جگن ناتھ آزاد - داؤد ظفر ندیم

ہمارے دائیں بازو کے دوست بہت سی باتوں پر خواہ مخواہ بدک جاتے ہیں، اور انھوں نے نظریہ پاکستان کے نام پر جو ایک تصور بنایا ہوا ہے، وہ انھیں خطرے میں نظر آنے لگتا ہے. بعض اوقات بات اتنی سادہ ہوتی ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ مسئلہ کیا ہے؟

جگن ناتھ آزاد بھی ان شخصیتوں میں شامل ہیں جس کا نام آتے ہی ہمارے دوست ایک دم ذہنی طور پر الرٹ ہو جاتے ہیں کہ نظریہ پاکستان پر کوئی حملہ ہونے لگا ہے، حالانکہ ایسی بات نہیں. میں کوشش کرتا ہوں کہ جگن ناتھ آزاد بارے کچھ باتیں عرض کروں۔

جگن ناتھ آزاد کے والد تلوک محروم چند آزاد کے قائداعظم سے تعلقات تھے، اس لیے ممکن ہے کہ جگن ناتھ آزاد نے اپنے والد کے ساتھ قائداعظم سے ملاقات کی ہو۔ یہ بات کلدیپ نیئر نے بھی لکھی ہے کہ قائداعظم تبادلہ آبادی کے خلاف تھے. وہ اس بات کے حق میں تھے کہ پاکستان میں رہنے والے غیر مسلم یہیں رہیں، اس لیے ممکن ہے کہ انھوں نے جگن ناتھ آزاد سے کہا ہو کہ آپ پاکستان کے لیے قومی نغمہ لکھیں، جسے اگر ہو سکا تو پاکستان کا قومی ترانہ بنا لیا جائے، اور اسی لیے جگن ناتھ آزاد نے یہ نغمہ لکھا ہو. اس دور میں بہت سے شعرا حتی کہ مجاز نے بھی قومی نغمہ لکھا تھا، اس لیے اس بات کو ایک وجہ تنازعہ بنانا درست نہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ قومی نغمہ قیام پاکستان کے بعد ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا ہو۔ اور یہ بات بھی قابل افسوس ہے کہ جگن ناتھ آزاد جیسے لوگوں کو پاکستان چھوڑنا پڑا.

مگر اس کے ساتھ یہ بھی درست نہیں کہ اس نغمے کو کبھی قومی ترانے کے طور پر استعمال کیا گیا، کسی سرکاری تقریب میں اسے گایا گیا، یا ریڈیو سے یہ قومی ترانے کے طور پر پیش ہوا۔ اگر کچھ دوست اس نغمے کو قومی ترانے کے طور پر پیش کرتے ہیں تو ان کا مقصد ہمارے دائیں بازو کے دوستوں کو اشتعال دلانا ہوتا ہے، اور ہمارے دوست اس پر سچ مچ مشتعل اور جذباتی ہوجاتے ہیں، اور اسے حق و باطل کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کی فکری جدجہد! - محمد عنصر عثمان

میں یہاں جگن ناتھ آزاد بارے مزید کچھ بتلا دوں۔ جگن ناتھ آزاد بعد میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ بھارت چلے گئے۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ قائد کی موت نے پاکستان میں ہندو دانشوروں اور سیاسی لیڈروں کے لیے رہنا دشوار کر دیا تھا۔ چانچہ جگن ناتھ آزاد بھارت چلے گئے، مگر بھارت جا کر وہ جلد ہی اردو زبان اور اقبال کے حوالے سے ایک مؤثر آواز ثابت ہوئے۔ تقسیم کے ابتدائی سالوں میں بھارت میں علامہ اقبال کا نام لینا ایک مشکل کام تھا، انھیں مفکر پاکستان اور مسلم بیداری کا ایک شاعر بنا کر پیش کیا جارہا تھا. یہ جگن ناتھ آزاد ہی تھے جنہوں نے اقبال کو پاکستان کے بجائے برصغیر کا ایک مشترکہ اثاثہ قرار دیا۔ بھارت میں اقبال کے حوالے سے سردمہری اور تنگ نظری کو دور کرنے کے لیے جانفشانی سے کام کیا۔ کشمیر یونیورسٹی میں اقبال چیئر قائم کی، جو دنیا میں پہلی اقبال چیئر تھی، اور انھوں نے ہی 1977ء میں پاکستان کی کسی بھی یونیورسٹی میں اقبال چیئر نہ ہونے کا سوال اٹھایا تھا، جس پر جنرل ضیا کو پنجاب یونیورسٹی میں اقبال چیئر کے قیام کا اعلان کرنا پڑا۔ انھوں نے علامہ اقبال کو کسی مذہب کے ساتھ منسلک کرنے کی سخت مخالفت کی، کہ علامہ اقبال کے شناخت کے کئی راستے تھے جن میں مسلم بیداری کے علاوہ ہندوستان کا قومی نغمہ لکھنا، رام کی تعریف لکھنا، اور انسانیت سے محبت بھی شامل تھی.

جگن ناتھ آزاد کو اقبال کا ایک عاشق قرار دیا جاتا ہے جس نے بھارت میں اقبال پر بہت زیادہ کام کیا. جگن ناتھ آزاد کا مؤقف تھا کہ کسی مذہب سے محبت شاعر کے مقام کو کم نہیں کرتی. ملٹن، دانتے عیسائیت اور تلسی داس اور ٹیگور ہندو مذہب کی محبت میں سرشار تھے، اس سے ان کی شعری عظمت کو کم نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے اقبال پر بارہ کتابیں لکھیں۔ اس کے علاوہ اقبال پر ڈیڑھ سو سے زائد لیکچر دیے۔ اور اس کے علاوہ بھی انھوں نے جو بھی لکھا اس میں کسی نہ کسی طرح اقبال کا حوالہ موجود ہے۔ ان کی اقبال شناسی کسی عقیدت پر نہیں بلکہ اہم فکری اصولوں پر قائم ہے. 1977ء میں اقبال صدی کے موقع پر جو پوری دنیا کے مندوبین کا قافلہ لاہور سے سیالکوٹ آیا تھا، اس کی قیادت کے لیے جگن ناتھ آزاد کا انتخاب کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   علامہ اقبال ؒ اور آج کا پاکستان-میر افسر امان

جگن ناتھ آزاد کا لکھا پاکستان کا قومی نغمہ
اے سرزمینِ پاک !
ذرے تیرے ہیں آج ستاروں سے تابناک
روشن ہے کہکشاں سے کہیں آج تیری خاک
تندیِ حاسداں پہ ہے غالب تیرا سواک
دامن وہ سل گیا ہے جو تھا مدتوں سے چاک

اے سرزمینِ پاک!
اب اپنے عزم کو ہے نیا راستہ پسند
اپنا وطن ہے آج زمانے میں سربلند
پہنچا سکے گا اس کو نہ کوئی بھی اب گزند
اپنا عَلم ہے چاند ستاروں سے بھی بلند
اب ہم کو دیکھتے ہیں عطارد ہو یا سماک

اے سرزمینِ پاک!
اترا ہے امتحاں میں وطن آج کامیاب
اب حریت کی زلف نہیں محو پیچ و تاب
دولت ہے اپنے ملک کی بے حد و بے حساب
ہوں گے ہم اپنے ملک کی دولت سے فیضیاب
مغرب سے ہم کو خوف نہ مشرق سے ہم کو باک

اے سرزمینِ پاک!
اپنے وطن کا آج بدلنے لگا نظام
اپنے وطن میں آج نہیں ہے کوئی غلام
اپنا وطن ہے راہ ترقی پہ تیزگام
آزاد، بامراد، جواں بخت شادکام
اب عطر بیز ہیں جو ہوائیں تھیں زہرناک

اے سرزمینِ پاک!
ذرے تیرے ہیں آج ستاروں سے تابناک
روشن ہے کہکشاں سے کہیں آج تیری خاک
اے سرزمینِ پاک!

Comments

دائود ظفر ندیم

دائود ظفر ندیم

دائود ظفر ندیم تاریخ، عالمی اور مقامی سیاست، صوفی فکر اور دیسی حکمت میں دلچسپی رکھتے ہیں، سیاسیات اور اسلامیات میں ماسٹر کیا ہے۔ دلیل کے لیے باقاعدہ لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.