شرم ہم کو مگر نہیں آتی - عبدالباسط ذوالفقار

وہ دونوں ارد گرد سے بے نیاز بحث مباحثے میں مصروف تھیں۔ ایک اسلام و اسلامی قوانین کو عورت کے لیے سخت، مشکل اور مشرقی معاشرے کو پسماندہ قرار دے کر یورپی و مغربی معاشرے کو بہترین اور وہاں کی آزادی کو عورت کا بہترین حق قرار دے کر تعلیمات اسلام کو سب و شتم کا نشانہ بنا رہی تھی تو دوسری کسی حد تک اس کی بات کا رد کرتے ہوئے اسلام میں عورت کے حقوق کو بہترین قرار دے کر اسلامی قوانین کو عورت کی آزادی کا شاخسانہ قرار دے رہی تھی کہ عورت کو آزادی دراصل دی ہی اسلام نے ہے۔

وہ ببانگِ دہل کہہ رہی تھی ہمارے ہاں خواتین کو ظلم سہنے کی عادت ہوگئی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں مردوں کو جو حقوق حاصل ہیں ان سے عورتوں کو محروم رکھا گیا ہے۔ ہر جگہ تعلیم یافتہ و باشعور عورت کو جنس و نسل معیار کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جو کہ زیادتی ہے۔ جبکہ یورپی و مغربی ممالک میں عورتوں کے لیے آزادی ہے، انہیں مردوں سے زیادہ حق دیا جاتا ہے۔ جس سے وہاں کی عورتوں کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں عورت کو آزادی نہیں دی گئی جس سے اس کی حوصلہ افزائی کی بجائے حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔

وہ گاڑی میں ہم سے پچھلی نشست پر بیٹھی، غالباً کسی یونیورسٹی، کالج کی اسٹوڈنٹس تھیں۔ جب کافی وقت تک ان کی چخ چخ اور کٹر کٹر بند نہ ہوئی بلکہ بحث مزید بڑھنے لگی تو میرے قریب بیٹھے سفید ریش بزرگ تسبیح جیب میں ڈالتے ہوئے پیچھے مڑ کر گویا ہوئے بیٹا! سٹوڈنٹ لگتی ہیں، یونیورسٹی سے آرہی ہیں؟ ان دونوں نے اثبات میں سر ہلایا تو بزرگ دوبارہ بولے بیٹے آپ پڑھی لکھی ہیں ، کافی ٹائم سے آپ کی بات سن رہا ہوں۔ آپ مجھ سے بہتر سمجھتی ہیں۔لیکن بیٹا! آپ کو پتا ہے؟ جس آزادی کی آپ بات کر رہی تھیں وہ کب ملی؟ اس نے نفی میں سر ہلایا تو بابا جی بولے "انیسویں صدی میں مغرب نے عورت کے لیے کچھ حقوق ترتیب دیے جسے وہ آج عورت کی آزادی کے نام سے یاد کرتا ہے۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کے چارٹر میں "مرد و عورت کے حقوق برابر ہیں" لکھا گیا۔ ان اصلاحات سے ظاہراً تو عورت کی عزت میں اضافہ ہوا، مرد کے شانہ بہ شانہ کام کرنے لگی۔ وہ ہی حق ملا جو آپ نے یاد کیا۔ وہ اپنے آپ کو آزاد محسوس کرنے لگی لیکن مساوات مرد و زن کا یہ تصور بھی اس کے دکھوں کا مداوا نہ کر سکا۔ کیونکہ یہ مغرب کی چال تھی اس نے عورت کو چادر و چار دیواری سے باہر کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   مساوی حقوق: ایک واہمہ - ڈاکٹر محمد اسماعیل ولی

مغربی عورت نے آزادئ نسواں کا نعرہ لگا کر اپنے مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کی تھی۔ مگر وہ مسائل اب ایک جدید شکل میں اس کے سامنے تھے۔ پہلے عورت شوہر کی ہی محکوم تھی۔ اب کسی کمپنی، دفتر، کارخانے، فیکٹری، اور ان کے مالکان کے ساتھ ساتھ حکومت کا محکوم ہونا پڑا۔ عورت جسے گھر سنبھالنا مشکل لگتا تھا اسے آج گھر کے ساتھ ساتھ فکرِ معاش کا بوجھ بھی اٹھانا پڑ رہا ہے۔

پہلے عورت گھر سے باہر نکلنے کے لیے بے تاب تھی آج واپس گھر میں رہنے کے لیے بے چین مگر کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ مغرب جو عورت کے کی بات کرتے ہوئے انسانی حقوق کا علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ وہ سراسر جھوٹ، فریب پر مبنی ہے۔ شاید آپ مجھ سے اتفاق نہ کریں کیونکہ مغربی معاشرے میں عورت کی تذلیل ویسے ہی ہوتی ہے جیسے صدیوں پہلے ہوتی تھی۔ مغرب کی جس آزادی کی بات آپ کر رہی تھی اس کا نتیجہ انتہائی حد تک کرب لیے ہوئے ہے۔

اس کا اندازہ مغربی ماہرین کے اعداد و شمار سے لگایا جاسکتا ہے۔ جس معاشرے کی آپ نے مثال دی اس سوسائٹی میں ہر دس منٹ میں ایک عورت کی آبرو ریزی کی جاتی ہے۔ اس معاشرے میں خاندان کا شیرازہ بکھرنے کی وجہ سے صرف آٹھ دس فیصد بچوں کو والدین کی سرپرستی حاصل ہے۔ مغربی ممالک ڈنمارک، برطانیہ، فرانس، امریکہ میں ناجائز بچوں کا تناسب 15فیصد ہے۔ صرف ایک مغربی ملک جرمنی کی ہی مثال لے لیں، وہاں ایک کروڑ بیس لاکھ افراد تن تنہا زندگی گزار رہے ہیں ان میں سے 43فیصد نے شادی ہی نہیں کی اور شادی کے بغیر مرد و زن کا اکٹھا رہنے کا تناسب تقریباً 27فیصد ہے۔ ایک جرمن بچے کو 24گھنٹے میں ماں باپ صرف اوسطاً آدھا گھنٹہ دے پاتے ہیں۔ صرف جرمنی میں تقریباً 26لاکھ خواتین ایسی ہیں جو شادی کے بغیر ایک بچے کی ماں ہیں۔ اسی طرح ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کی مرکزی حکومت کے دفاتر میں کام کرنے والی عورتوں کی 82فیصد تعداد کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   وائی کنگز کے کفن پر کندہ لفظ "اللہ"... حقائق کیا ہیں؟ - مہتاب عزیز

جن معاشروں میں عورتوں کو مردوں سے زیادہ کے حق کی آپ بات کر رہی تھیں ناں؟ ان میں سےامریکہ میں مردوں کے مقابلے میں عورتوں کی تنخواہ 24فیصد کم، فرانس میں31، ڈنمارک میں65، برطانیہ میں 42، اٹلی میں 35 اور جرمنی میں 44 فیصد کم ہے۔ یہ ہے اس سوسائٹی کا اصلی روپ جسے آپ بہترین سمجھ رہی ہیں اور اس معاشرے کے دانشور حلقوں میں کھلبلی مچی ہے کہ یہ ہو کیا رہا ہے؟ وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور اپنے آپ کو اس کریہہ معاشرے سے نکالنے کی پلاننگ میں مصروف ہیں، مگر کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔

اور ہاں! جس اداکارہ کا آپ نے انٹرویو سن یا پڑھ کے اس کی باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے اُس معاشرے کو اچھا سمجھا ہے ناں، آپ کو پتا ہے وہ ایک مرد کے پاس تین لے پالک بچوں کو لے کر آئی اور اس مرد سے بھی تین بچے ہو چکے ہیں۔ مگر وہ ابھی تک اس سے شادی کے لیے راضی نہیں ہوئی اور وہ شخص بھی اسے شادی کے لیے راضی کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ تو آپ بتائیں، کیا آزادی کی یہ شکل ہمیں قبول ہے؟

بیٹا! مجھ بڈھے گنوار سے آپ اچھا سمجھتی ہیں، پڑھی لکھی ہیں، سمجھدار ہیں لیکن میں آپ کو بتاؤں اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو عورت کے حقوق کی مکمل اور محفوظ ضمانت دیتا ہے۔ ایک ایسا روشن چراغ ہے جس سے مغربی معاشرے کی سیکڑوں خواتین نے روشنی حاصل کی ہے۔ صرف جرمنی و برطانیہ میں تیس ہزار سے زائد خواتین اسلام کے سائے میں آچکی تھی کیونکہ انہیں محسوس ہو گیا کہ اسلام ہی محفوظ و مامون پناہ گاہ ہے۔

نومسلم مغربی معاشرے کی عورتوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلامی تعلیمات میں عورت کو جو عظمت و تقدس ملا ہے وہ مغربی معاشرے میں ناپید ہے۔ آپ بھی اسلامی قوانین کا مطالعہ کریں انہیں جاننے کی کوشش کریں، ان کی قدر کریں۔

بابا جی نے سانس لیا اور کچھ توقف سے گویا ہوئے ، اچھا بیٹا! میرا سٹاپ آگیا کوئی بات بری لگی ہو تو معاف کرنا، آپ کا بہت سا وقت ضائع کیا۔ ساتھ ہی گاڑی رکی اور وہ فرشتہ صفت سفید ریش بزرگ تسبیح جیب سے نکال کر عصا تھامے سب کو مبہوت چھوڑ کر گاڑی سے اتر گئے اور ہم ٹکٹکی باندھے دیکھتے رہ گئے۔

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!