مداری - محمد ندیم میاں

گزشتہ دنوں ایک بالی ووڈ فلم 'مداری' دوسری مرتبہ دیکھنے کا اتفاق ہوا، انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنی کے شکریے کے ساتھ کہ جس کی "مہربانی" سے مجھے یہ موقع ملا۔ فلم میں مرکزی کردار عرفان خان کا بیٹا کرپشن کی وجہ سے بننے والے ایک ناپختہ پل کے گرنے کی وجہ سے مر جاتا ہے۔ وہ بچہ ہی اس کی کل کائنات تھا، جس کی آخری رسومات کے بعد باپ نیم پاگل ہو جاتا ہے اور خودکشی کرنے کی کوشش تک کرتا ہے لیکن بدلہ کی آگ اسے مرنے نہیں دیتی۔ وہ حکومت سے اپنے بچے کی جان کا 'معاوضہ' تو وصول کرتا ہے لیکن کچھ عرصے بعد وزیر داخلہ کے بیٹے کو اغواء کرلیتا ہے۔ اس خبر کے ساتھ ہی حکومتی مشینری حرکت میں آ جاتی ہے اور وزیر کے بچے کو ڈھونڈنے کے لیے تمام وسائل کا استعمال کیا جاتا ہے لیکن وہ بازیاب نہیں ہو پاتا۔ بالآخر فلم کا مرکزی کردار پل بنانے کے ذمہ دار افراد اور بچے کے والد یعنی وزیر داخلہ کو میڈیا اور عوام کے سامنے آ کر مکالمے کے چیلنج کی شرط پر رہائی کا عندیہ دیتا ہے۔ تمام شرطوں کو مان لیا جاتا ہے اور آخر میں پل کی تعمیر میں ملوث کرداروں کے اعتراف جرم کے بعد ہوم وزیر صاحب اس کے سوالوں کے جواب میں کہتے ہیں کہ حکومت میں بیٹھے لوگ ہوں یا پھر اپوزیشن والے، سب کو ان کا حصہ ملتا ہے۔ وہ عوام کا پیسہ بیرون ملک خفیہ اکاؤنٹس میں محفوظ کرتے ہیں۔ عوام بے وقوف ہوتے ہیں جو ان کی خاطر اپنی جانیں تک داؤ پر لگا دیتے ہیں اور آتے جاتے سلام بھی کرتے ہیں جبکہ ہم انہیں زندگی بھر احمق بناتے ہیں۔ ایک جاتا ہے تو دوسرا آتا ہے۔

بالکل اسی فلم کی طرح ہمارے حکمران اور سیاستدان 'مداری' کا کردار ادا کررہے ہیں اور ہم عوام 'بچہ جمورا' بنے ہوئے ہیں۔ خود تو پروٹوکول کے ساتھ سڑکوں پر تماشہ کرنے نکل پڑتے ہیں، ٹھنڈی گاڑیوں، بلٹ پروف اور بم پروف کنٹینروں میں بیٹھ کر اپنے سچے اور دوسرے کے جھوٹا ہونے کا یقین دلاتے ہیں،جواب میں ہم بے وقوف اور احمق عوام گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگاتے ہیں اور گاڑیوں کے آگے لیٹتے اور چومتے پھرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   قصہ ایک فلم اور ادھورے خواب کا - سعدیہ مسعود

کبھی تو یہی سیاستدان دھرنوں کی صورت میں لاک ڈاؤن کرتے ہیں اور ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے اور ہم ناخلف عوام رونق میلہ دیکھنے بے وقوفوں کی طرح انہی سیاستدانوں کی ایک آواز پر لبیک کہتے ہوئے اخلاقیات کی حدود کو پھلانگتے ہوئے نام نہاد لیڈروں کی زبان بولتے ہیں اور گالم گلوچ کو اپنا وتیرہ بنا لیتے ہیں۔

کبھی ہم پیری مریدی کے چکر میں اپنی دنیاو آخرت سنوارنے کی خاطر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں اور جو بھی ہمارے قائد کے خلاف بولنے کی جرات کرتا ہے اس پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ جواب میں ہمیں کیا ملتا ہے؟ ڈنڈے،تھپڑ،آنسو گیس کی شیلنگ اور آخر میں گولیوں کانشانہ بن جاتے ہیں اور ہمارے ورثاء بعدازاں انصاف کی خاطر دھکے کھاتے پھرتے ہیں۔ پھر ہمیں جھوٹے دلاسے دیے جاتے ہیں مگر کوئی ان 'مداریوں' سے تو پوچھے کے ان احتجاجوں میں ان کے اپنے بچے کیوں نہیں ہوتے؟وہ کیوں نہیں مرتے آخر ہر بار؟ قربانی 'بچے جمورے' نے ہی دینی ہوتی ہے؟

کوئی ان سے تو پوچھے کہ جن کے اپنے بچے کینیڈا میں ہیں، کسی کے انگلینڈ میں کاروبار کرنے میں مصروف اور کسی کے بچے گوروں کے دیس میں پلتے ہیں جبکہ ہم عوام ڈگڈی پر ناچتے ہیں اور مرتے رہتے ہیں جبکہ یہ حکمران اور سیاستدان ہماری خون پسینے کی کمائی پر عیش کرتے ہیں اور جواب مانگنے پر جوتیاں اور مکے دکھاتے ہیں۔ ہم ہمیشہ کی طرح ان کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر کبھی پولیس کے ڈنڈے کھاتے ہیں اور کبھی کفن پہن کر قبر وں میں لیٹ جاتے ہیں اور اپنے بچوں کو پھولوں کی پتیاں دیکر ان کے استقبال کے لیے کھڑا کردیتے ہیں اور یہ نااہل حکمران ان کو روندتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ پھر ہم انتظار میں رہتے ہیں کہ ہمارے ناخدا جو سڑکوں کو بند کرنا اپنا طرّہ امتیاز سمجھتے ہیں ہماری کشتی کو کنارے لگائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   قصہ ایک فلم اور ادھورے خواب کا - سعدیہ مسعود

مگر یہ 'مداری' اپنی عیاشیوں میں مگن رہتے ہیں اور عوام کو ذلیل ہونے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔اب ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ہم 'بچہ جمورا' بن کر ہی رہنا چاہتے ہیں یا پھر ہم میں سے ہی کوئی طیب اردوگان بنے گا جس کے لیے ہمیں ٹینکوں کے سامنے لیٹنے میں بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

موجودہ ملکی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ذاتی طور پر مجھے تو کوئی بھی ایسی شخصیت نظر نہیں آتی جو عوام کے حقوق کا خیال رکھے اور جب آزمائش کا وقت آئے تو سب سے پہلے اپنی اولاد کو پہلی صف میں کھڑا کرے۔پھر بھی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا جاسکتا دعا کی جاسکتی کہ اللہ ہمیں ایسے 'مداریوں' کے چنگل سے نکالے اور کسی نجات دہندہ کو پیدا کرے۔