گیارہ اگست کا پروپیگنڈہ اور اقلیتوں کا سنہرا دور - عمر ابراہیم

گیارہ اگست آیا، بی بی سی اردونے حسب شرارت 'سیکولرپاکستان' کی سالگرہ کا 'انتظام' کیا۔ گوکہ اوربہت سے غم تھے کہ خبربنتے، مگرگیارہ اگست کی مبینہ تقریرکی بھونڈی تاویل صفحہ اول پرنمایاں رہی۔ گویا قائد اعظم ما قبل تاریخ کی کوئی ہستی تھے، گویا اس تقریرکے آثارزمین کی گہری کھدائی سے برآمد ہوئے ہوں۔ گویا قائداعظم کے فرمودات کا یہ واحد مستند نسخہ ہو، جوشرپسندوں کے ہاتھ آگیا ہو، جس سے ریاست پاکستان کا کوئی نامعلوم مفہوم منکشف ہوتا ہو۔ غرض، سیکولر پاکستان کا بوگس مقدمہ جا بہ جا درج تھا۔

زیرقلم موضوع کا اصل مدعا گیارہ اگست پروپیگنڈے کے تناظرمیں اقلیتوں کے سنہرے دور کا جائزہ پیش کرنا ہے۔ پہلے بی بی سی پروپیگنڈے کا سرسری سا تجزیہ ضروری ہے، تاکہ جانا جاسکے کہ پاکستان بلا شبہ 'اسلامی ریاست' کا وہ ارادہ ہے، جسے برصغیرکے مسلمانوں نے پاکستان کے مطلب میں واضح کیا، اسلامی پاکستان بلا شبہ وہ ریاست ہے جہاں بڑی بڑی جمہوریتوں کی نسبت اقلیتیں زیادہ محفوظ ومامون ہیں۔ بھارت، اسرائیل اور امریکہ کی پریشان اقلیتیں مناسب مثالیں ہیں۔

بی بی سی رپورٹ کا عنوان 'مذہب ذات یا نسل سے ریاست کا کوئی لینا دینا نہیں' سیکولر ریاست کی تعریف بیان کررہا ہے۔ اسے قائد اعظم کی مبینہ تقریر کے متن سے ماخوذ ظاہرکیا گیا ہے۔ جبکہ رپورٹ ہی کے پیش کردہ اصل متن میں یہ جملہ ایک نہیں بلکہ دو جملوں پرمشتمل ہے۔ یہ دو جملے اسلامی ریاست میں اقلیتوں کے حقوق واضح کررہے ہیں۔ مگربی بی سی رپورٹ نے ان جملوں کو جوڑکر'سیکولر' بنانے کی مذموم کوشش کی ہے۔ اصل متن کہتا ہے '' آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔'' صاف ظاہر ہے کہ صاحب تقریریہ سمجھانا چاہتا ہے کہ اسلامی ریاست کسی بھی شہری کے مذہب، ذات، یا نسل سے کوئی تعارض نہیں کرتی، ہرشخص عقیدے اور عبادت میں مکمل آزاد ہے۔ لیکن تقریری متن کے منہ میں یہ الفاظ ڈالنا کہ 'مذہب ذات یا نسل سے ریاست کا کوئی لینا دینا نہیں' صریح چالبازی ہے۔ محمد علی جناح کی اہلیت اور اخلاص کی سطح وہ نہیں، کہ جس پرپاکستان کا مطلب واضح نہ ہو، یا جوپاکستان کا مطلب واضح نہ کرسکتا ہو۔ بی بی سی ہی کے مطابق، گیارہ اگست 1947ء کے ڈان اخبارکا تراشہ تصریح کرتا ہے، کہ قائد اعظم نے اقلیتوں کو شہری حقوق کی یقین دہانی کرائی اورتعاون کی درخواست کی۔ صاف نظرآرہا ہے کہ اسلامی ریاست کا سربراہ غیرمسلم اقلیتوں کو حقوق کی ضمانت دے رہا ہے نہ یہ کے کوئی سیکولررہنما اقلیتوں کا سیکولرقانون بیان کررہا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ قائد اعظم نے کبھی بھی پاکستان کیلئے 'سیکولر' کی اصطلاح استعمال نہیں کی، جبکہ حریف انڈین کانگریس کا ایجنڈا سیکولرتھا۔ مسلم لیگ اور انڈین نیشنل کانگریس کا جوہری فرق ہی اسلام اور سیکولرازم کا تھا۔

بی بی سی کے پروپیگنڈے میں نظریہ سازش کا شوشہ بھی چھوڑا گیا کہ گیارہ اگست کی تقریرغائب کردی گئی ہے، گویا اس تقریرکا متن سیکولرازم کا کوئی 'نسخہ کیمیا' ہو۔ جبکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ اس تقریرمیں سیکولرازم کیلئے کوئی دلیل موجود نہیں۔ اقلیتوں پرمظالم کے حوالے سے یہ رپورٹ ایک بھی ٹھوس حوالہ پیش نہیں کرتی، مگرمجموعی تاثر یہ دیتی ہے کہ پاکستان میں اقلیتیں شدید کرب کا شکارہیں۔ رپورٹ نے اقلیتوں کی آڑ میں توہین رسالت کے قانون کوحسب شرارت نشانہ بنایا ہے۔ غرض انتہائی احمقانہ رپورٹ ترتیب دی گئی۔ یوں بی بی سی اردو نے سیکولر پاکستان کی سالگرہ شدومد سے منائی۔ اس ضمن میں یہاں یہ وضاحت برمحل ہوگی کہ اسلامی ریاست میں اقلیتوں کے حقوق کیا ہیں، اور تاریخ میں اقلیتوں کا سنہرا دور کون سا ہے؟

اسلامی ریاست میں آباد غیر مسلم اقلیتوں کی عزت اور جان و مال کا تحفظ مسلمانوں پرفرض ہے۔

اسلامی ریاست میں آباد غیر مسلم شہری کو ناحق قتل کرنا حرام ہے۔ ایسا ایک قتل پوری انسانیت کا قتل شمار ہوگا۔ حضور نبی اکرم نے ارشاد فرمایا:"جو مسلمان کسی غیر مسلم شہری کو نا حق قتل کرے گا اللہ تعالیٰ اُس پر جنت حرام فرما دے گا۔"(نسائی شریف)

قرآن و حدیث کے مطابق ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔ اس لیے اسلامی ریاست میں کسی بھی غیرمسلم کے جرم کا بدلہ کسی دوسرے غیر مسلم سے نہیں لیا جائے گا۔ اسلامی ریاست کا نظام عدل کسی بھی غیر مسلم کے ساتھ امتیازی برتاؤ کا مجاز نہیں۔ اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کا مال غصب کرنے یا لوٹنے کی قطعی گنجائش نہیں ہے۔ یہاں تک کہ غیر مسلم کے مالی نقصان کی تلافی ریاست کے ذمے ہوگی۔ ذمی کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ غیر مسلم شہری جس کی ذمےداری اسلامی ریاست پرعائد ہو۔

حضور اکرم نے ارشاد فرمایا:"خبردار! جس نے کسی غیر مسلم شہری پر ظلم کیا یا اُس کا حق مارا یا اس پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ ڈالا یا اُس کی دلی رضا مندی کے بغیر کوئی چیز اُس سے چھین لی تو قیامت کے دن میں اُس کی طرف سے جھگڑا کرو ں گا۔"(ابو داؤد )

یہی ہیں وہ تعلیمات، جنہوں نے دنیا کی سب سے مجروح یہودی اقلیت کو بدترین حالات سے نکالا، اور اقلیتوں کے سنہرے دور سے روشناس کروایا۔ یہودی اور دیگر اقلیتوں کا یہ سنہرا دور 711 ء فتح ہسپانیہ سے خلافت قرطبہ کے زوال تک ہے۔ تقریبا سات صدیوں پرمحیط یہ عہد زریں نہ صرف اقلیتوں بلکہ انسانی تاریخ کا بھی مثالی دور ہے۔ یہ عین وہی زمانہ تھا، جب پڑوس یورپ میں قرون وسطٰی کا جہل طاری تھا۔ ییل یونیورسٹی امریکہ کی محقق ماریا روزا مینوکل معروف کتاب The Oranament of the world میں کہتی ہیں کہ رواداری مسلمان اندلسی معاشرے کا خاصہ تھی۔ یہودی اور عیسائی اقلیتیں خوشحال تھیں، جبکہ باقی یورپ میں یہودیوں پرمظالم عام تھے۔ یہودی آبادیوں نے اس دور میں اندلس کا رخ کیا تاکہ عقیدے اور ذرائع روزگار کی آزادیوں سے بہرہ مند ہوسکے۔ انتہائی متعصب اوراسلام دشمنی میں مشہوریہودی مؤرخ برنرڈ لوئیس بھی اس اعتراف پرمجبور ہے کہ اندلس میں یہودیوں کومذہبی آزادی حاصل تھی، اورریاست کے ذمی قوانین یہودی آبادیوں پرکبھی زیادتی کا سبب نہ بن سکے۔ اندلس کا یہ سنہرا دورنامور یہودی فلسفی، ریاضی دان، ماہرین فلکیات، شاعر، مذہبی علماء منصہ شہود پرلایا، جنہوں نے شاندار سائنسی وثقافتی کارنامے انجام دیے۔ یہودی فلسفے کا یہ سب سے بہترین دور ثابت ہوا۔ عربی و یونانی زبان کے سائنسی وطبی علوم تراجم کی صورت میں سامنے آئے۔ یہ علوم کی ترویج وتراجم کا عظیم ترین عہد قرار پایا۔ خلیفہ عبدالرحمان کا درباری طبیب اوروزیرہسدائی بن شاپرویہودی تھا۔ اس کے علاوہ میناہم بن ساروق، موسٰی بن عزرا، سولومون بن گیبرئیل، یہودا حلیوی، موسٰی میمونائڈز، اور موسٰی بن اینوخ بڑے معتبرنام تھے۔ جب خلافت اندلس زوال وانتشارکا شکار ہوئی، نہ صرف یہودی بلکہ مسلمان بھی مشکلات سے دوچار ہوئے۔ اندلسی سنہرے دور کے بعد یہودی اقلیت کوپھر کبھی وہ سنہرے لمحات میسر نہ آسکے، جو اس دورکی پہچان تھے۔

تقریبا پانچ سو سال بعد، مغرب میں اقلیتوں کے حقوق کی پہلی آواز 1814 میں سنائی دی۔ کانگریس آف ویانا میں جرمن یہودی اقلیت کے حقوق زیر بحث آئے۔ کانگریس نے امید ظاہر کی کہ پروشیا، روس، اور آسٹریا اقلیتوں کا تحفظ ممکن بنائیں گی، مگر ان ریاستوں نے اس امید کوٹھکرادیا، منظم مظالم برقراررکھے گئے۔ 1849 میں پہلی بار ہنگری کی انقلابی پارلیمان نے اقلیتوں کے حقوق کا قانون منظورکیا۔ 1861 میں آسٹریا نے اقلیتوں کے حقوق منظورکیے۔

اقلیتی حقوق کے اس تاریخی تناظرمیں، کسی بھی طرز ریاست کا اسلامی ریاست سے موازنہ سراسر لا علمی ہے یا علمی بددیانتی ہے۔ فلاحی نظام سمیت ہرریاستی اصلاح اور قانون اسلام کی وہ نعمتیں ہیں، جن کے بغیرنہ صرف اسلامی ریاست بلکہ غیراسلامی ریاست کا بھی کوئی مستقبل نہیں ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */