اگر آپ لبرل مسلمان ہیں تو؟ - ابوالوفا محمد حماد اثری

اچھا، لبرل ازم اگر یہی ہے جیسا آپ نے بتایا اور آپ لبرل مسلمان ہیں تو اسلامی قوانین کے نفاذ کی جد و جہد میں آپ کا کردارہمدردانہ ہونا چاہیے نہ کہ مخاصمانہ۔ اسلام تو آپ کے ہر قاعدے سے متفق ہے۔ میں نے اپنے دوست سے کہا۔

جی جی ! متفق کیا، لبرل ازم کے قوانین لیے ہی اسلام سے گئے ہیں۔دوست نے میرے علم میں اضافہ کیا۔

پھر تو ہر قسم کے نظریاتی جھگڑے اب ختم ہوجانے چاہئیں۔ آپ کہتے ہیں کہ لبرل ازم اسلام کے عین مطابق ہے تو اسلام کے نفاذ کی بات آپ کوزیادہ شدت سے کرنی چاہیے۔

1 ۔ لبرل ازم اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے، لیکن آزادی کی آڑ میں نفرت پھیلا نا منع ہے۔ تو اسلام بھی کسی کو مجبور نہیں کرتا کہ وہ کلمہ پڑھ لے، لیکن کسی کے مقدسات کو گالی دینا جائز نہیں، یعنی یہ اگر ضروری ہے کہ ہولو کاسٹ کا تذکرہ نہ کیا جاوے کہ دنیا کی قلیل آبادی یہود کے جذبات اس سے منسلک ہیں تو یہ بھی فرض ہے کہ انبیاء و صحابہ کو طعن کا نشانہ بنانے سے پرہیز کیا جاوے کہ دنیا کی کثیر آبادی مسلمانوں اور اہل سنت کے جذبات اس سے جڑے ہیں۔

2۔ آپ کا مقدمہ کہ " فرد اپنے فائدے اور نقصان کو دوسروں سے بہتر سمجھتا ہے، تو اپنے متعلق فیصلہ بھی وہ کرے گا۔البتہ ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ بسا اوقات فرد کے فیصلوں میں حائل ہوسکے۔یہ اس کا پدرانہ کردار ہے، یعنی فرد شارٹ ٹرم (فوری ترجیحات ) میں جسے اپنے لیے فائدہ سمجھ رہا ہے، لانگ ٹرم (بعد کی زندگی) میں وہ اس کے لیے نقصان بھی ہوسکتا ہے، لہذا ریاست اس کی مرضی کے خلاف قانون بنا سکتی ہے۔" مطلب کہ بعض انسانوں کے فیصلے دوسرے بعض انسانوں کے بنائے قوانین سے کالعدم ہوجاتے ہیں۔

اسلام کا تصور آزادی اس سے کہیں وسیع ہے، اندازہ کریں کہ اسلام میں دوسرے انسا نوں کے پاس یہ اختیار ہی نہیں کہ آپ کے فیصلوں میں دخیل ہو سکیں۔البتہ آپ کا خالق جس نے آپ کوبنایا ہے، جو قانون چاہےآپ پر لاگو کر ے۔ تو ہر وہ شخص جو اللہ کو اپنا خالق مانتا ہے، اپنے معاملات بجائے اپنے ہی جیسے انسانوں کے، اپنے مالک کے حوالے کرنا چاہے گا۔آپ کا خالق ہی بہتر جانتا ہے کہ آپ کے لیے اچھا کیا ہے برا کیا ہے؟

میرے دوست نے اثبات میں سر ہلایا۔

پھر لبرلز اسلام سے اتنا بدظن کیوں ہیں کہ اسلام اور اہل اسلام پر طعن کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے؟میرے دوست نے پوچھا۔

عرض کیا، پیارے! یہی تو مسئلہ ہے۔ شور ہے کہ انسان کو آزادی دی جائے۔

لیکن لبرل ازم کا بانی جان لاک اٹلانٹا میں سیاہ فام انسانوں کو غلام بنا کر فروخت کرنے والی کمپنی کا شیئرہولڈر ہے اور کیلیفورنیا کے آئین کے خالق بھی جس کے مطابق ہر سیاہ فام پر سفید فام کے مالکانہ حقوق تسلیم کیے گئے ہیں۔

دعویٰ ہے کہ فرد اپنے مذہب پر عمل کرنے میں آزاد ہے۔لیکن پدرانہ کردار کی آڑ میں نقاب پر پابندی لگا دی جاتی ہے، مسلمان ماں باپ اپنی بیٹی کے لیے درخواست دیتے ہیں کہ اسے مخلوط تیراکی کی کلاس سے چھٹی دی جائے کہ اس کا مذہب یہ اجازت نہیں دیتا، تو سکول انتظامیہ اس لیے رد کر دیتی ہے کہ اسے یہ لانگ ٹرم کے خلاف نظر آتا ہے۔ قانون ہے کہ کسی کے مذہب کی تضحیک جائز نہیں، لیکن ہر ملک کے لبرلز اس ملک میں پائے جانے والے مذہب پر کیچڑ اچھالنا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں۔ انبیاء کی توہین ان کے کارٹونز، گستاخانہ مواد، انہیں لبرل ملکوں سے ہی تو برآمد ہو رہا ہے۔کیا یورپ میں مریم صدیقہ علیہا السلام کو 'بلڈی میری' کے توہین آمیز نام سے نہیں پکارا جاتا رہا، کیا عیسائیوں کو 'رومنٹس' جیسا نفرت آمیز خطاب نہیں دیا گیا؟

یہاں کے علماء کی پگڑیاں اچھالنے کا کام جس تیزی سے کیا جارہا ہے، اس سے کیا ثابت ہوتا ہے؟

کیا لبرل ازم کے داعی ممالک اپنا اسلحہ بیچنے کے لیے ملکوں میں لڑائی نہیں کرواتے ہیں؟

کیا ایٹم بم انسانی احترام کی مثال ہے؟

کیا اسرائیل کی ہٹ دھرمی عین لبرل ازم نہیں؟

اتنا تضاد آخر قول و فعل میں کیوں ہے؟

قانون بنایا جاتا ہے کہ ملک کی اکثریتی آبادی جو قانون چاہے بنا لے، لیکن اسلامی قانون نافذ کرنے کی بات ہوتو خود ہی اس کے خلاف علم بغاوت اٹھا دیا جاتا ہے؟

لبرل ازم کو اسلام کے عین مطابق بھی ثابت کیا جاتا ہے، مگر اسلام کے نافذ کرنے کی بات آئے تو اسےمذہبی اجارہ داری کا نام دیا جاتا ہے؟

دو ہی وجوہات ہو سکتی ہیں:

ایک، لبرل ازم تھا تو درست لیکن غلط لوگوں کے ہتھے چڑھ گیا۔ اس پر مگر سوال اٹھتا ہے کہ لبرل ازم کا توبانی ہی کالوں کو غلام بنانا اپنا آزادنہ حق سمجھتا ہے۔یہ کیا دعوت ہوئی کہ کسی دعوت کا اولین پیغمبر ہی اس کے خلاف عمل کرتا ہو؟

یا لبرل ازم کانعرہ اور اس کے اصول آنکھوں میں دھول جھونکنے کےکام آتے ہیں، ان سے صرف بے وقوف بنایا جاتا ہے، اصل ہدف دین کو معاشرے سے جدا کردینا ہےاور اس کی دعوت کو ختم کردینا ہے۔ آزادی کے نعرے صرف اپنے خبث باطن کے اظہار کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہیں، نہ کہ مستقل وظیفہ حیات بنانے کے لئے۔ بقول شخصے "وچوں گل کوئی ہور اے" یعنی اندر کی بات کچھ اور ہے۔