دو قومی نظریہ اور قائد اعظم - ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

مسلم اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں جن کا دین و مذہب، تہذیب، زبان، ثقافت، منبع علم، تاریخ غرض سب کچھ مختلف ہے۔ کروڑوں مسلمانوں کو اقلیت قرار دے کر ہمیشہ کے لیے ہندو غلامی میں دے دیا جائے، یہ ہندوستان میں مسلمانوں کی مکمل تباہی کا سبب ہوگا۔ لہذا مسلمانوں کو ہندوستان کی تقسیم اور مسلم اکثریت کے علاقوں میں ایک ایسی ریاست کے حصول کے لیے کوشش کرنی چاہیے جہاں وہ اسلام کے بنیادی اصولوں کے مطابق قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی زندگی گزار سکیں اور عالم کے لیے ایک مثال قائم کر سکیں۔ اسے ’’دو قومی نظریہ‘‘ کہا جاتا ہے جو پاکستان کی اساس ہے۔ اسی کا اعلان مسلمان
یا ایھا الکافرون لا اعبد ما تعبدون
’’اے کافرو! میں اس کی عبادت نہیں کرتا جس کی تم عبادت کرتے ہو۔‘‘ میں کرتے ہیں
اور اسی تقسیم کے بارے میں اللہ رب العزت فرماتا ہے:
ھو الذی خلقکم فمنکم کافر و منکم مؤمن و اللہ بما تعملون بصیر
’’وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، پس تم میں سے ﴿کوئی ﴾کا فر ہو گیا اور تم میں سے ﴿کوئی﴾ مؤمن ہوگیا۔‘‘

امن کی آشا کی ترویج کے لیے تاریخ کی مسخ صورت نئی نسل کو دکھانے کے لیے کہا جاتا ہے کہ ''دو قومی نظریہ کوئی چیز نہیں۔ اس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ پاکستان محض اس لیے وجود میں آیا کہ یہاں تمام مذاہب کے لوگ اپنے اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزاریں۔ دو قومی نظریہ غیر ضروری بلکہ مضر ہے۔ اس ملک میں نعوذ باللہ فساد کی بنیاد اسلام ہے۔ اس نظریہ کی وجہ سے غیر مسلموں کے حقوق پامال ہوتے ہیں۔ قرار داد پاکستان میں کہیں بھی دو قومی نظریے کی بات نہیں کی گئی۔ اس لیے اس ریاست کو نظریاتی طور پر بھی لا دین بنا دینا چاہیے۔'' جبکہ حق یہ ہے کہ دو قومی نظریہ پاکستان کی بنیاد ہے اور یہ اس وقت بھی تھا جب پاکستان کے قیام کے وقت یہاں غیرمسلم آباد تھے۔ آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ قائد اس بارے میں کیا فرماتے ہیں۔
قائد اعظم نے بمبئی میں 14 اگست 1924ء کواپنے ایک خصوصی انٹرویو میں فرمایا جو آپ نے "Daily Herald" of London کو دیا :
"No. the gulf between Hindus and Muslims is too great ever to be bridged. How can you get toghether with people who will not eat under the same roof? Can you? Or let me put it this way: Hindus want to worship the cow while the Muslims want to eat it. Where can there be any compromise?"
’’نہیں!مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان خلیج اس قدر وسیع ہے کہ اسے کبھی بھی پاٹا جا سکتا ہو۔آپ ان لوگوں کو ایک ساتھ اکٹھا کر سکتے ہیں جو ایک چھت کے نیچے کھانا کھانے کے لیے تیار نہیں؟کیا آپ کر سکتے ہیں؟یا مجھے یہ بات اس طرح کہنے دیں کہ ہندو گائے کی عبادت کرنا چاہتے ہیں جبکہ مسلمان اس کو کھانا چاہتے ہیں۔پھر مصالحت کہاں ہو سکتی ہے؟‘‘

مارچ 1940ء کو لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تاریخی جلسے سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا:
"It is extremely difficult to appreciate why our Hindu friends fail to understand the real nature of Islam and Hinduism. They are not religions in the strict sense of the word, but are, in fact, different and distinct social orders, and it is a dream that the Hindus and Muslims can ever evolve a common nationality, and this misconception of one Indian nation has gone far beyond the limits and is the cause of more of our troubles and will lead India to destruction if we fail to revise our notions in time. The Hindus and Muslims belong to two different religious philosophies, social customs, and literatures. They neither intermarry nor interdine together, and indeed they belong to two different civilisations which are based mainly on conflicting ideas and conceptions. Their aspects on life, and of life, are different. It is quite clear that Hindus and Mussalmans derive their inspiration from different sources of history. They have different epics, their heroes are different, and different episodes. Very often the hero of one is a foe of the other, and likewise their victories and defeats overlap. To yoke together two such nations under a single state, one as a numerical minority and the other as a majority, must lead to growing discontent, and final destruction of any fabric that may be so built up for the government of such a state."
اس بات کی حوصلہ افزائی کرنا انتہائی مشکل ہے کہ ہمارے ہندو دوست اسلام اور ہندو مت کی حقیقی فطرت سمجھنے سے قاصر کیوں ہیں۔یہ محض الفاظ کی خصوصیت کے اعتبار سے مذاہب نہیں۔بلکہ در حقیقت مختلف اور امتیازی سماجی نظم و ضبط ہیں۔اور یہ ایک خواب ہی ہے کہ ہندو اور مسلمان ایک یکساں قومیت کو ترقی دے سکتے ہیں۔اور ایک ہندوستانی قوم کا غلط تصور حدود سے تجاوز کر گیا ہے اور ہماری زیادہ تر مشکلات کا سبب ہے اور یہ انڈیا کو تباہی کی طرف لے جائے گا اگر ہم اپنے نظریات پر بر وقت نظر ثانی کرنے میں ناکام رہے۔ ہندواور مسلمان دو علیحدہ مذہبی فلسفوں، معاشرتی روایات اور ادب سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ نہ ہی باہم شادیاں کرتے ہیں اور نہ ہی ساتھ کھانا کھاتے ہیں۔اور در حقیقت یہ دو مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں جس کی بنیادی طور پر اساس مختلف تصورات پر ہے۔زندگی پر اور زندگی کے بارے میں ان کے پہلو مختلف ہیں۔یہ قطعی طور پر واضح ہے کہ ہندو اور مسلمان تا ریخ کے مختلف سر چشموں سے فیض حاصل کرتے ہیں۔ان کی اپنی علیحدہ رزمیہ روایات ہیں،ان کے محبوب و مقبول اور سلسلہ واقعات الگ الگ ہیں۔زیادہ تر ایسا ہی ہے کہ ایک کا محبوب دوسرے کا دشمن ہے اور اس طرح ان کی فتوحات اور شکستیں متراکب ہیں۔ یقینی طورایسی دو اقوام کو ایک ریاست کے تحت ملا دینا ایک کو عددی اقلیت اور دوسری کو اکثریت کے طور پر، بڑھتے ہوئے اضطراب اور اس معاشرتی ڈھانچے کی مکمل تباہی کی طرف لے جائے گاجو ایسی ریاست کی حکومت کے لیے بنایا گیا ہو۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   کچھ تلخ تاریخی حقائق؟ ڈاکٹر صفدر محمود

اپنے ایک مضمون Western Democracy un-suited for India میں قائد اعظم نے 19 جنوری 1940ء میں لکھا :
"The British people must realise that Hinduism and Islam represent two distinct and seperate civilization and moreover, are as distinct from one another on origin, tradition and manner of life as are the nations of Europe. They are, infact two different nations."
’’برطانوی قوم کو ضرور محسوس کرنا چاہیے کہ ہندو مت اور اسلام دو علیحدہ اور امتیازی تہذیبیں ہیں ۔مزید براں کہ ایک دوسرے سے اپنی ابتدائی روایات ،طریق زندگی میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔جیسا کہ یورپی اقوام۔یہ در حقیقت دو علیحدہ اقوام ہیں ۔‘‘

19 فروری 1948ء کو آسٹریلیا کے لوگوں کے نام اپنے ایک نشری پیغام میں فرمایا:
"West Pakistan is separated from East Pakistan by about a thousand miles of the territory of India. The first question a student from abroad should ask himself is how can this be? How can there be unity of government between areas so widely separated? I can answer this question in one word. It is “faith”: faith in Almighty God....The great majority of us are Muslims. We follow the teachings of the Prophet Mohammed (may peace be upon him). We are members of the brotherhood of Islam in which all are equal in rights, dignity and self-respect. Consequently, we have a special and a very deep sense of unity. But make no mistake: Pakistan is not a theocracy or anything like it. Islam demands from us the tolerance of other creeds and we welcome in closest association with us all those who, of whatever creed, are themselves willing and ready to play their part as true and loyal citizens of Pakistan."
’’مغربی پاکستان مشرقی پاکستان سے انڈیا کے تقریباً ایک ہزار میل سے زائد علاقے سے علیحدہ ہے۔باہر کے ایک طالب علم کو سب سے پہلا سوال یہ پوچھنا چاہیے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟کس طرح سے دو انتہائی وسیع طور پر علیحدہ علاقے ایک ریاستی وحدت کے تحت ہو سکتے ہیں؟میں اس کا جواب ایک لفظ میں دے سکتا ہوں۔یہ ’’ایمان‘‘ہے۔اللہ پر ایمان۔ ہم میں اکثریت مسلمانوں کی ہے ۔ہم محمد رسول اللہ ﷺکی تعلیمات کی اتباع کرتے ہیں ۔ہم اسلامی اخوت کے رکن ہیں جس میں تمام لوگ حقوق ،عظمت اور عزت نفس میں برابر ہیں۔نتیجتاً ہمارے اندر ایک خصوصی اور انتہائی عمیق اتحاد ہے۔لیکن اس میں غلطی نہیں کرنا؛پاکستان ایک پاپائیت یا اس طرح کی کوئی چیز نہیں۔ اسلام ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم دوسروں کے عقائد کو برداشت کریں اور ہم اپنے ساتھ قریبی رفاقت رکھنے والوں کو خوش آمدیدکہتے ہیں جو چاہے کسی بھی عقیدے کے ہوں اور وہ خود راضی ہوں اور تیار ہوں پاکستان کے ایک سچے اور وفادار شہری کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   بھارت اپنا ہائی کمشنر واپس بلا لے - پاکستان نے پیغام دے دیا

پاکستان کا مطلب اسلامک آئیڈیولوجی ہے
12جنوری 1945ء کو مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کانفرنس ،پشاور سے ایک پیغام میں فرمایا:
"Only one course open to Musalmans" - "To fight for Pakistan, to live for Pakistan"
I have often made it clear that if the Musalmans wish to live as honourable and free people, there is only one course open to them, to fight for Pakistan, to live for Pakistan and, if necessary, to die f or the achievement of Pakistan, or else, Muslims and Islam is [sic] doomed.........Pakistan not only means freedom and independence but Islamic Ideology which has to be preserved, which has come to us as a precious gift and a treasure, which, we hope, others will share with us."

’’میں نے اکثر اس کی وضاحت کی ہے کہ اگر مسلمان ایک با عزت اور آزاد قوم کی طرح زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو ان کے لیے ایک ہی راستہ کھلا ہے وہ یہ کہ پاکستان کے لیے لڑیں،پاکستان کے لیے زندہ رہیں اور اگر ضروری ہو تو پاکستان کے حصول کے لیے مر جائیںیا پھر مسلمان اور اسلام تباہی کو پہنچیں گے۔پاکستان کا مطلب محض آزادی نہیں بلکہ ’’اسلامک آئیڈیولوجی‘‘یعنی اسلامی نظریہ ہے جس کی حفاظت کرنی ہے جو ہم تک ایک قیمتی اثاثہ کے طور پر پہنچی ہے۔جس کے بارے میں ہم امید کرتے ہیں کہ دوسرے ہمارے ساتھ اس میں حصہ دار بنیں گے۔‘‘

Comments

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی شعبہ علوم اسلامیہ، جامعہ کراچی میں اسسٹنٹ پروفیسر اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف ٹی وی چینلز پر اسلام کے مختلف موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ علوم دینیہ کے علاوہ تقابل ادیان، نظریہ پاکستان اور حالات حاضرہ دلچسپی کے موضوعات ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.