ننھےحامد کا عالم بالا سے میاں صاحب کو خط - محمد ابراہیم شہزاد

پیارے انکل نواز شریف!
مؤرخہ 11اگست بروز جمعہ آپ کا تیز رفتار گاڑیوں کا قافلہ میرے شہر سے گزر رہا تھا جب میں اپنی امی سے ضد کر کے اپنے پیارے سابق وزیراعظم کی زیارت کرنے کی نیت سے جی ٹی روڈ پر آ گیا، اگر اس وقت میری ماں کو اندازہ ہوتا کہ یہ ضد اس کے ننھے حامدکی نہیں بلکہ فرشتہء اجل اس سے کروا رہا ہے تو شاید وہ خود بھاگ کر میری جگہ اس تیزرفتار گاڑی کو اپنے خون کا نذرانہ پیش کر دیتی. اب میرے دنیا سے چلے جانے کے بعد میری امی اور ابو کا جو حال ہے وہ کل سے مختلف ٹیلی ویژن کی سکرینوں سے کبھی کبھی آپ کی تقریر ختم ہونے کے بعد دکھایا جا رہا ہے، لیکن آپ تو اپنی زندگی کے سب سے بڑے مشن پر نکلے ہوئے ہیں، آپ کے پاس کہاں ٹائم ہوگا یہ سب دیکھنے کا؟ آپ کو تو یہ بتایا گیا ہے کہ میں آپ کی اس جدوجہد میں شامل ہو کر اپنی جان قربان کرنے والا قافلے کا پہلا شہید ہوں، آپ کے داماد نے تو میری شہادت کو تحریک پاکستان کی شہادتوں سے بھی منسوب کر دیا، اب خدا جانے ان کی اس تشبیہ کا مقصد میری شہادت کو عظیم قرار دینا تھا، یا آپ کی اس عدلیہ مخالف تحریک کو تحریک پاکستان جیسا قرار دینا تھا، ویسے میرا ذاتی خیال یہی ہے کہ ان کا یہ کمپلیمنٹ آپ کی اس تاریخی ریلی کے لیے ہی تھا، اگر میرے لیے ہوتا تو شاید آپ کا کوئی ادنیٰ سا کارکن ہی میرے والدین کی اشک شوئی کے لیے انہیں پُرسہ دینے ضرور آجاتا۔ میں تو صرف کاروان ِشاہی کا دبدبہ اور جاہ و جلال دیکھنے کے لیے آیا تھا اور گھر واپسی پر جشن ِ آزادی کے لیے اپنے چھوٹے سے گھر کو سجانے اور اپنے بہن بھائیوں کو آزادی کی خوشیوں سے آشنا کرنے کے لیے سبز ہلالی جھنڈیاں خریدنے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن آپ کے جاہ و جلال کا عملی ثبوت میری بےوجہ موت کی شکل میں میرے والدین کو برداشت کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں:   ماڈل ٹاؤن رپورٹ، تصادم کی سیاست کا نتیجہ - یاسر محمود آرائیں

انکل نواز شریف!
جو ہونا تھا سو ہوا، شہادت میری تقدیر میں لکھی تھی سو مجھے مل گئی. میری دعا ہے کہ آپ کو کبھی اپنے کسی لخت جگر کی ایسی ان چاہی شہادت دیکھنا نصیب نہ ہو، ورنہ اس صورت میں تو آپ کسی جلسے میں اس کی شہادت کا فخریہ اعلان کرنے کے قابل بھی نہ رہیں گے، جیسے آپ میرے لیے کرتے رہے لیکن انکل کل سے میرے ذہن میں آپ کے لیے کچھ سوالات ہیں جن کے جواب آپ کو ضرور دینے چاہییں۔

انکل!
اگر آپ اس وقت سابق وزیر اعظم ہیں تو پھر آپ کا پروٹول ابھی تک حاضر سروس وزیر اعظم سے بھی زیادہ کیوں ہے؟ جس کے اخراجات میرے جیسے کروڑوں بچوں کے والدین روزانہ اپنی خون پسینے کی کمائی سے ٹیکسوں کی شکل میں دیتے ہیں؟

پیارے انکل!
اگریہ حادثہ اللہ کی طرف سے میرے نصیب میں لکھا تھا اور آپ کے سکواڈ کی تیز رفتاری کا شکار ہو گیا تو اس کا الزام میں آپ کو نہیں دیتا لیکن کیا یہ آپ کا فرض نہیں تھا کہ حادثے کے بعداخلاقاََ آپ رک جاتے یا کم از کم اپنے پروٹوکول سکواڈ میں شامل اس ایمبولینس جس میں ڈالے جانے والے پٹرول میں میرے باپ کی کمائی کا بھی ایک معقول حصہ شامل ہوتا ہے، کو حکم دیتے کہ مجھے ابتدائی طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال میں منتقل کرتے، شاید میری جان بچا لی جاتی؟

نواز انکل!
اگر آپ نے اسلام آباد سے لاہور کے سفر میں چار دن تک عوام کو بےحال کرتے ہوئے ایک ہی تقریر بار با ر سنانی تھی تو بہتر نہیں تھا کہ آپ کسی ٹی وی چینل کا سہارا لے کر قوم سے خطاب کر کے اپنا پیغام بیس کروڑ لوگوں تک پہنچا دیتے تو کیا آج میں زندہ نہ ہوتا؟

میرے عزیز انکل!
جب آپ کی پیاری بیٹی جوڈیشل اکیڈمی کے با ہر کھڑی للکار رہی تھی ’’روک سکو تو روک لو‘‘، اگر آپ اس وقت ان کو جے آئی ٹی کے سامنے جعلی دستاویزات پیش کرنے سے روک لیتے تو کیا آج آپ کو شدید گرمی میں جی ٹی روڈ پر جھلستے ہوئے لوگوں سے یہ سوال پوچھنا پڑتا کہ ’’میرا قصور کیا ہے‘‘؟

یہ بھی پڑھیں:   زوال کا ذمہ دار کون؟ - رعایت اللہ فاروقی

انکل!
اگر آپ نے اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران اپنے خاندان کو مضبوط کرنے کے بجائے پاکستانی اداروں کو مضبوط کیا ہوتا تو میرے ماں باپ کو میرے قتل کی ایف آئی آر کٹوانے کے لیے اتنی تگ و دو کرنا پڑتی اور اگر حقائق پر مبنی ایف آئی آر درج کی جاتی تو کیا آج آپ کے اوپر ماڈل ٹائون کے 14 قتلوں کے بعد میرے 15ویں خون کا الزام نہ ہوتا؟

انکل!
اگر آپ کے داماد اور ایک وفاقی وزیر کے مطابق میں آپ کے قافلے کا سیاسی شہید ہوں (جو ابھی سیاست کے ہجوں سے بھی واقف نہیں) تو لاہور میں موجود آپ کی صوبائی حکومت کا ایک وزیر سارا دن میڈیا پر یہ کیوں کہتا رہا کہ اس حادثے کا ن لیگ کی ریلی سے کوئی تعلق نہیں؟ اور آپ کا ایک خیر خواہ تو یہ بھی کہتا پایا گیا کہ میری موت میرے والدین کی غیر ذمہ داری کا شاخسانہ ہے، ان کو کس نے کہا تھا کہ ایک 12سالہ بچے کو ریلی میں بھیجیں، اس پر آپ کا کیا خیال ہے؟

جان سے پیارے انکل!
اگر میڈیا کی میرے بارے میں رپورٹ کی جانے والی بک بک سے تنگ آ کر آپ کو دلاسہ دینے میرے گھر جانا پڑ گیا اور سیاسی روایت کو نبھانے کے لیے میرے والدین کی مالی امداد کا بھی اعلان کرنا پڑا تو کیا میرے ماں باپ اس پیسے سے میرا وجود دوبارہ حاصل کر پائیں گے؟

نواز شریف انکل!
آخر میں ایک گزارش ہے کہ اگر آپ نے اپنی عدالتی نااہلی کے فیصلے کو اپنے مینڈیٹ کی توہین قرار دے کر پاکستان کے آئینی اداروں سے ٹکرانے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے، تو خدا کے لیے میرے ناحق خون کو اپنے مشن کی پہلی قربانی کا نام نہ دیں۔
خدا آپ کا حافظ و ناصر
والسلام
حامد ولد رحمت الٰہی
موجودہ پتہ : جنت الفردوس
سابقہ پتہ: لیاقت آباد کالونی ،جی ٹی روڈ لالہ موسیٰ