جناح تو اقتدار کا بھوکا تھا - محسن حدید

میں اس دن شہر سے عید کے کپڑے لے کر ابھی گھر پہنچا ہی تھا جب ہمارے گھر میں پھر بحث شروع ہوگئی، وہی پرانی بحث۔ میرا بیٹا اس جناح نے نافرمان کر دیا۔ جو بچہ سب سے زیادہ سعادت مند تھا، وہی اب مجھے روز بتاتا تھا کہ اب مجھے ہوشیارپور چھوڑنا ہوگا، میں نے اسے اس دن کے لیے علی گڑھ بھیجا تھا؟ میں ابھی کھانا کھا کر فارغ ہوا ہی تھا، جب وہ مجھے اپنی کہانی سنانے آگیا. اس کی کہانی سن کر میں غصے سے دھاڑا تھا.

''200 ایکڑ زمین ہے ہماری، ایک انگریز بابو کے کہنے پر چھوڑ دیں ہم؟ میرے باپ دادا کی محنت کی کمائی یہ خوبصورت گھر، جو کچھ عرصہ پہلے ہی میں نے اتنی محنت سے بنایا ہے، وہ انگریزی بولنے والا ولایت کا ایجنٹ کیا جانے خاندان ذات برادری زمین پانڈا کیا چیز ہوتی ہے. تقریریں کرنے سے کیا ہوتا ہے؟ اس پنڈ کا چودھری ہوں میں، نئے ملک میں جا کر جو یہ جناح بنانا چاہتا ہے، میری زمین جائیداد اور میری شان وشوکت واپس آجائے گی؟ میں کہیں نہیں جاؤں گا. ساتھ والے قبرستان میں میرے باپ دادا کی قبریں ہیں، ہندو سکھ سارے میری عزت کرتے ہیں، اور میں ایک باتیں بنانے والے شخص کے پیچھے لگ کر سب کچھ گنوا دوں، میں کہیں نہیں جاؤں گا. اور مولانا آزاد کیا پاگل ہیں؟ وہ بھی تو یہیں اسی ملک میں رہنا چاہتے ہیں، پھر دوسرے بہت سے علماء تو اس شخص کو کافر کہتے ہیں، تم مجھے اس کافر کے پیچھے چلانا چاہتے ہو؟''

''لیکن ابا حالات ایسے نہیں رہیں گے. یہ ہندو اور سکھ ہمارے ساتھ مخلص نہیں ہو سکتے. دیکھیں مختلف علاقوں میں ابھی سے دنگے کی خبریں آنا شروع ہو چکی ہیں. آپ میری بات مان لیں اور پاکستان میں جا کر ہم کلیم داخل کرائیں گے، یہ ساری زمین ہمیں واپس مل جائے گی.''

میرے بیٹے نے حسب عادت مجھے سمجھانے کی ایک بار پھر کوشش کی. میرے سر سے پاؤں تک غصے کی ایک لہر دوڑ گئی. یہ مجھے بتاتا ہے مجھے سمجھاتا ہے، میرا جنا ہوا آج اس شخص نے گمراہ کر دیا. یہ جناح بہت بدبخت ہے، میری قوم کے دو ٹکڑے کر دیے اس نے، پنڈ کا مولوی کہتا ہے کہ اسے تو کلمہ بھی نہیں آتا اور وہ ہمیں دوقومی نظریہ بتاتا ہے. کون سا دو قومی نظریہ؟ ابھی پرسوں ہی تو چوپال میں اپنا یار ذیلدار ملکھا سنگھ بتا رہا تھا کہ کسی قسم کا دنگا فساد نہیں ہوگا، سب کچھ سرکار کے کنٹرول میں ہے، ہر ایک سکون سے یہاں رہ سکے گا مگر میرا بیٹا مطمئن نہیں تھا. اس بار وہ زیادہ سر اڑا رہا تھا، وہ جتنی دلیلیں دیتا مجھے اتنا ہی غصہ آتا، آخر کار مجھے کہنا پڑا کہ میری سامنے سے دفع ہو جائےکیونکہ ایک فسادی نے اس کی عقل مار دی تھی.

وہ چلا گیا لیکن اس کی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا کہ میں ڈر گیا تھا. پھر وہ نہیں آیا لیکن وہ آگئے جن سے میرا بیٹا مجھے ڈراتا تھا. اس دن میں نے اپنے شہہ زور کو بہت یاد کیا، لیکن میرا سہارا میرا شہہ زور پتا نہیں کہاں تھا؟ وہ ہوتا بھی تو کیا کر لیتا؟ نتھا سنگھ کی جتھہ داری میں آنے والا جتھہ تھا ہی بہت بڑا، گاؤں میں کوئی چوکنا نہیں تھا، سب مجھ پر یعنی چوہدری مظہر علی پر یقین کر کے سوئے ہوئے تھے، کیونکہ میں دو دن پہلے ہی تو ذیلدار سے بات کر کے سب کو تسلی دے چکا تھا. آنے والوں نے سب سے پہلے میری حویلی پر ہلا بولا تھا. مجھے یاد ہے سب سے پہلے جس نے میرے گھر کی دیوار پھاند کر میرا دروازہ کھولا، میرے ساتھ والی پیلی (کھیتی) اس کی تھی، ہم نے بارہا ایک دوسرے سے بیلوں کی جوڑیاں مانگ کر اپنی زمین تیار کی تھی. بیل کسان کے پتروں کی طرح ہوتے ہیں اور ہم ایک دوسرے کو اپنے پتر دیتے لیتے رہتے تھے. ہمارا رزق سانجھا تھا لیکن اس سانجھے رزق کے لقمے کھا کر بننے والے ڈولے اس دن میری بیٹی پر آزمائے گئے. میں بلکتا رہا تڑپتا رہا، میری بیوی مجھ سے زیادہ دلیر تھی، اس نے منت نہیں کی، اس نے ہمارے گھر سے دوسری گلی میں رہنے والے مان سنگھ کے منہ پر تھپڑ جڑ دیا تھا کیونکہ اس نے میری بیوی کا دوپٹہ کھینچا تھا. مان سنگھ میری بیوی کو چاچی کہتا تھا، ہر دوجے چوتھے چاچی کے ہاتھوں ادھ رڑکی پیتا تھا، لیکن وہ بھی حملہ آوروں میں شامل تھا. وہ تھپڑ میری بیوی کی پہلی اور آخری مزاحمت ثابت ہوئی تھی، کیونکہ کرپان اس کی پسلیوں میں اتار دی گئی تھی. لوگوں کی آنکھوں میں مرتے ہوئے دکھ ہوتا ہے، تکلیف کا احساس ہوتا ہے، میری بیوی کی آنکھوں میں استعجاب تھا اور چوہدری مظہر علی کے لیے شکوہ تھا. مجھے یاد ہے میری بیوی نے جیتے جی کبھی مجھ سے شکوہ نہیں کیا تھا. میری ایک ہی بیٹی تھی، میں اسے بچا نہیں سکا، لیکن پتہ ہے کہ مجھے زیادہ افسوس کس بات کا ہے؟ اس بات کا نہیں کہ میں اسے بچا نہیں سکا، بلکہ اس بات کا ہے کہ میں اسے اپنے ہاتھوں سے نہیں مار سکا. کاش وہ مر جاتی تو اس کی عزت بچ جاتی. ظالموں نے میرے سامنے میری بیٹی کی عزت لوٹ لی. مجھے بیٹی کی چیخیں نہیں بھولتیں. چوہدری مظہر علی کی بیٹی آج اسے مدد کے لیے پکار رہی تھی مگر چوہدری مظہر علی کچھ نہیں کر سکتا تھا. یہ وہی چوپال تھا جس کی سب سے اونچی نشست میرے پاس ہوتی تھی، اور اسی میں میری بیٹی بھتیجی اور ان کی سکھیاں میرے سامنے رسوا ہوئیں، کوئی مدد نہیں آئی، انہوں نے رج کے لوٹ مار کی، قتل وغارت کی، عزتیں تاراج کیں، اور سب سے بڑا ظلم یہ کیا کہ مجھے اور چند بوڑھوں کو زخمی حالت میں زندہ چھوڑ گئے.

یہ بھی پڑھیں:   زخموں کی سرزمیں پر مرہم لگائیے - ایس احمد پیرزادہ

اگلی شام میرا بیٹا آیا. وہ بہت دور سے آیا تھا، شاید اس کے چند دوست بھی ساتھ تھے. انہوں نے لاشیں ایک گڑھے میں دبائیں اور ہمیں لے کر چل دیے. میرے بیٹے نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی، اس کی آنکھوں میں خون تھا، وحشت تھی، قہر تھا، کبھی کبھی بےبسی عود کر آتی. میں اس سے آنکھیں نہیں ملا سکا. وہ ہمیں ایک کیمپ میں چھوڑ کر دوسرے علاقوں کے لوگوں کی مدد کے لیے نکل گیا. ہمارے قافلے میں ہر دوسرے شخص کی کہانی ایک جیسی تھی. اب مجھے دکھ نہیں ہوتا تھا. آنسو جیسے خشک ہو چکے تھے. میری شان و شوکت اور زمین سب کچھ پیچھے رہ گیا تھا، لیکن اب مجھے چاہیے بھی کچھ نہیں تھا. بارشوں کے دن تھے، بارش کا اور کوئی فائدہ ہوتا یا نہ ہوتا، کم ازکم کچھ دیر کے لیے انسانوں کے آنسو آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے تھے. پورے سفر میں مجھے بس ایک بار غصہ آیا جب راوی کے پتن پر ملاحوں نے منہ مانگے پیسے مانگے اور وہ ملاح مسلمان بھی تھے. میرے سلوقے کی جیب میں کچھ رقم بچ گئی تھی، میں نے کئی لاچاروں کی مدد کی اور انہیں کشتی میں بٹھایا. وہاں رش تھا، ایک عورت کشتی میں بیٹھ گئی تھی لیکن اس کا بچہ دھکم پیل میں کشتی نہ پکڑ سکا. ملاح نے کشتی چلا دی، اس عورت نے چیخم پکار مچا دی کہ میرا بچہ رہ گیا لیکن کشتی نہ رکی تو عورت نے دریا میں چھلانگ لگا دی اور میری آنکھوں کے سامنے وہ تیز رو لہروں کی نذر ہوگئی. یہ ہمارے لیے اب حادثہ نہیں روٹین تھی. پاکستان کی زمین پر پہنچ کر پہلی دفعہ اشکوں کا سیلاب امڈ آیا. میں نے اتنے دنوں سے رکے ہوئے سارے آنسو بہا دیے. یہ ندامت کے آنسو تھے. چوہدری مظہر علی کو جو ذمہ داری اس کے گاؤں، اس کے گھر والوں نے سونپی تھی، اس پر پورا نہ اترنے کے صدمے کے آنسو تھے.

یہ بھی پڑھیں:   ریاستی گورنر کا ’’کشمیر بیانیہ‘‘ - ایس احمد پیرزادہ

مجھے ایک کیمپ میں جگہ مل گئی. بہت مہینوں بعد تھوڑی سی زمین بھی الاٹ ہوگئی، اور مجھے ریاست بھیج دیا گیا. کیمپ میں ملنے والے دو لاوارث بچے بھی میرے ساتھ تھے. کیمپ میں ہی کسی نے مجھے خبر دی کہ میرا بیٹا ناصرعلی ایک قافلے کی حفاظت کرتے ہوئے سکھوں سے لڑتا ہوا شہید ہوگیا تھا. خبری اس قافلے کے ساتھ پاکستان پہنچا تھا، اس نے گواہی دی کہ ناصر علی بہت بہادری سے لڑا تھا اور سینے پر زخم کھا کر ہی گرا تھا. اتنے عرصے میں اطمینان کی یہ واحد خبر مجھے ملی تھی. ریاست میں رہتے ہوئے مجھے دسواں سال تھا، جب ایک کام سے ڈپٹی کمشنر کے آفس جانا پڑا. سامنے کرسی پر ناصر کا بچپن کا ایک دوست ملا. اس کا باپ بھی متحدہ ہندوستان میں بیوروکریٹ تھا. اس نے مجھے پہچان لیا اور اپنے ساتھ والی کرسی پر بٹھایا، میری خاطر تواضع کی اور بتایا کہ کیسے اس کا خاندان دنگوں سے صاف بچ کر پاکستان پہنچ گیا. میں نے کہا کہ شکر کرو تم پڑھے لکھے خاندان کے تھے، اس لیے جناح کے خدشات کو جلد سمجھ گئے اور پاکستان پہنچ گئے. کمشنر نے زوردار قہقہہ لگایا اور کہا. ''چاچا جناح تو اقتدار کا بھوکا تھا ورنہ ہندو اور مسلمان تو آپس میں بھائی بھائی تھے" اس کی بات سن کر مجھے یوں لگا جیسے میری بیٹی کو چوپال میں دوبارہ ایک ہجوم نے نیچے لٹا لیا ہے، ناصر علی تو اصل میں آج شہید ہوا تھا.

اتنے سال پہلے سب کچھ لٹا کر چوہدری مظہر علی نے کچھ نہیں گنوایا تھا، اصل نقصان تو چوہدری مظہر علی کا آج ہوا تھا. جب پاکستان کی بیوروکریسی پر بھی ایک گدھ قابض ہو چکا تھا.

Comments

محسن حدید

محسن حدید

محسن حدید میڈیکل پروفیشنل ہیں، لاہور میں میڈیکل لیب چلاتے ہیں۔ کھیلوں سے انتہا درجے کی دلچسپی ہے۔ روزنامہ دنیا اور دلیل کے لیے کھیل پر مستقل لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.