قومی دن یا یوم آزادی - منصور الہی

مسلمانان ہند نے قابض انگریز سے آزادی حاصل کرنے کے لیے طویل جدوجہد کی، تحریکیں چلائیں، ریاضتیں اور مشقتیں کیں، عبادتوں اور دعاؤں کے سہارے کہیں جاکر آزادی نصیب ہوئی۔ لیکن آزادی ملتے ہی مسلمان اس سجدے کو بھول گئے جو انہوں نے اللہ کی بارگاہ میں کیا تھا۔ حالانکہ یہ آزادی منزل نہیں نشانِ منزل تھی، یہ راستہ تھا منزل کا۔ بالکل ایسے ہی جیسے تپتے صحرا میں بھٹکتے مسافروں کو افق پر ایک قافلہ گزرتا نظر آئے اور وہ خود کو اس قافلے کا حصہ سمجھ بیٹھے حالانکہ وہ ان سے دور ہے۔

هم سجدے میں گرے رهتے هیں اور قید هوتے هیں جدیدیت کے پنجرے میں، لادینیت کے پنجرے میں، میڈیا اور انگریز کی غلامی میں، لاقانونیت، جھوٹ، مجبوری، حرص و حسد کے پنجرے میں، مفلسی و غربت میں، اندھی تقلید و پیر پرستی، بیماری اور جهالت میں، سب سے بدترین مغرب کی غلامی کے پنجرے میں، اس پر اندھی بہری عصبیت اور غلاظت سے بھری سیاست، گویا مرے ہوئے پر سو درّے۔ پھر هم احتجاج کرتے هیں، نعرے لگاتے خون تک بهاتے هیں اور جب آزادی مل جائے تو کہتے هیں، اب سجدے سے سر اٹھالو! آزادی مل گئی ہے!

پاکستان کی بنیاد لااله الا الله هے، اس کا مطلب جانتے هیں؟ کوئی آقا نهیں، کوئی معبود نهیں، کوئی حاکم نهیں سوائے الله کے۔ لا اله الا الله همیں یاد تو رهتا هے مگر مصلّے پر، رمضان میں یا کسی مذہبی جلسے میں۔ هم نے لااله الا الله کو ایسے نہیں سمجھا جیسے نبی علیہ السلام نے سمجھانا چاہا۔

طوطے کی ایک فطرت هے۔ اسے جو سکھایا جائے، بنا سمجھے رٹنا شروع کر دیتا ہے۔ ہمیں نبی اکرم صلی الله علیه وسلم نے کلمہ سکھایا اور اسے ہماری فلاح کا راز بتایا۔ پھر ہم نے اپنی آزادی کی بنیاد بھی اسے ہی بنایا مگر هم نے طوطے کی طرح اسے صرف سنا اور پھر رٹنا شروع کردیا. طوطا کلمہ پڑھنے لگے تو اسے امامت نہیں دے دی جاتی۔ همیں دنیا کی امامت کا موقع اسی لیے نہیں ملا کہ ہم طوطے کی طرح کلمہ رٹتے ہیں، حضرت عمر فاروق رضی الله عنه کی طرح کلمہ دل میں نہیں اترا۔

ایک وزیر محل کے اگلے حصے میں گھوم رها تھا۔ اس کی نظر محل کے پیچھے باغ والے حصه پر پڑی۔ اس نے دیکھا ایک روشنی آسمان کی جانب جاتی، پھر واپس نیچے لوٹ آتی، پھر آسمان کی جانب جاتی اور نیچے آجاتی۔ وه دوڑتا هوا باغ میں پهنچا۔ وهاں بادشاه ہاتھ میں هیرا لیے کھڑا تھا۔ وزیر پوچھتا هے کہ بادشاه سلامت! یه آپ هیرے سے کیا کر رهے هیں؟ بادشاه کہتا هے۔ میرا بیر کھانے کا دل چاها تو باغ میں آگیا۔ میں درخت کی طرف پھینک کر هیرے سے بیر توڑ رها تھا۔

کتنی حماقت کی بات هے کہ اتنے قیمتی هیرے سے بیر توڑے جارہے ہیں؟ ہمیں آزادی ملی، اسی قیمتی هیرے کی طرح مگر افسوس هم اس آزادی کے ساتھ وہی کر رہے ہیں جو بادشاه هیرے کے ساتھ کر رها تھا۔

شاعر مشرق نے کہا تھا

هے بندۂ آزاد خود اک زنده کرامت

همارے بار بار زوال کی وجه یہی رہی کہ ہم نے ذرا سا عروج دیکھا اور سجدے سے سر اٹھا لیا۔ اگر آپ ایک بااختیار آزاد متحده قوم بننا چاهتے هیں تو اپنا کردار ادا کرتے هوئے اپنے حصہ کا کام ایمانداری سے کریں اور ایک بات یاد رکھیں کہ ہمارا مقصد منزل کا حصول ہے، سنگ میل کو چومنا نہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com