اسٹیبلشمنٹ کی پسپائی اور میاں صاحب کا مستقبل - محمد زاہد صدیق مغل

پاکستان کی تاریخ میں پنجاب کے اندر کسی بڑے لیڈر کی طرف سے اس قدر وسیع پیمانے پر اتنی بلند اینٹی اسٹیبلشمنٹ آواز فقید المثال ہے۔ دھیان رہے، آج تک یہی تاثر مضبوط رہا ہے کہ پاکستان میں پنجاب ہی اسٹیبلشمنٹ کی محفوظ پناہ اور رصدگاہ ہے۔ مستقبل کا مورخ جب "پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کی پسپائی" کی تاریخ لکھنے بیٹھے گا تو "پنجاب میں اسٹیبلشمنٹ کی پسپائی" کا باب "نواز شریف اور اس کی ریلی" کا ذکر کیے بغیر شاید کبھی مکمل نہ ہوگا۔ چنیدہ وزرائے اعظم کو چور راستوں اور زور زبردستی گھر بھیجنے کے بعد آج تک اس قوم کے حافظوں میں "مٹھائیوں" کی بازگشت تازہ ہوجایا کرتی تھی۔ میاں صاحب نے اس روایت کو ملیا میٹ کرکے اسٹیبلشمنٹ کو پیغام دے دیا کہ ایسا ہمیشہ نہیں چلے گا۔

اسٹیبلشمنٹ کی ہمیشہ سے یہی کوشش رہی ہے کہ ملک میں قومی سطح کی کوئی مضبوط لیڈر شپ پنپنے نہ پائے اور جب کبھی ایسا ہونے کا خدشہ ہوا اس لیڈر کو "ٹھکانے" لگانے کا بندوبست کیا گیا تاکہ چھوٹے قد کے سیاستدانوں کو "اپنے مطابق" ڈیل کیا جاتا رہے۔ چنانچہ بھٹو صاحب کی پھانسی ہو، محترمہ کو ہرانے کے لیے بنائی گئی آئی جے آئی ہو اور یا پھر میاں صاحب کی حکومت کے خلاف مارا جانے والا شب خون ہو، سب کا مقصد ایک ہی رہا ہے کہ "فرسٹ لائن" کی لیڈرشپ کو سائیڈ لائن کرکے اپنے وقت کے چھوٹے قد والے سیاستدانوں کو آگے لایا جائے، اور اس عمل کے لیے بدترین سیاسی کرپشن و معاشرتی توڑ پھوڑ کو روا رکھا گیا۔ ایک کے خلاف دوسرے سیاستدان کھڑے کرنا، انہیں گرانا، بلک بدر کرنا اور یا پھر انھیں موت کے گھاٹ اتار دینا، یہی سب ان کا وتیرہ ہے۔ محترمہ بےنظیربھٹو کے بعد حالیہ لہر اسی تسلسل کا حصہ ہے جس کا مقصد بچ جانے والے دوسرے لیڈر کو منظر نامے سے "آؤٹ" کرکےماحول کو اپنے حق میں صاف رکھنا ہے۔ وہ جسے فی الوقت "تیسرا" سمجھا جا رہا ہے، وقت آنے پر اس کا مستقبل بھی یہی ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   بوٹ پالیشیا ہی سمجھ لو - محمود فیاض

ترکی میں طیباردگان نے آہستہ آہستہ کامیابیاں سمیٹنے کے بعد جس طرح وہاں کی اسٹیبلشمنٹ کو بالکل بیک فٹ پر جانے پر مجبور کردیا، ہمارے یہاں کی اسٹیبلشمنٹ اپنے لیے ایسی کسی صورت حال کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، اور اب وہ کسی بھی قیمت پر کسی ایسی مقبول لیڈرشپ کو پاؤں جمائے رکھنے کی اجازت نہیں دے گی، جو تسلسل کے ساتھ پرفارم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے یہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہوسکتی ہے، یہاں تک کہ مارشل لاء کے آپشن تک بھی، بالخصوص اگر میاں صاحب نے نیب ریفرنس کیسز کی بلیک میلنگ کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا اور وہ عوام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہ کر ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے۔ قرین قیاس ہے کہ پریشرائز کرنے کے لیے مستقبل میں انہیں اور ان کے بچوں کو جیل بھیج دیا جائے اور عدالتوں کے ذریعے سزائیں بھی سنا دی جائیں۔ اگر اس سب سے صورت حال "قابو" میں آگئی تو درست وگرنہ مارشل لاء یا اس جیسا کوئی عبوری اقدام بعید از قیاس نہیں۔

عدلیہ کے ذریعے میاں صاحب کو نااہل قرار دینے والوں کا خیال تھا کہ میاں صاحب خاموشی کے ساتھ گھر کو ہو لیں گے اور پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے گی، جس سے "امپائروں کی ٹیم " والے کھلاڑیوں کی اگلے الیکشن میں کامیابی کے امکانات روشن ہوجائیں گے۔ مگر اس کے برعکس ن لیگ نے اب تک کی صورت حال کو درست طرز سے ہینڈل کرکے پارٹی میں کوئی دراڑ نہیں آنے دی۔ ان کی حکمت عملی واضح کرتی ہے کہ کسی براہ راست ٹکراؤ کی طرف بڑھنے کے بجائے معاملے کو سموتھ طریقے سے عوام کی طرف پھیر دیا جائے اور میاں صاحب کے اردگرد اینٹی اسٹبلشمنٹ مقدمے کی بنیاد پر عوامی رابطے کی تحریک کو مضبوط کرکے عوامی شعور کی تعمیر کی جائے۔ حالیہ ریلی اسی سلسلے کا باقاعدہ آغاز معلوم ہوتا ہے۔ یہ سلسلہ اگر یونہی جاری رہا اور ن لیگ اپنے بقایا انرجی پراجیکٹس کو مکمل کرنے میں کامیاب ہوگئی تو یہ صورت حال امپائروں اور ان کی ٹیم کے کھلاڑیوں کے لیے خاصی پریشان کن ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:   احتساب سب کے لیے مگر کب؟ - یاسر محمود آرائیں

البتہ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم نے ماضی میں کی جانے والی غلطیوں کو ہمیشہ دہرا کر کوہلو کے بیل کی طرح دائرے کا سفر کرنا ہے، اور یا پھر کچھ آگے بڑھنا ہے؟ آپ اگر چاہتے ہیں تو اس ملک کے آئین میں لکھ دیجیے کہ یہاں حاضر سروس آرمی چیف ہی سربراہ مملکت ہوگا، آخر جس دنیا میں اتنے سارے "ازم" چل رہے ہیں، وہاں یہ "آرمی ازم ماڈل" بھی۔ یا اگر دل چاہے تو سعودی عرب طرز کی کوئی بادشاہت لے آئیے، اور دل چاہے تو طے کردیجیے کہ یہاں ایران کی طرز کی کوئی محدود جمہوریت ہوگی، اور یا پھر اس اصول کو دل و جان سے مان لیجیے کہ جسے عوام منتخب کریں گے، وہ "واقعی" حق حکمرانی رکھتا ہے۔ مگر یہ جو خفیہ رہ کر چوری کرنے اور بذریعہ بدمعاشی ڈاکے ڈالنے کا رواج ہے، اسے اب ختم ہونا چاہیے۔ بدقسمی کی بات یہ ہے کہ یہ چوری اور ڈاکہ جرم کے طور پر نہیں ڈالا جاتا بلکہ اسے جواز دینے کے لیے ہمارے یہاں ایک مستقل بیانیہ (جس کے صغری کبری یہ ہیں کہ "سیاست دان کرپٹ ہیں، سیاست دان نالائق ہیں، سیاست دانوں کی محب الوطنی مشکوک ہے" وغیرہ) وضع کرکے پھیلا دیا گیا ہے جس سے ہمارے یہاں کے اچھے خاصے ذہین و مخلص لوگ متاثر شدہ ہیں۔ چوری ڈاکے کے اس عمل اور اسے جواز دینے والے اس بیانیے کا نتیجہ یہ ہے کہ قوم مسلسل تقسیم کے عمل سے دوچار ہے، کچھ تو یکسوئی اور جہت ہونی چاہیے۔ کم از کم اس ملک کے تعلیم یافتہ لوگوں کو تو اس صورت حال کو رد کرنا چاہیے۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • جناب سیاستدانوں کو کس نے حق دیا ہے کہ وہ حکومت میں آتے ہی لوٹ مار شروع کردیں اور جب انہیں پکڑا جائے تو واویلا شروع کردیں کہ جمہوریت کو خطرہ ہوگیا ہے ۔ نوازشریف صاحب نے اربوں کے جو محلا ت بنا رکھے ہیں اسکا حساب قوم کو اور عدالت کو کیوں نہیں دیتے۔اب واویلاکرتے پھر رہے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا۔ یعنی یہ کرپشن وغیرہ تو سب ہی کرتے ہیں پھر مجھ اکیلے کوہی کیوں نکالا۔ کروڑوں روپے عوام کے سرکاری خزانے سے لگا کر اور معصوم لوگوں کو گاڑیوں کے نیچے کچل کر یہ اینٹی سٹیبلشمینٹ ریلی نکالی ہے جس میں ان کی اپنی جماعت کے قابل ذکر لیڈر لا تعلق ہیں ۔۔مستقبل کا مورخ یہ بھی لکھے گا کہ چھوٹے سرکاری ملازموں اور سفید کپڑوں میں ملبوس پولیس والوں کی بڑی تعداد کو سرکاری حکم ناموں کے ذریعے شریک کر کے نکالی جانے والی ریلی کا ایک ہی مقصد تھا کہ کسی طرح سٹیبلشمنٹ سے بارگینگ کی پوزیشن مضبوط ہو سکے اور جو ناجائز اثاثے بنائے ہیں وہ بچائے جا سکیں۔ ان کا مقصد تو یہ ھے کہ عوام پہلے ہی بھاڑ میں پڑے ہوئے ہیں انہیں بس سبز باغ دکھا کرمزیدبیوقوف
    بنایاجاتا رہے ۔

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!