ہے۔ اور جس نے زندگی میں ایک مرتبہ ناظرہ قرآن بھی محلے کی آپا جی سے پڑھا تھا وہ بھی ایسی ایسی خامہ فرسائی کرے گا کہ الحفیظ اور الامان۔اور جس کی بات کو لاپروائی بلکہ تکبر سے رد کیا جائے گا وہ بے چارہ مولوی ہو گا جس کا مقصد زندگی ہی دینی تعلیمات سیکھنا اور سکھانا ہے۔ حقیقت مخالف یہ رویہ بتاتا ہے کہ ہم دینی معاملات میں مسائل کا سنجیدہ حل ڈھونڈنا ہی نہیں چاہ رہے ہوتے بلکہ سارے ماحول کو شور و غل سے ایک نقار خانہ بنا کر مسئلے کو نا قابل حل دکھانا ہی ہمارا مقصد ہوتا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا اس کارروائی میں زیادہ مہارت رکھتا ہے۔

قارئین یہ سوچنے میں حق بجانب ہیں کہ اپنی تحقیر اور تنقیص کے لیے مولوی خود بھی ذمے دار ہیں کیونکہ ان کی اکثریت نہ صرف دنیاوی علوم سے بے بہرہ ہے بلکہ دینی علوم میں بھی وہ کمال نہیں رکھتی جس کا حالات تقاضا کرتے ہیں۔ اس طرح کے علما کی مثالیں دیہات اور پسماندہ علاقوں میں کثرت سے ملتی ہیں لیکن اگر ہم سنار کے ترازو سے اناج کی بوریاں تولنے کا رویّہ چھوڑ کر سوچیں تو حقیقت سمجھنے میں دشواری نہیں ہوتی۔عموماً مساجد میں آئمہ و خطبا کا تقرر امامت، جمعہ و عیدین کی خطابت اور ناظرہ یا حفظ قرآن کروانے کے لیے ہی کیا جاتا ہے۔ اپنی ان ذمہ داریوں کو علما پوری تندہی سے ادا کرتے ہیں۔ جہاں تک دین اسلام کے گہرے فہم اور جدید دور کے مسائل سے عہدہ برآ ہونے کا تعلق ہے تو علما کا ایک معتد بہ حصہ ان چیزوں سے پوری گیرائی اور گہرائی سے واقف ہے۔ اور ایسے علما اور ان کی گرانقدر تصنیفات کی ایک لمبی لسٹ بیان کی جا سکتی ہے۔ لیکن اصحاب الشمال (لیفٹسٹ/روشن خیال/سیکولر/لبرل لوگ) ان خدمات کا ذکر تک سننا گوارا نہیں کرتے۔

علما کی لا علمی، کج فہمی اور بے بضاعتی کا پرچار کرنے والے اگر تنقید برائے تعمیر کرتے ہیں تو اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنی زندگی کے کچھ قیمتی سال دین کی تعلیم کے لیے وقف کریں اور پھر مولویوں کو عملا بتائیں کہ عالم دین ایسا ہونا چاہئے۔ یا پھر اپنے ایک ذہین بچے کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم سے بھی آراستہ کریں(جسمانی معذور اور سکول سے بھاگے بچوں کو مدرسے میں داخل کروا دینا تو ایک عام رواج ہے) اور حقیقت واضح کریں کہ آپ کی تنقید مولوی پر تھی اسلام پر نہ تھی۔