نواز شریف، ایک تقریر جو نہ ہو سکی - محمد اشفاق

میرے عزیز ہم وطنو، السلام علیکم!

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے متفقہ فیصلے کے نتیجے میں وزیراعظم کے منصب سے سبکدوش ہونے کے بعد نواز شریف آپ کی عدالت میں حاضر ہے۔ ( پرجوش نعرے، تالیاں، سپیکر پر سیاسی ترانے)

میرے بھائیو، دوستو اور بزرگو!
میں آج کچھ بہت اہم اعلانات کرنے جا رہا ہوں، اس لیے میری درخواست ہے کہ نعروں اور گانوں کا سلسلہ بند کر دیا جائے، آپ سب کے توسط سے میں پوری قوم سے آج کچھ دل کی باتیں کہنا چاہتا ہوں، جو جانے کب سے دل میں رکھے ہوئے ہوں۔ (سرگوشیوں کی بھنبھناہٹ، سٹیج سے عوام کو خاموش ہونے کے اشارے، ڈی جے کے سپیکر بند)

عدالت سے سزا سنائے جانے کے باوجود جس طرح جوق درجوق آپ لوگ مجھے دیکھنے اور سننے کے لیے تشریف لائے ہیں، اس پر میں آپ سب کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔ سیاستدانوں کی طاقت کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں، اور آج بہت عرصے بعد خود کو آپ میں پا کر یقین جانیں، میں خود کو بہت طاقتور محسوس کر رہا ہوں۔ آپ کی اس محبت، اس اعتماد، اس پذیرائی نے مجھے حوصلہ بخشا ہے کہ میں کچھ اعترافات کر سکوں۔

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے کچھ معاملات میں میرے، میرے خاندان اور متعلقہ افراد کے خلاف نیب کو ریفرنس بھیجنے کی جو ہدایت کی ہے، میں اس سے کلّی اتفاق کرتا اور اس فیصلے کو دل سے قبول کرتا ہوں۔ مجھے اعتراف ہے کہ پانامہ کا معاملہ شروع ہونے کے بعد سے آج تک عوام، جے آئی ٹی اور عدالت میں، میں اور میرا خاندان بہت سے سوالوں کے جواب دینے میں ناکام رہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ نیب اور احتساب عدالت میں ہم اپنا بھرپور قانونی دفاع کریں گے۔ جے آئی ٹی کی تشکیل سے لے کر اس کی فائنل رپورٹ تک بہت سے معاملات ایسے ہیں، جن کی وجہ سے ہمیں جے آئی ٹی کی نیت اور طریق کار پر سنگین تحفظات ہیں۔ تاہم میرا، میرے خاندان اور میری جماعت کا یہ سوچا سمجھا فیصلہ ہے کہ ہم جے آئی ٹی کی رپورٹ میں اٹھائے گئے تمام نکات اور ان سے متعلقہ معاملات میں کھلے دل کے ساتھ نیب سے تعاون کریں گے، اور عدالتوں میں ایک عام شہری کی حیثیت سے خود کو حاصل تمام حقوق کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے قانونی طور پر اپنا دفاع کریں گے۔ ہمیں عدالت کا ہر فیصلہ خوشدلی سے قبول ہوگا۔ (عوام کی پرجوش تالیاں، سٹیج سے خاموشی کی اپیل)

میرے ساتھیو!
سپریم کورٹ نے جس بنیاد پر مجھے نااہل قرار دیا ہے، اس پر صرف مجھے یا میری جماعت ہی کو نہیں، بلکہ پاکستان کے قانون دان طبقے، اکاؤنٹنگ، ٹیکس اور کارپوریٹ لاز کے ماہرین، بین الاقوامی تجزیہ نگاروں سمیت آپ کی ایک بڑی تعداد کو بھی سنجیدہ تحفظات ہیں۔ کاش کہ سپریم کورٹ اس معاملے کو بھی مزید تحقیقات کے لیے نیب کے حوالے کر دیتی، کاش کہ نگران جج کی تعیناتی کی نادر مثال قائم نہ کی جاتی۔ مگر جب یہ فیصلہ آ ہی گیا تو آپ سب گواہ ہیں کہ میں نے بلا حیل و حجت اسی روز پرائم منسٹر ہاؤس خالی کر دیا۔ اس فیصلے پر نظرِثانی اور لارجر بنچ کی تشکیل کی درخواست کرنا میرا آئینی اور قانونی حق ہے، اور ہمارے قانونی ماہرین کی ٹیم ریویو پیٹیشن تیار کرنے میں مصروف ہے۔ ہم وزیراعظم کے منصب اور آپ کے مینڈیٹ کے وقار کی بحالی کے لیے اپنی آئینی اور قانونی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

جیسا کہ میں نے عرض کیا، طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں، آپ کا مینڈیٹ ہم سیاستدانوں کو ملک کے اعلیٰ ترین مناصب پر فائز کرتا ہے اور ہم سب، ہر وقت، ہر معاملے میں اللہ کے بعد آپ کو اور ملکی قوانین کو جوابدہ ہیں۔ آج کے دن میں سب سے پہلے یہ اعتراف کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں انفرادی طور پر اور ہم سیاستدان بحیثیتِ مجموعی بھی آپ کے اس اعتماد پر پورا اترنے میں ناکام رہے ہیں۔

میرے ہم وطنو!
قائد ملت لیاقت علی خان کی اسی جگہ جہاں میں آپ سے خطاب کر رہا ہوں، شہادت کے بعد ملک پر پہلے گورنرجنرل غلام محمد اور پھر سکندر مرزا کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ کا قبضہ ہوگیا۔ ہماری اس وقت کی سیاسی قیادت نے اپنی نالائقی اور نااہلی سے اسٹیبلشمنٹ کو یہ موقع فراہم کیا۔ نو سال ہماری دستورساز اسمبلی ملک کو آئین دینے میں ناکام رہی، اور ابھی آئین سازی ہوئے دو برس بھی نہیں گزرے تھے کہ ایک فوجی طالع آزما نے آئین اپنے بوٹوں تلے روند کر ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔ اس مارشل لاء نے ہمیں ایک عالمی طاقت کا گماشتہ بنا کر رکھ دیا، ہمارے ملک کے ایک بازو یعنی مشرقی پاکستان کی محرومیوں اور تحفظات کا ازالہ کرنے کے بجائے ان پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا گیا جس نے ملک ٹوٹنے کی راہ ہموار کر دی، مجھے اعتراف ہے کہ تاریخ کے اس بھیانک موڑ پر بھی ہمارے اس وقت کے سیاستدان اقتدار کی جنگ میں الجھے رہے اور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہوتے رہے۔

میرے بھائیو اور بہنو!
اپنا آدھا ملک گنوا کر بھی ہمیں ہوش نہ آیا، سانحہ مشرقی پاکستان پر بننے والے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کرنے اور ذمہ دار فوجی و سویلین قیادت کو عبرتناک سزا دینے کے بجائے اس رپورٹ کو جرنیلوں کے ساتھ سودے بازی کے لیے استعمال کیا گیا۔ ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم ملک کو متفقہ آئین، ایٹمی پروگرام اور کئی اہم ادارے دینے کے باوجود اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کے بجائے اسے طاقت کے زور پر دبانے کی پالیسی پر عمل پیرا رہے۔ ہم سیاستدانوں کی اس چپقلش نے ایک اور اقتدار کے بھوکے جرنیل کو عوام کی حاکمیت پر شب خون مارنے کا موقع فراہم کیا، اور ملک ایوب اور یحیٰ کے بعد تیسرے آمر کے جبرواستبداد کا شکار ہوگیا۔

میرے ساتھیو اور ہم وطنو!
میں یہاں آپ کو مطالعہ پاکستان پر لیکچر دینے نہیں آیا۔ میرے ان باتوں کو دہرانے کا مقصد صرف آپ پر کچھ حقیقتیں واضح کرنا ہے۔ آج میں یہاں آپ سب کے سامنے یہ اعتراف کرتا ہوں، کہ مجھے سیاست میں لانے والا ایک حاضر سروس جنرل تھا، میری سرپرستی کرنے والا ملک کا فوجی آمر مطلق تھا۔ میں سیاست میں نووارد تھا، میں نے ملک کے طاقتور ترین ادارے کا دستِ شفقت میسر آ جانے کو اپنی خوش نصیبی سمجھا اور خود اپنی جماعت کے سربراہ اور انتہائی شریف النفس اور بااصول سیاستدان مرحوم محمد خان جونیجو کی برطرفی اور پارٹی میں ان کے خلاف بغاوت میں شریک رہا۔ ( سٹیج پر سراسیمگی، عوام میں سناٹا)

آج میں یہ اعتراف بھی کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ دیگر جماعتوں کے سربراہان بھی اس بات کی تائید کریں گے کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی کے خلاف نو جماعتوں پر مشتمل آئی جے آئی نامی سیاسی اتحاد فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی نے تشکیل دیا تھا۔ میں یہ اعتراف بھی کرتا ہوں کہ ہم سب کو انتخابی مہم کے لیے بھاری رقوم بھی اس ادارے نے دی تھیں۔ بہت بوجھل دل کے ساتھ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ انتخابی مہم میں محترمہ نصرت بھٹو اور محترمہ بینظیربھٹو کی گھٹیا کردارکشی کی مہم کے لیے مواد بھی ہمیں خفیہ ادارے نے دیا تھا اور میں، میری جماعت اور ہمارا نو ستاروں پر مشتمل انتخابی اتحاد اس شرمناک پراپیگنڈے کو پھیلانے میں استعمال ہوا۔

میری بہنو، بھائیو، دوستو اور بزرگو!
نوّے کی دہائی میں محترمہ اور میں دونوں دو دو بار برسراقتدار آئے۔ دونوں مرتبہ ہمیں ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا گیا۔ ملک کے طاقتورترین ادارے کی خوشنودی حاصل کرنے اور اپنے اقتدار کی راہ ہموار کرنے کے لیے ہم دونوں اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں کھیلتے رہے۔ یہاں تک کہ میں آپ کی حمایت سے دو تہائی اکثریت لے کر دوسری مرتبہ اقتدار میں آیا۔ اس دور میں بھی مجھ سے کچھ بڑی غلطیاں ہوئیں، ملک کو ایٹمی طاقت بنا دینے کے باوجود میں اسے ایک معاشی طاقت بنانے میں ناکام رہا، مگر میری حکومت کا تختہ الٹنے کا ملک کے چوتھے آمر کے پاس کوئی اخلاقی، قانونی اور آئینی جواز نہیں تھا۔ ملک ایک بار پھر آمریت کے بھیانک سائے تلے آ گیا، یہ سیاہ دور ختم ہوئے ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا، مجھے وہ سب دہرانے کی ضرورت نہیں جو ان دس سالوں میں اس ملک کے ساتھ کیا گیا۔ ہم سیاستدانوں نے اپنی بہت سی غلطیوں کو مانا، سمجھا اور ان کا اعادہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ میثاقِ جمہوریت اس سلسلے کا ایک اہم قدم تھا۔ جب محترمہ بینظیر بھٹو نے وطن واپس آ کر اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں پر عمل کرنے کی یقین دہانی نہ کروائی اور بندوق کے بجائے عوام کی طاقت پر بھروسہ کیا تو اسی لیاقت باغ میں انہیں بھی بےدردی سے شہید کر دیا گیا۔ پیپلز پارٹی برسراقتدار آئی تو جابجا اس کی راہ میں کیری لوگر بل اور میمو گیٹ جیسی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، میں نے بزوربازو پیپلز پارٹی کو ہٹانے کی ہر کوشش کی حوصلہ شکنی کی مگر کئی مواقع پر اسے دباؤ میں لانے میں میری جماعت نے بھی منفی کردار ادا کیا۔ آج میں برملا اعتراف کرتا ہوں کہ میمو گیٹ کیس میں کالا کوٹ پہن کر میرا سپریم کورٹ میں جانا، اور پھر محترم سید یوسف رضا گیلانی کی عدالت سے برطرفی کا فیصلہ قطعی غلط اور ملک کے سب سے بڑے منصف کی اناپرستی کا نتیجہ تھا۔ اس فیصلے کی حمایت میری بہت بڑی غلطی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   ورکشاپ کا چھوٹا - سید طلعت حسین

(اس وقت تک پورے ملک میں ایک سنسنی کا عالم پھیل چکا ہے، رات کا پچھلا پہر ہونے کے باوجود ہزاروں لوگ لیاقت باغ اور کروڑوں افراد اپنے ٹی وی سکرینز پر سابق وزیراعظم کی تقریر دم سادھے سن رہے ہیں، سوئے ہوؤں کو کالیں اور میسج کر کے جگایا جا رہا ہے، طاقتور اداروں، میڈیا اور عوام سب کو احساس ہو گیا ہے کہ نواز شریف آج بہت غیرمعمولی خطاب کر رہے ہیں، بین الاقوامی ذرائع ابلاغ بھی اچانک اس تقریر کو بھرپور کوریج دینے لگے ہیں )

میرے بہنو اور بھائیو!
آج جب چار سال بعد مجھے ایک بار پھر اپنی میعاد پوری کیے بغیر وزیراعظم ہاؤس سے نکلنا پڑا ہے تو آپ کے پاس آنا میری مجبوری تھی، مجھے آخری اعتراف یہ کرنا ہے کہ میں بھی اور میرے پیشرو تمام وزرائے اعظم بھی اقتدار میں عوام سے کٹ کر رہ جایا کرتے تھے، سرکاری منصب کی مصروفیات کے علاوہ یہ سول اور ملٹری بیوروکریسی، خفیہ ایجنسیوں، ہمارے نادان مشیروں اور خاندان کے لالچی افراد کا گھیرا ہوتا ہے جو ہمیں آپ کے قریب نہیں آنے دیتا۔ آج یہ گھیرا ٹوٹ چکا ہے، آج ریلی کے لیے پنجاب ہاؤس سے نکلنے سے پہلے میں نے ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے ذاتی طور پر رابطے کیے اور انھیں اس خطاب کے بارے میں اعتماد میں لیا۔ مجھے خوشی ہے کہ جناب مولانا فضل الرحمان، جناب محمود اچکزئی، جناب اسفند یار ولی اور جناب فاروق ستار نے مجھے اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا ہے، جناب آصف علی زرداری نے جمہوریت اور سویلین بالادستی کی جنگ میں میرے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا وعدہ کیا ہے، جناب سراج الحق صاحب جماعتی مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے اور جناب عمران خان صاحب کا بھی میں مشکور ہوں کہ انہوں نے میری گزارشات پر غور کرنے کا یقین دلایا ہے۔ میرا آج کا خطاب نون لیگ کے سربراہ کا نہیں ملک کے سینئر ترین سیاستدان کا خطاب ہے، میں آج یہاں ملک کی تمام سیاسی قیادت کی نمائندگی کر رہا ہوں۔

(جلوس کے شرکاء میں جوش و خروش کی ایسی لہر دوڑ گئی کہ سٹیج سے بار بار کی اپیلوں کے باوجود کئی منٹ نواز شریف خطاب دوبارہ شروع نہ کر سکے۔ گھروں میں بیٹھے عوام کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک ابھر آئی، وہ خوشگوار حیرت سے یہ سب سن اور دیکھ رہے ہیں)

میرے ہم وطنو، میرے ساتھیو!
کچھ دیر کے لیے خاموش ہو جائیے، ابھی مجھے اور بہت کچھ کہنا ہے۔ میں نے اپنے خطاب کے لیے بہت سوچ سمجھ کر لیاقت باغ، راولپنڈی کا انتخاب کیا ہے۔ اس مقام پر ہمارے دو منتخب وزرائے اعظم کا لہو گرا ہے، اس شہر میں ہی ہمارے تیسرے منتخب وزیراعظم کو پھانسی ہوئی ہے۔ اسی شہر سے ٹینکوں پر سوار ہو کر چار مرتبہ کچھ کرپٹ جرنیل نکلے اور پورے ملک پر قابض ہو گئے۔ راولپنڈی وہ قبرستان ہے جہاں آپ کے منتخب رہنما دفنائے جاتے ہیں، یہ وہ مقام ہے جہاں سے آپ کے مینڈیٹ کا فوجی بینڈ باجے کے ساتھ جنازہ نکلتا ہے۔ اس شہر کے عوام نے ہر انتخاب میں آمر کی حمایتی جماعت کو ہرایا ہے مگر اس شہر میں آ کر جمہوریت ہمیشہ ہار جاتی ہے۔ آخر کیوں؟

میرے بھائیو، بزرگو، بہنو، بیٹے اور بیٹیو!
ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے لے کر آج کے دن تک ملک کی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں پر کسی منتخب وزیراعظم کا کوئی اختیار نہیں رہا۔ جی ہاں، میں اک بار پھر دہرا رہا ہوں، چالیس برس سے منتخب وزیراعظم دفاع اور خارجہ امور پر راولپنڈی سے ڈکٹیشن لیتے آئے ہیں۔ ہم سے اقتصادی میدان میں معجزوں کی توقع باندھی جاتی ہے، مگر بھائیو اور بہنو! آج کی دنیا میں معیشت اور سیاست باہم یوں پیوست ہو چکی ہیں کہ ملک کی طویل المیعاد اقتصادی پالیسی کی تیاری اور نفاذ، برامدات کا فروغ، بجٹ اہداف کا حصول، روزگار اور معاش کے ذرائع میں اضافہ، انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ، ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات کا تحفظ، ملک کو اقوام عالم میں ایک نمایاں اور ممتاز مقام دلانا، اس وقت تک ممکن ہی نہیں جب تک سویلین قیادت کو خارجہ تعلقات اور دفاع کے ضمن میں فیصلہ سازی کا اختیار نہ دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ مجھ سمیت تمام سویلین حکومتیں ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر ملک چلاتی رہی ہیں۔ ہم پر الزامات لگا کر برسراقتدار آنے والے طالع آزما جرنیل ہر بار ملک کو ایسے حالات میں پھنسا کر اقتدار چھوڑتے ہیں جہاں ہمیں بین الاقوامی اداروں اور غیرممالک کی امداد کا دست نگر بننا پڑتا ہے اور اس کے بعد ہم پر ہی مغرب اور امریکا کی غلامی کا الزام لگایا جاتا ہے، سویلین قیادت سکیورٹی رسک اور امریکی ایجنٹ قرار پاتی ہے۔ میرے بہنو اور بھائیو! اپنے گزشتہ چند سالوں میں ریٹائر ہونے والے فوج اور خفیہ اداروں کے سربراہان کی سرگرمیاں دیکھیں، وہ ملازمت کہاں کر رہے ہیں، وہ لیکچر کہاں دے رہے ہیں، وہ تھنک ٹینک کہاں چلا رہے ہیں، تو آپ کو خود سمجھ آ جائے گی کہ امریکا اور مغرب کا غلام کون ہے؟

میرے ہم وطنو!
المیہ یہ ہے کہ آپ کے ووٹوں سے ہمیں پروٹوکول تو ملتا ہے، اختیار نہیں۔ اور یہ پروٹوکول بھی چند برسوں بعد کسی نہ کسی بہانے چھین کر اپنے لیے مخصوص کر لیا جاتا ہے۔ فوج کی بندوقوں کے مقابلے میں ہمارا سہارا صرف ججوں کا قلم ہوتا ہے اور آپ ملک کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے، صرف ایک بار میری حکومت کی چند ماہ بحالی کے علاوہ ہماری اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلے کس کے حق میں آئے ہیں؟ یہاں تو آمر کے اقتدار پر غاصبانہ قبضے کو سندِ جواز بخشنے کے علاوہ اسے ملک کے آئین کے ساتھ اپنا من چاہا کھلواڑ کرنے کی بھی خصوصی اجازت دے دی جاتی ہے، اور دوسری طرف ملک کی پارلیمنٹ کے بنائے قوانین اور آئینی ترامیم بھی رد کر دی جاتی ہیں۔

میرے ہم وطنو!
ہم سیاستدانوں میں فرشتہ کوئی بھی نہیں ہے، ہم سب آپ میں سے ہیں اور آپ ہی کی طرح خطاکار انسان ہیں۔ مگر وقتاً فوقتاً ہمارے احتساب کا نعرہ لگانے والوں کی اپنی کارکردگی دیکھیے۔ اگر سویلین ادارے چند ریٹائرڈ جرنیلوں کے خلاف اربوں کی کرپشن پر کارروائی شروع کرتے ہیں تو راتوں رات ان جرنیلوں کو سروس میں واپس لے لیا جاتا ہے۔ ہمیں ایک ٹویٹ کے ذریعے بتایا جاتا ہے کہ فوج کا اپنا اندرونی نظام احتساب ہے، یہ کیسا نظام احتساب ہے جس میں ستر برسوں میں تین چار افراد کی صرف سروس یا تنخواہ کی ضبطی بہت بڑا تاریخی کارنامہ گردانی جاتی ہے۔ آئین توڑنے، بنیادی شہری حقوق معطل کرنے اور پارلیمان و عدلیہ پر شب خون مارنے والے ریٹائرڈ آمر کو اس کا ادارہ بھرپور تحفظ دیتا ہے، کیا یہی احتساب ہے؟

ہماری عدلیہ پورے ملک اور ہر ادارے کا محاسبہ کرنے کا حق رکھتی ہے مگر ججوں نے اپنے احتساب کو خود اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ شاید آپ جانتے ہوں کہ جس پانامہ کیس میں نواز شریف کے بچوں کے نام آئے ہیں، اسی میں ایک سینئر جج صاحب کی آف شور کمپنی بھی نکلی ہے، ہائی کورٹ کے ایک جج صاحب پیسے لے کر مقدمے کا فیصلہ کرنے کا اعتراف تک فرما چکے مگر سپریم جوڈیشل کونسل ان دونوں کے معاملے میں مہر بلب ہے۔ میرے بھائیو! پارلیمنٹ ملک کا سپریم ادارہ ہے، آپ کے تمام منتخب نمائندے ہر پانچ سال بعد آپ کو، اور ہر گھڑی ملکی قانون کو جوابدہ ہوتے ہیں، جس کا جی چاہتا ہے ایک رٹ یا پیٹیشن دائر کرتا ہے اور عدلیہ حرکت میں آ جاتی ہے۔ ہم کسی قسم کا کوئی استثنیٰ نہیں مانگتے، ہمیں یہ سب خوشدلی سے قبول ہے کہ ہمارے پاس اقتدار اللہ اور عوام کی امانت ہے۔ مگر کیا صرف ہم ہی ریاست، عوام اور قانون کو جوابدہ ہیں؟ کیا دیگر طاقتور ادارے احتساب سے ماورا ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑہ - حبیب الرحمن

میرے بہنو اور بھائیو!
ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آئین کی دفعہ باسٹھ اور تریسٹھ پر پارلیمنٹ، سیاسی جماعتوں، میڈیا اور قانونی ماہرین کے درمیان ایک وسیع البنیاد مشاورت کا سلسلہ شروع کیا جائے، جہاں کہیں ابہام یا سقم پایا جاتا ہے اسے دور کیا جائے۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ نوازشریف اس طرح اپنے اقتدار کی راہ ہموار کر رہا ہے، اس لیے میں اعلان کرتا ہوں کہ آئندہ نہ تو میں خود وزیراعظم کے عہدے کا کبھی امیدوار ہوں گا نہ میری اہلیہ یا میری اولاد۔ (پرجوش تالیاں اور نعرے)

اصول کا تقاضا ہے کہ جس چیز کو میں اپنے لیے درست نہیں سمجھتا، اسے دوسروں کے لیے بھی غلط سمجھوں، اس لیے میں یہاں موجود حنیف عباسی سے کہوں گا کہ وہ جناب عمران خان کے خلاف دائرکردہ اپنی پیٹیشنز واپس لے لیں۔ اسے خان صاحب سیاسی رشوت نہ سمجھیں، یہ صرف اصول کا معاملہ ہے۔ میں نے خان صاحب اور دیگر سیاسی قائدین کے سامنے یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ انتخابی اصلاحات، الیکشن کمیشن کی تشکیلِ نو، بائیو میٹرک انتخابی نظام کے اجراء پر ایک نئی پارلیمانی کمیٹی قائم کی جائے جو ایک ماہ میں پرانی تجاویز کے ساتھ الیکشنوں کے نظام میں مزید اصلاحات کے لیے نئی اور ٹھوس تجاویز پر مبنی سفارشات بھی پیش کرے۔ سیاسی جماعتوں کے اندرونی انتخابات کا بھی صاف ستھرا میکانزم تجویز کیا جائے جس کی نگرانی بھی براہ راست الیکشن کمیشن کرے۔ میری تجویز یہ بھی ہے کہ یہ کام مکمل ہونے کے بعد دسمبر سے پہلے پہلے عام انتخابات کروا دیے جائیں، تاکہ عوام جس کو تازہ مینڈیٹ دیں، وہ نئے سال سے ملک کی بحالی اور تعمیر کا کام شروع کر سکے۔ (ایک مرتبہ پھر فلک شگاف نعرے اور تالیاں)

لیکن نئی منتخب حکومت کے ہاتھ نادیدہ رسیوں سے بندھے نہ ہوں، اس کے لیے آپ کو ہمارا ساتھ دینا پڑے گا۔ میں اپنا کے بجائے ہمارا کا لفظ اس لیے استعمال کر رہا ہوں کہ آج سے یہ ریلی مسلم لیگ کی نہیں، پورے ملک کی سیاسی قیادت کی ریلی ہوگی، اور جی ٹی روڈ پر جہاں جہاں یہ قافلہ رکے گا، ہم نے عمران خان صاحب سمیت تمام سیاسی قیادت کو دعوت دی ہے کہ وہ وہاں خطاب کر کے میری تجاویز پر اپنا مؤقف پیش کریں۔

میرا مطالبہ ہے کہ
1- فوجی قیادت آئی ایس پی آر کے ذریعے اس کے سابقہ سربراہوں کی جانب سے آئین کی پامالی کی مذمت کرے۔
2- عدلیہ کا فل کورٹ ریفرنس ہو جس میں ججز حضرات اعلیٰ عدالت کے ماضی میں آمریت کو جواز بخشنے کے تمام فیصلوں کو غیرآئینی اور غیر قانونی قرار دیں۔
3- فوج اور عدالتوں سمیت قانون سے کسی کو استثنیٰ نہ ہو اور سول قانون نافذ کرنے والے اور احتساب ادارے ہر ٹھوس شکایت پر ججوں اور جرنیلوں کے خلاف بھی اسی طرح کارروائی کر سکیں جس طرح انہیں عوامی نمائندوں کے خلاف کارروائی کی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔
4- خفیہ اداروں کا کام صرف ملکی سلامتی تک محدود ہو، ان میں سیاسی سیل ختم کیے جائیں، قومی اسمبلی اور سینیٹ کی ایک مشترکہ سٹینڈنگ کمیٹی اور سیکرٹری دفاع کو تمام خفیہ ادارے جوابدہ ہوں۔
5- ہم پالیسی سازی کے عمل میں فوج کی شراکت کو یقینی بنانے کے لیے نیشنل ڈیفنس کونسل سمیت کسی بھی ادارے یا کمیٹی کی تشکیل اور اس کے اختیارات بڑھانے کو تیار ہیں۔ مگر تمام معاملات میں فیصلہ سازی اور ذمہ داری صرف اور صرف عوام کے منتخب نمائندوں کی ہوگی۔
6- دفاعی بجٹ کو پارلیمنٹ کے مشترکہ ان کیمرا اجلاس میں زیربحث لایا جائے اور منظور کیا جائے۔ ہم اپنے دفاع کے لیے گھاس کھا کر بھی فوج کی ضروریات پوری کرنے کو تیار ہیں مگر یہ عوام کا حق ہے کہ انہیں علم ہو کہ ان کا پیسہ کہاں اور کیسے خرچ ہو رہا ہے۔
7- فوج بتدریج اپنے درجنوں کاروباری اداروں کو پرائیویٹ سرمایہ کاروں کے ہاتھوں فروخت کرے، اس عمل سے حاصل ہونے والی رقم کے لیے حکومت خصوصی انویسٹمنٹ بانڈز کا اجرا کرے، جس سے حاصل شدہ منافع سے فوج کے صرف سپاہیوں سے لے کر جونئیر کمیشنڈ آفیسرز تک کے لیے ہاوسنگ کالونیاں بنائی جائیں۔ فوج کے بہادر سپاہی ریٹائرمنٹ کے بعد قلیل تنخواہوں پر چوکیداری کریں اور آفیسرز ہاؤسنگ سکیموں سے کروڑوں روپے کمائیں، یہ ملک کے حقیقی محافظوں کے ساتھ زیادتی ہے۔
8- ارکانِ پارلیمنٹ کے لیے لازم ہو کہ وہ حلف اٹھانے سے پہلے پہلے خود کو دیگر تمام نفع بخش کاروبار اور ملازمتوں سے علیحدہ کر لیں۔ اگر حکومتِ پاکستان کی جانب سے دی جانے والی تنخواہ میں کسی کا گزارا ممکن نہیں تو وہ پارلیمنٹ کا ممبر بننے کا خیال ترک کر دے۔
9- وزرائے اعلیٰ، گورنرز، وزیراعظم اور صدر کے ہر طرح کے صوابدیدی فنڈز ختم کر دیے جائیں، اراکین پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی بنائی جائے جو پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کی نگرانی کرے، مگر کسی رکنِ پارلیمنٹ کا کسی ترقیاتی منصوبے میں کوئی عمل دخل نہ ہو۔ تمام منصوبے لوکل باڈیز اور شہری ترقیاتی اداروں کے تعاون سے مکمل کیے جائیں۔ تمام حکومتی سربراہان اور منتخب نمائندوں کے بیرون ملک علاج اور غیرضروری دوروں پر پابندی لگا دی جائے۔ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر دونوں کے لیے پارلیمنٹ میں سال میں پچاس فی صد حاضری ضروری ہو، وزیراعظم کابینہ کے اجلاس کی منظوری کے بغیر کوئی فیصلہ کرنے کا مجاز نہ ہو۔ ملک کے پرنٹ،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے لیے موثر ضابطہ اخلاق تشکیل دیا جائے اور اس پر سختی سے عملدرامد کروایا جائے۔ ٹیکسوں کے نظام میں بنیادی اور انقلابی اصلاحات کر کے ملک کے سوا کروڑ کے قریب ٹیکس دینے کے قابل افراد کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ اس ضمن میں کسی دھونس، دھمکیوں اور احتجاج کو خاطر میں نہ لایا جائے۔
10- میرے بھائیو اور بہنو! ہر منتخب حکومت کو کاروبار مملکت چلانے کے لیے کچھ سخت اور نامقبول فیصلے کرنا پڑتے ہیں، عوام کو تنقید اور جرح کا حق حاصل ہے مگر ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی۔

اگر آپ کو یہ تجاویز قبول ہیں تو سیاسی قیادت کی اس مشترکہ ریلی میں زیادہ سے زیادہ شرکت کر کے ہمارا ساتھ دیجیے۔ یہ ریلی نواز شریف کی نہیں، بلکہ سویلین بالادستی کی بحالی کی جنگ ہے، اور اس جنگ کو ہم صرف آپ کے تعاون سے جیت سکتے ہیں۔ اللہ پاک آپ کا حامی و ناصر ہو، بہت شکریہ۔ پاکستان۔۔۔۔۔زندہ باد!!

بے ساختہ لاکھوں پاکستانیوں کی زبان سے ایک ہی وقت میں نعرہ بلند ہوا، سابق وزیراعظم کا یہ خطاب ایک عہد کے خاتمے کی نوید لیکن ایک روشن اور سنہری مستقبل کی شروعات کی خوشخبری لے کر آیا تھا۔ ٹوئٹر اور فیس بک پر رات کے اس آخری پہر بھی "آئی سٹینڈ وِد ڈیموکریسی" ٹاپ ٹرینڈ بن چکا تھا۔ لوگوں کی ایک واضح اکثریت سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر نواز شریف کے پیش کردہ نکات سے اتفاق کر رہی اور ان کی جرات کو سراہ رہی تھی۔ پاکستان کی ایک نئی اور روشن صبح کا آغاز ہونے جا رہا تھا۔ یکایک پورے ملک کی فضا میں فجر کی اذانیں گونجنے لگیں اور پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔ میری آنکھ کھل گئی۔