خواجہ صاحب! شرم کریں - احسان کوہاٹی

اس کا خون سے لتھڑا چہرہ دیکھنے کی سیلانی میں ہمت نہ تھی، وہ بے اختیار جھرجھری لے کر رہ گیا، اس کے ہاتھ پیر پھیلے ہوئے اور آنکھیں حلقوں سے باہر نکلنے کو تھیں۔ تکلیف، اذیّت اور کرب اس کے پھول سے چہرے پر نقش ہو کر رہ گیا تھا۔ لہولہان چہرے اور جھولتے ہاتھوں پیروں نے اس کے غریب باپ کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی۔ دل میں ایک ٹیس سی اٹھی اس کا ہاتھ سینے پر اٹھا مگر وہ خود گر گیا۔ جگر گوشے کا لہولہان لاشہ دیکھ کر اسے دل کا دورہ پڑا اور وہ گر گیا۔ عزیز، رشتہ دار اسے لے کر اسپتال بھاگے کہ بیٹا تو جان سے گیا ہی، باپ بھی نہ چلا جائے۔ سیکنڈوں منٹوں میں ایک غریب رکشہ ڈرائیور کے گھر میں قیامت بپا ہوگئی۔

لالہ موسیٰ کا بارہ سالہ حامد 'جنج' دیکھنے گھر سے نکلا تھا۔ 67 سالہ وزیر اعظم عدالت کے حکم پر نااہلی کا سہرا باندھے بارات ہی کی صورت جی ٹی روڈ پر چڑھے تھے۔ زندگی کی سڑسٹھ بہاریں دیکھنے والے میاں صاحب کی زندگی چوں کہ سب سے قیمتی ہے، ان ہی کے دم سے وطن عزیز کے گلوں میں خوشبو اور کھلیانوں میں ہریالی ہے، سو ان کے لیے خصوصی طور پر بلٹ پروف ٹرالر بنایا گیا۔ جس میں خاص خیال رکھا گیا کہ اس شاہی سواری پر "رعایا" اور موسم کی حدّت کا سایہ تک نہ پڑ ے۔ میاں صاحب پوری شان و شوکت کے ساتھ مصاحبوں، درباریوں اور مشیروں کے ساتھ اس شان سے لاہور روانہ ہوئے کہ کوئی رئیس اورنواب بھی اپنی دولہن کو لینے کیا جاتا ہوگا؟

طلاق کے بعد بارات ڈھول باجوں تاشوں کے سا تھ روانہ ہوئی تو جہاں جہاں خبر گئی وہاں وہاں سے خلق خدا بھی یہ انوکھی بارات دیکھنے کے لیے گھروں سے نکلی۔ لالہ موسٰی کا بارہ سالہ حامد بھی ان ہی میں سے تھا۔ ایک غریب رکشہ ڈرائیور کے بچے کو بھلا سیاست اور سیاست دانوں سے کیا لینا دینا؟ وہ تو چم چم کرتی یہ لمبی لمبی گاڑیاں دیکھنے آیا تھا۔ اس نے ٹی وی پر دیکھا تھا کہ لش لش کرتی گاڑیاں ایک دوسرے سے چپکی چلی جاتی ہیں۔ جلوس میں لوگوں نے ہاتھوں میں بھس بھرے شیر اٹھا رکھے ہیں۔ ڈھول تاشوں پر بھنگڑے ڈالے جارہے ہیں۔ نان حلوے کا لنگر بھی ہے۔ اس کشش نے حامد کو اپنی طرف کھینچ لیا وہ سڑک کنارے کھڑا ہو کر یہ نظارہ دیکھنے لگا۔ جہاں جہاں تک اس کی نظر جاتی گاڑیاں گاڑیاں ہی دکھائی دیتیں۔ پولیس کے تھکے ماندے جوان ساتھ چلتے نظر آتے۔ اسے بتایا گیا کہ یہ میاں صاحب کا جلوس ہے۔

جلوس میں گاڑیوں پر اس کے قد سے بڑے بڑے اسپیکر بھی تھے، جن پر اونچی آواز میں سیاسی گانے چل رہے تھے لوگ تھرک رہے تھے نعرے لگا رہے تھے
"میاں دے نعرے۔۔۔۔وجن گے"
پھر آواز آتی
"دشمن سارے۔۔۔ بھجن گے"
کوئی بیٹھی ہوئی آواز بلند کرتا
"دیکھو دیکھو کون آیا؟"
لوگ چلا کرجواب دیتے "شیر آیا، شیر آیا!"

حامد یہ سب دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے ساتھ کھڑے لوگ ان گاڑیوں پر پھولوں کی پتیاں پھینک رہے تھے۔ ان کا استقبال کر رہے تھے۔ اس کا بھی دل چاہا کہ وہ چم چم کرتی گاڑیوں پر کچھ پھول پھینکے۔ پھر اس نے بھی اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں پھولوں کی پتیاں بھر لیں۔ وہ بھی ان گاڑیوں پر یہ پھولوں کی پتیاں پھینک رہا تھا اور اس سارے عمل کا حصہ بننے پر خاصا پرجوش تھا۔ گاڑیان زن زن کرتی گزر رہی تھیں۔ وہ سڑک کنارے کھڑا ہاتھ ہلا ہلا کر "باراتیوں" کو الوداع کہنے لگا۔ نہیں جانتا تھا کہ اصل میں الوداع کہنے کا وقت تو اس کے لیے ہے۔ وہ وہاں کھڑا تھا کہ ایک بدمست گاڑی اس کی جانب اس رفتار سے بڑھی جیسے اسکول جاتے ہوئے راستے میں چوہدری کی زمین پر بندھا کتا اس کی جانب اچھلتا ہے۔ کتے سے تو وہ بچ جاتا تھا مگر اس بڑی سی گاڑی سے نہ بچ سکا۔ گاڑی نے اسے ٹکر ماری وہ نیچے گرا، پہلی گاڑی اس کے پیر سے گزری اور پھردوسری گاڑی کا اگلا پہیہ اس کے کمزور وجود پر سے گزر کر اسے میاں نوازشریف کے غیرت مند قافلے کا شہید بنا گیا۔ وہاں کھڑے لوگوں نے چیخ کر ڈرائیور کو روکنے کی کوشش کی مگر وہاں تو اک شور تھا
"شیر آیا، شیر آیا۔۔۔۔"
"یااللہ یارسول، نوازشریف بے قصور!"

اس شور میں حامد کی چیخ کون سنتا؟ ایک گاڑی حامد پر سے گزری اور دوسری بھی گزر گئی۔ حامد کچلا گیا، جان سے گیا۔ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے گاڑیوں پر پھول اچھالنے والا حامد اپنی جان سے گیا۔

یہ قیامت تھی جو حامد کے گھر والوں پر گزر گئی، لیکن یہ قیامت نہیں تھی، قیامت یہ تھی کہ وہاں لوگوں نے حامد کا لہولہان ٹوٹا پھوٹا بدن سمیٹ کر گاڑیوں کو روکنے کی کوشش کی لیکن میاں کے چاہنے والے اب کہاں رکنے والے تھے؟ گاڑیاں زن زن کرتی گزر گئیں۔ کسی کی حامد کے لہولہان بدن پر نظر بھی پڑی تو اپنے "ووٹوں کی توہین" پر برہم میاں صاحب کے متوالے نے وہ نظر فوراً ہی سمیٹ لی اور "شیر آیا، شیر آیا" کا نعرہ لگاتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ ایک انسانی جان سے زیادہ اہم میاں صاحب کی پارلیمانی زندگی کے خاتمے کا جوشیلا ماتم تھا۔ سو وہ تھرک، تھرک کر نعرے مار کر یہ ماتم کرنے لگے اور وہاں سے گزرتے رہے اور حامد اکھڑی ا کھڑی سانسیں سمیٹنے لگا۔ آپ کہیں گے کہ واقعی یہ تو قیامت ہو گئی؟

نہیں قیامت یہ ہے کہ اس کے باوجود میاں صاحب کے لیے گوجرانوالہ میں پرتکلف ناشتے کا اہتمام کیا گیا۔ حامد کی لاش کو ابھی مٹی بھی نصیب نہیں ہوئی تھی کہ میاں صاحب کے سامنے سری پائے، مغز اور تل والے اسپیشل نان پہنچ گئے۔ قیامت یہ ہے کہ میاں صاحب کی "سیاسی چیخ" خواجہ سعد رفیق نے کسی افسوس کا اظہار کرنے کے بجائے، مصنوعی ہی سہی مگر مچھ کے آنسو بہانے کے بجائے، ڈھٹائی سے حامد کو قافلے کا پہلا شہید قرار دے دیا۔ خواجہ سعد رفیق جیسے سیاست دان سے سیلانی کو اس سفاکی اور بے حمیتی کی امید نہیں تھی۔ سیلانی نے صبح ایک نیوز چینل کے ٹاک شو میں حیرت سے سعد رفیق کو سفاکی سے یہ سب کہتے ہوئے سننے لگا۔ پہلے تو اسے یقین نہیں آیا لیکن منظر صاف تھا۔ سامنے سعد رفیق ہی تھے اور آواز بھی انہی کی تھی۔ بے اختیار سیلانی کے منہ سے نکلا سعد صاحب! اگر یہ بچہ آپ کے آنگن کا پھول ہوتا، وہ قاتل گاڑی ایک رکشہ ڈرائیور کے بچے کے بجائے وزیر ریلویز کے لخت جگر کو روندتی ہوئی گزرتی تو آپ اسی حوصلے سے اپنی فرزند کی شہادت کا اعلان کرتے؟ آپ سری پائے اور تل والے نان کھا کر ڈکار لیتے؟ مائک پکڑ کر "شیر آیا، شیر آیا" کا شور و غوغا مچاتے؟ سنا ہے کیپٹن صفدر نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا ہے۔ سیلانی ان دونوں حضرات سے مخاطب ہو کر یہ کہے کہ ہم بھوکے ننگے لوگ جھولیاں پھیلا پھیلا کر آپ کے بچوں کے لیے ایسی شہادت کااعلان کریں گے تو آپ آمین کہنے والوں میں ہوں گے؟ تھوڑی دیر کے لیے تارکول پر بہتے لہو کو ایک رکشہ ڈرائیور کے بجائے اپنے اولاد میں سے کسی کا خون سمجھ کر وہ الفاظ تو دوہرا دیں؟ بتائیں کیا ہے حوصلہ؟ کیا ہے ہمت؟ ڈھیروں تلخی لیے سیلانی، خواجہ سعد رفیق کو ڈھٹائی سے حامد کو جمہوریت کا شہید قرار دیتے ہوئے دیکھنے لگا اور دیکھتا رہا، دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!