لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر - خواجہ مظہر صدیقی

میں رات بھر سو نہیں سکا. گذشتہ شب قیامت کی شب رہی- ایک ننھا معصوم چہرہ ذہن و دماغ پر چھایا رہا. سیانے سچ کہہ گئے ہیں کہ دنیا میں آنے کی ترتیب تو ہوتی ہے مگر جانے کی نہیں. کسی کا گھر یوں پل بھر میں اجڑ جائے. ایسا سوچ کر ہی جسم و جان پر خوف چھا جاتا ہے. خوف بھی ایسا کہ روح تک نکلتی محسوس ہوتی ہے. میری نیند چھن جانے کا باعث ننھا حامد تھا. لالہ موسی کے بارہ سالہ حامد کی اچانک موت نے مجھے سونے نہیں دیا. اچانک موت سے میرے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پناہ مانگی ہے. روڈ مارچ کا قافلہ اسے موت کے سفر پر بھیج کر سڑک پر تڑپتا چھوڑ گیا. قافلے نے مڑ کر اور رک کر نہیں دیکھا. میاں نواز شریف کے قافلے کی زد میں آ کر وہ معصوم ہم سب کو صدمے میں مبتلا کر گیا. وہ مجھ سے رات بھر خیالوں میں آ آ کر پوچھتا رہا کہ"سر! بچے تو سب کے سانجھے ہوتے ہیں، آپ اپنے بچوں میں سکون سے سوئے ہوئے ہیں. میرے والدین کا لخت جگر تو اب کھو گیا ہے. انہیں تسلی و دلاسہ کون دے گا؟ کیا انہیں ان کا حامد مل جائے گا؟"

انسانی جان کا ضیاع ایسا اندوہ ناک واقعہ ہے کہ اس کا دکھ ہر توجیہ پر غالب ہو جاتا ہے. پھر اگر مرنے والا بچہ ہو تو غم اور غصہ اور بڑھ جاتا ہے. ہمارے حکمرانوں کا طرز عمل عجیب ہی ہے کہ پانچ دس لاکھ روپے ورثاء کے منہ پہ مار کر جان چھڑا لی جاتی ہے. کسی نے سچ کہا ہے کہ قافلے چلتے رہتے ہیں اور غریب مرتے رہتے ہیں.

اس سے بڑھ کر مذاق اور کیا ہوگا کہ ایک معصوم بارہ سالہ بچہ سابق وزیراعظم کے قافلے کی گاڑی کی زد میں آ کر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا اور خواجہ سعد رفیق اور کیپٹن صفدر فرما رہے ہیں، "یہ ان کی موجودہ جدوجہد کا پہلا شہید ہے". یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ معصوم جس گاڑی کے نیچے آ کر کچلا گیا، تو اس گاڑی میں سوار افراد نے رک کر، اسے بچانے کی کوشش کیوں نہ کی. کون سا خمار اور کیسی مستی انہیں اس جانب متوجہ نہ کر سکی؟ سنگ دلی اسی کو کہتے ہیں. اسی کا نام بے حسی اور سفاکیت ہے.

یہ بھی پڑھیں:   تباہی کی جانب لے جاتا سیاسی بحران - یاسر محمود آرائیں

وائے افسوس! کہ نہ گاڑی کی رفتار کم ہوئی اور نہ اس میں بیٹھے افراد کے ضمیر نے انہیں روکا. حتی کہ اس قافلے میں موجود غالبا گیارہ ایمبولینسوں کو بھی توفیق نہ ہوئی کہ وہ اس تڑپتی لاش کو ہسپتال تک لے جا سکیں. زندگی کی جنگ لڑتے اس زخمی حامد کو معمولی سے چنگ چی رکشے پر ہسپتال لے جایا گیا. جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملا. ایک اور سوال سوال بھی گردش کر رہا ہے اور مجھ سے بھی کیا جا رہا ہے کہ اگر یہ کسی اشرافیہ کے بچے کی ہلاکت ہوتی تو کیا قافلہ یوں ہی فراٹے بھرتا رواں دواں رہتا؟

خاکسار کا مشورہ ہے کہ فوری طور پر وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کو بذات خود متاثرہ خاندان کے پاس پہنچنا چاہیے اور یہی عمل کی گھڑی ہے کہ وہ ثابت کریں کہ جس غریب کا کوئی نہ ہو، اس کی وارث سرکار خود ہوتی ہے. حادثے کے روز ہی میاں نواز شریف گوجرانوالہ کے جلسے میں بچے کے گھر جانے اور اس کے ورثاء کی امداد کا وعدہ بھی کر چکے ہیں. اس امر کو یقینی بنانا چاہیے کہ جس بھی محکمے کی گاڑی نے بارہ سالہ حامد کو کچلا ہے، اس کے خلاف بھرپور کاروائی ہو. سکواڈ کے خلاف بھی ایکشن لیا جانا ضروری ہے، جو شدید زخمی حالت میں بچے کو تڑپتا چھوڑ کر بےحسی و سفاکیت کی نئی تاریخ رقم کر گیا. اس سنگ دلی کے مظاہرے پر جس کسی کا جرم ثابت ہو اس کو سزا بھی ملنی چاہیے.

لمحہ فکریہ ہے کہ ہمارے سیاسی سرخیل لاشوں پر سیاست چمکانے کے ماہر بنے ہیں. وقت اور حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے انتہائی ضروری ہے کہ اب لاشوں پر سیاست کرنے کی روایت بھی ختم ہو جانی چاہیے. یہ لازمی ہے کہ ننھے حامد کی لاش کو بھی سیاسی ایشو بننے سے روکا جائے. اس حادثے پر آگ لگانے اور بھڑکانے کے کام سے نجی ٹی وی چینلوں کو بھی گریز کرنا چاہیے، ورنہ اس آگ کے شعلے ان سب تماشہ سجانے والوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے.

یہ بھی پڑھیں:   زوال کا ذمہ دار کون؟ - رعایت اللہ فاروقی

حرف آخر!
اس قافلے کی سنگ دلی پر جس قدر ماتم کیا جائے کم ہے، مگر اس کا کفارہ اسی صورت ادا ہو سکتا ہے کہ شریف برادران اس میں ذاتی دل چسپی لیں اور ہر صورت دل خراش واقعہ میں ملوث مجرموں کو سخت سزا دلوائی جائے تا کہ بچے کے ورثاء کی تسلی اور تشفی ہو سکے.
بقول شاعر
حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا
لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر

Comments

خواجہ مظہر صدیقی

خواجہ مظہر صدیقی

خواجہ مظہر صدیقی بچوں کے ادیب، کالم نگار، تربیت کار و کمپیئر ہیں۔ تین کتابیں بعنوان نئی راہ، دھرتی ماں اور بلندی کا سفر، شائع ہو چکی ہیں۔ تجارت پیشہ ہیں، ملتان سے تعلق ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں