روک سکو تو روک لو! - کامران ریاض اختر

اعتراض کیا جاتا ہے کہ لوگ نواز شریف کو ووٹ کیوں دیتے ہیں، یہ کیسے جاہل ناخواندہ لوگ ہیں جو ایک نااہل اور بدعنوان ٹولے کو بار بار ملک پر مسلط کر دیتے ہیں ۔ میں ایک مسلم لیگی ووٹر ہوں، آپ کے مطابق جاہل ناخواندہ اور نواز شریف کو وزیر اعظم بنوانے کا گنہگار !

تین مرتبہ مسلم لیگ کو ووٹ دے کر حکومت بنوائی اور ہر بار ہی زبردستی یہ حکومت گرائی گئی۔ غصہ ضرور ہے لیکن نہ توڑ پھوڑ کروں گا نہ جلاؤ گھیراؤ، نہ ہی آپ کی پسندیدہ کٹھ پتلیوں کی طرح نعرے لگاؤں گا کہ لوٹ لو، جلا دو، آگ لگا دو! لیکن ایک چھوٹا سا کام ضرور کروں گا، اگلی مرتبہ بھی مسلم لیگ کو ہی ووٹ دوں گا۔

میں نواز شریف کو مثالی سیاستدان نہیں سمجھتا، نہ ہی پیپلز پارٹی کے ووٹر کی طرح میں نسل در نسل شریف خاندان کی قیادت قبول کرنے کا پابند ہوں۔ نواز شریف کی بہت سی پالیسیوں سے شدید اختلاف بھی ہے۔ بس اتنا ہے کہ ووٹ ڈالتے ہوئے اپنے اللہ کو حاضر ناظر جان کر اپنے ذہن کے مطابق بہترین فیصلہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور مسلم لیگ کو باقیوں کی نسبت ملک و قوم کے لیے نسبتاً بہتر انتخاب سمجھ کر اس کی حمایت کرتا آیا ہوں۔ جب مجھ جیسی سوچ رکھنے والے اکثریت میں ہوتے ہیں تو مسلم لیگ کی حکومت بن جاتی ہے ۔

ہر بار تہیہ کرتا ہوں کہ پانچ سال تک مسلم لیگ اور نواز شریف کی کارکردگی دیکھوں گا، اگر مطمئن نہ ہو تو اگلی دفعہ ضرور کسی اور کو ووٹ دوں گا۔ لیکن اس کا موقع ہی نہیں آتا۔ ہر بار یہی ہوتا ہے کہ مدت پوری ہونے سے پہلے ہی میری منتخب کردہ حکومت کو اقتدار سے باہر نکال دیا جاتا ہے ۔

اب آپ مجھے 58 ٹو بی کے حوالے دیں، ہائی جیکنگ کیس کا نام لیں یا عدلیہ کی دُہائی، سب ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔ میرے لیے سب سے اہم چیز میرا یہ حق ہے کہ میں اور صرف میں یہ فیصلہ کروں کہ ملک کی حکمرانی کے لیے میرا انتخاب کون ہو؟ یہ میرا بنیادی آئینی، قانونی اور انسانی حق ہے۔ میں کسی صورت یہ توہین برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی سرکاری عہدیدار میرا یہ حق چھین لے۔

یہ بھی پڑھیں:   مولانافضل الرحمن سیاسی دوراہے پر - محمد عامر خاکوانی

لہٰذا پہلے میرا یہ حق تسلیم کریں اور مسلم لیگ کو پانچ سال تک مکمل اختیار کے ساتھ حکمرانی کا موقع دیں، پھر مجھ سے ضرور توقع کیجیے کہ دوبارہ انتخاب کرتے ہوئے میں اپنے نمائندے سے اس کی کارکردگی بھی پوچھوں، اس پر لگنے والے الزامات پر بھی سوال کروں اور غیر مطمئن ہونے کی صورت میں کوئی اور نمائندہ چن لوں۔

جب تک یہ نہیں ہوتا اور میرے منتخب نمائندوں کو کبھی دھرنوں، کبھی سازشوں، کبھی دھمکیوں اور کبھی اقاموں کا بہانہ بنا کر فارغ کیا جاتا رہے گا میرا ووٹ مسلم لیگ کا ہی رہے گا۔ کوئی الزام، کوئی فرد جرم، کوئی سزا میرے لیے بے معنی اور اپنے حق انتخاب کو غصب کرنے کا بہانہ ہی رہے گا۔

آپ میرے ووٹ کے حق کو ختم بھی کریں گے تو پھر پانچ، دس سال بعد بگڑتے حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر یہ حق بالآخر مجھے واپس کرنا پڑے گا اور میں دوبارہ اس حق کو ان لوگوں کو ہی اپنا نمائندہ چننے کے لیے استعمال کروں گا جو آپ کو سخت ناپسند اور مجھے پسند ہیں۔ یہ اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک آپ اپنے دماغ سے یہ غلط فہمی نکال نہیں پھینکتے کہ آپ مجھ سے بہتر یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ میرے لیے کون بہتر ہے اور کون نہیں۔