سندھ کے لٹیرو! مبارک ہو! مولانامحمدجہان یعقوب

سندھ حکومت نے نیب کے اختیارات کاخاتمہ کر دیا ہے، جس کا باقاعدہ قانونی نوٹی فکیشن بھی جاری ہو چکا ہے۔ اب نیب سندھ میں کسی قسم کی مالی بدعنوانی کی تحقیقات نہیں کرسکے گا، یوں سندھ کے تمام لٹیروں کو کھلی چھوٹ مل جائے گی، نہ مستقبل میں انھیں کسی پکڑ کا ڈر رہے گا، اور نہ ماضی کی کسی سیاہ کاری پر تحقیقات کا خوف۔ اب وہ کھل کر قوم و ملک کی خدمت کے نام پر اپنے اور اپنی موجود و متوقع نسلوں کے لیے مال جمع کریں گے اور بیرون ملک بینکوں میں ذخیرہ کریں گے، تاکہ انھیں فکرمعاش سے خلاصی مل سکے۔

جناب سید مراد علی شاہ اور ان کی ٹیم کا یہ اقدام بروقت ہے، کیوں کہ سیاست دانوں کے برے دن آنے میں دیر نہیں لگتی، میاں نواز شریف صاحب کی نااہلی کے فیصلے کے تناظر میں سیاست دانوں کو اپنے مستقبل کی فکر دامن گیر ہوگئی ہے، تو یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں، کیوں کہ ''من آنم کہ من دانم'' کے مصداق سیاست دان اپنے کرتوت اچھی طرح جانتے ہیں، اور اپنے تحفظ و دفاع کے گر اختیار کرنا ان کا ''جمہوری حق' 'ہے، جس سے انھیں سوائے فوج اور عدلیہ کے، کوئی محروم نہیں کرسکتا۔

میاں نواز شریف ایوان ہائے اقتدارکے مزے لوٹنے کے بعد ''نااہل' 'ہو کر قوم کے سامنے جا چکے ہیں اور قوم ہی کامقدمہ لڑ رہے ہیں، اس لیے قوم بھی ان کے لیے دیدہ و دل فرش راہ کیے ان کی ریلیوں کی رونق بڑھانے میں مصروف ہے۔ جن جرائم کی بنیاد پر انھیں یہ دن دیکھنا پڑا ہے، تب بھی شاید وہ قوم ہی کی جنگ لڑ رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کے کروڑوں ووٹوں کوایک منٹ میں پانچ ججوں نے بےاثر کر دیا اور عوام کے نمائندے کو جبری گھر بھیجاگیا۔ ان کی انتھک عوامی رابطہ مہم دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انھیں اصل دکھ گھر بھیجے جانے کا نہیں، بلکہ وہ حوالات بھیجے جانے کے ممکنہ خطرے سے بچاؤ کا سامان کرنا چاہتے ہیں۔ ظاہر نظر یہ آ رہا ہے کہ انھیں گھر بھیجنے والوں نے ان کی جماعت میں بھی خاصی گہری دراڑیں پیدا کر دی ہیں، چوہدری نثار علی خان، جو وزارت عظمیٰ کے فیورٹ امیدوار تھے اور اسحاق ڈار نے اسی وعدے کی بنیاد پر انھیں منا لیاتھا کہ اچانک قرعہ فال شاہد خاقان عباسی کے نام نکل آیا، ان کے بیانات، اسی طرح وزیراعلیٰ پنجاب کی اہلیہ، جو خود کو تصوراتی دنیا میں خاتون اول سمجھے بیٹھی تھیں کہ اچانک پانسا پلٹ گیا، ان کے ٹویٹس، خود شہباز شریف کی بدلی بدلی نگاہیں، بہت کچھ ان کہی کہانیاں سنا رہی ہیں۔ واقفان حال کا یہ بھی کہنا ہے کہ میاں صاحب سے مقتدرہ کی ناراضی وقتی ہے اور انھیں ایک ''جھٹکا' 'دیا گیا ہے، راہ راست پر آنے کی صورت میں یہ وقتی عتاب بھی ختم ہوجائے گا، نااہلی کے فیصلے کو اپنی سیاست کا اختتام سمجھ کر بیٹھنے کا فیصلہ کرنے والے میاں صاحب ایسا ہی کوئی اشارہ پا کر تازہ دم ہو کر عوامی رابطہ مہم پر نکلے ہیں، اگرمقتدرہ ان سے راضی ہوجاتی ہے تو مستقبل انھی کا ہے، اس لیے چوہدری نثار سمیت کئی سینئر رہنما کوئی جذباتی فیصلہ کرنے کے بجائے ''تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو'' کے فلسفے پر عمل پیرا ہیں، کیوں کہ ان کی ڈوریں بھی مقتدرہ کی جانب سے ہلائی جا رہی ہیں۔ سیاست اور ملکی نشیب و فرازسے ادنیٰ سی دلچسپی رکھنے والے بھی اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ اس کی عنایتیں ہوں یا اس کا عتاب، اپنے مقاصد کے تحت ہوتا ہے، اور عتاب جس پر پڑے اس کو عرش سے فرش پر لا پھینکتا ہے، اور قوم کے منتخب وزیراعظم کوگائے اور بھینس چوری کے جرم میں اندر کروا دیتا ہے، اور جس پر مقتدرہ کا ہاتھ ہو، اسے کوئی بڑے سے بڑا ادارہ ہاتھ تک نہیں لگا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:   یورپ اور ترکی کی ترقی، آنکھیں نم کیوں؟ - شاہد یوسف خان

موجودہ سیاسی منظرنامے میں سائیں مراد علی شاہ اور ان کی ٹیم بڑی ''کائیاں'' ثابت ہوئی، کہ سرے سے خطرے کا ہی سدباب کر دیا۔ اس میں یقیناً محترم زرداری صاحب کی صائب رائے شامل ہوگی، جن کی ہر سیاسی چال ''ہینگ لگے نہ پھٹکڑی، رنگ بھی چوکھا آئے'' کی مصداق ہوتی ہے۔ 'مسٹر ٹین پرسنٹ' سے 'مسٹر ہنڈرڈ پرسنٹ' کا سفر اسی قوم کے سرمائے سے طے کرنے کے باوجود وہ پاک پوتر ہیں، ان کا کوئی ''ساتھی'' اپنی کسی بےتدبیری سے کبھی کسی ادارے کے ہتھے چڑھ بھی جائے تو وہ اس کو اس شان سے بازیاب کراتے ہیں کہ وہی ادارہ پورے پروٹوکول کے ساتھ اسے واپس چھوڑ جاتا ہے۔ سائیں مراد علی شاہ کے مرحوم والد آخری عمر میں بھی ان ''ظالم اداروں'' کے ہاتھوں ستائے گئے، ایک سابق وزیراعلیٰ کو وہیل چیئر پر اور مرض وفات میں بھی عدالتوں کا سامنا کرنے پر مجبور کیا گیا، ایک فرماں بردار وفا شعار بیٹے کی طرح انھوں نے نیب سے وہ انتقام لیا ہے، کہ مرحوم عبداللہ شاہ کی روح ضرور خوش ہوئی ہوگی۔

نیب کو کرپشن کیسز کی تحقیقات سے روک کر، اوراس کو حکومت کے دائرۂ کار میں دے کر انھوں نے پیپلز پارٹی پر بھی بڑا احسان کیا ہے، وہ یوں کہ اندرون سندھ اکثر وڈیرے اور جاگیردار، یہ سوچ کر، کہ اب پی پی کی سیاست ایک بےجان لاشہ اور قصۂ پارینہ بن چکی ہے، مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف میں جا رہے تھے۔ عید الفطرکے بعد زردادی صاحب نے اس حوالے سے اندرون سندھ کا ہنگامی دورہ بھی کیا تھا اور روٹھنے والوں کو منانے میں انھیں ناکامی کا سامناکرنا پڑا تھا، اب وہ خود بخود اپنے فیصلے سے رجوع کریں گے، ورنہ حکومت ان کی کرپشن کی تحقیقات کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے انھیں ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی، یوں پی پی سے سندھ کے اقتدار کو کوئی چھیننے میں کامیاب نہ ہوسکے گا، اور بھٹو اور بی بی کا سندھ انہی کی جماعت کے ہاتھ میں رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   الیکشن 2013 سے اب تک کے سیاسی حقائق - طلحہ شہادت

یہ جمہوریت کا''حسن ''ہے کہ اکثریت کی بنیاد پر جو بھی فیصلہ کیا جائے، وہ قانون کا درجہ حاصل کرلیتا ہے، کاش یہاں قانون کی حکمرانی کے بجائے عدل کی حکمرانی ہوتی، تو کروڑوں کی کرپشن کرنے والے ڈاکٹر عاصم حسین اور شرجیل میمن کو سونے کے تاج نہ پہنائے جاتے، ایان علی ''باعزت'' بری نہ ہوتی، سسلین مافیا اور گاڈ فادر کا لقب پا کر نااہل ہونے والا قوم کی تقدیر کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنے من پسند شخص کو وزیراعظم نہ بناتا، عوامی مجمعوں میں کھلے عام عدالتی فیصلے کو چیلنج نہ کرتا، الیکشن کمیشن سے پارٹی قیادت کے لیے نااہل قرار دیے جانے کے باوجود پارٹی کی کمان نہ کرتا، نااہل ہو کر بھی اسحاق ڈار جیسے لوگ وزارتوں پر براجمان نہ ہوتے۔ واہ جمہوریت، تیرا یہ حسن!!

بہرحال! سندھ کے لٹیروں کو نیا شیلٹر ملنے پر مبارک باد، کہ اب وہ مزید کھل کھیل سکتے ہیں، لیکن یاد رکھیے! ایک عدالت اور بھی لگنے والی ہے… احکم الحاکمین کی عدالت، جہاں پائی پائی کا حساب دینا ہوگا، وہاں نہ کوئی قانون کسی کو بچا سکے گا اور نہ ہی کوئی آرڈیننس، وہاں کے فیصلوں کے خلاف لایا جا سکے گا. کاش! کرپشن کا بازارگرم کرنے والے اس دن کی جواب دہی کا احساس بیدار کریں !!

Comments

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب فاضل درس نظامی ہیں، گزشتہ بارہ سال سے جامعہ بنوریہ عالمیہ سے شائع ہونے والے اخبارکے ادارتی صفحے کی نگرانی کے ساتھ ساتھ تفسیر روح القرآن کے تالیفی بورڈ کے رکن رکین اور تخصص فی التفسیر کے انچارج ہیں، مختلف اداروں کے تحت صحافت کا کورس بھی کراتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں