ملی مسلم لیگ کا نیا پاکستان - حافظ محمد زبیر

جماعۃ الدعوۃ سے تعلق رکھنے والے ایک دوست کا سوال ہے کہ آپ کی اس بارے کیا رائے ہے کہ جماعۃ الدعوۃ اپنی الگ سیاسی جماعت "ملی مسلم لیگ" کے نام سے قائم کر کے انتخابی سیاست میں آنا چاہ رہی ہے؟

جواب: جماعۃ الدعوِۃ کا ویلفیئر کا کام مجھے بہت پسند ہے اور میں نے اس کی ہمیشہ تحسین کی ہے بلکہ سب ہی اسے ایپری شیئیٹ کرتے ہیں، الا یہ کہ جسے کوئی ان سے بہت ہی خار ہو۔ دوسری اچھی چیز جو جماعۃ الدعوۃ میں دیکھنے کو ملتی ہے لیکن ان کے معاصر تحریکوں میں کم ہے، وہ ان کے کارکنان کی محنت ہے۔ مجھے انہیں قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے اور یقین مانیے کہ ان جیسے محنتی (hardworking) کارکنان پاکستان میں کسی تحریک تو کجا سیاسی جماعت کے پاس بھی نہیں ہیں۔

مجھے ان کے سیاست میں آنے پر اختلاف نہیں ہے، بلکہ اس پر اختلاف ہے کہ آپ نے ایک عرصہ اس پر سیاست کی ہو کہ سیاست میں نہیں آنا چاہیے اور پھر آ جائیں تو یہ بہت بڑی اخلاقی گراوٹ ہے۔ یعنی جس کے شرک اور کفر ہونے پر آپ لوگوں کو گھنٹوں وعظ کرتے رہے اور دوسری جماعتوں سے اپنے امتیاز کی بنیاد بناتے رہے، اسے اچانک سے آپ نے یوں گلے لگا لیا جیسے برسوں کی آشنائی ہو۔

ممکن ہے کہ ایسا علمی بنیاد پر کیا گیا ہے یعنی علمی مؤقف میں تبدیلی آ گئی ہے تو پھر پہلے اپنا نیا بیانیہ سامنے لائیں اور اپنے پچھلے موقف کی غلطی واضح کریں اور مانیں کہ ہم غلط تھے اور اب صحیح ہونے کی یہ دلیل ہے۔ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو آپ کے اپنی جماعت کے کارکنان بے چینی محسوس کریں گے اور وہ ایسا کر رہے ہیں کہ ان میں سے بعض جماعت سے متنفر ہو رہے ہیں جیسا کہ ان کے تبصروں سے اندازہ ہوتا ہے۔

بھائی، آپ نے اپنے موقف میں یوٹرن لیا ہے، اس کے لیے کم از کم ایک سال تک جماعت کے اندر کارکنان کے لیول پر برین اسٹارمنگ ہونی چاہیے تھی تا کہ کارکنان کو واضح ہوتا کہ جماعت اس رخ پر جانا چاہ رہی ہے اور اس کے یہ دلائل ہیں۔ لیکن اب بھی جماعت کی لیڈر شپ کی طرف سے اس یو ٹرن کے بارے جو وضاحتیں آ رہی ہیں، ان پر ہنسا ہی جا سکتا ہے۔ ایک ذمہ دار کہہ رہے ہیں کہ موقف میں تبدیلی نہیں ہوئی، جمہوریت آج بھی کفر اور شرک ہے، بس "الحرب خدعۃ" ہو رہا ہے۔ یعنی جنگ ایک دھوکے کا نام ہے۔ بھئی، دھوکا آپ انڈیا کو دینا چاہتے ہیں اور آپ کی جماعت کے کارکنان یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم سے ہاتھ ہو گیا ہے۔

اور یہ اچھا "الحرب خدعۃ" ہے کہ جس میں سوشل میڈیا پر اعلان کیا جا رہا ہے کہ ہم "الحرب خدعۃ خدعۃ" کھیل رہے ہیں۔ یا تو آپ بہت سادہ ہیں یا انتہائی بے وقوف، اور خیر یہ تو ہماری سب مذہبی جماعتوں اور اسلامی تحریکوں کا مسئلہ ہے بلکہ مسلمانوں کا عالمی مسئلہ ہے یعنی سٹوپڈٹی۔ جب تک ہم ذہانت، حکمت، بصیرت اور فراست میں اس درجے کو نہیں پہنچ پاتے جہاں اہل مغرب کھڑے ہیں، محض جذبات اور ریلیجس ایکٹوٹی سے ہمارے عالمی اسٹیٹس میں کچھ تبدیلی نہیں آنے والی ہے۔ اس کو لکھ لیں۔ اب سب مذہبی جماعتیں اور تحریکیں ذہانت اور بصیرت پیدا کریں، چاہے کسی یونیورسٹی سے آرٹیفیشئل انٹیلجنس کا کورس پڑھ کر ہی کچھ حاصل ہو جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   جماعت الدعوة بطور "ملّی مسلم لیگ" - مزمل احمد فیروزی

اس وقت ہمارے سامنے ملی مسلم لیگ کی آفشیئل ویب سائیٹ ہے کہ جس میں اس "نئے پاکستان" کا خاکہ دیا گیا ہے جو کہ ملی مسلم لیگ بنانا چاہتی ہے۔ اس آفیشیئل ویب سائیٹ کے مطابق اس مذہبی سیاسی جماعت کی مذہبی سیاسی جدوجہد کے رنگ لانے کے نتیجے میں پاکستان میں چار قسم کی تبدیلیاں متوقع ہیں؛

1۔ ایمپاور ویمن: جدید تعلیم یافتہ لوگ "ویمن ایمپاورمنٹ" کا ترجمہ بہت اچھا سمجھتے ہیں کہ اب یہ سیکولر اسٹیٹس کی ایک عالمی اصطلاح ہے۔ اگر آپ کو معلوم نہیں ہے تو ضرور معلوم ہونا چاہیے کہ ملی مسلم لیگ کے اعلی تر مذہبی مقاصد میں سے ایک مقصد "ویمن ایمپاورمنٹ" بھی ہے۔ سادہ الفاظ میں "ویمن ایمپاورمنٹ" کا مطلب اس اصطلاح کے عالمی مفہوم اور اصول وضوابط کے مطابق زندگی کے ہر شعبے میں عموما اور بزنس اور ملازمت میں خاص طور پر عورت کو با اختیار بنانے کی جدوجہد کرنا۔
سیکولر اسٹیٹس کا بیانیہ یہ ہے کہ دنیا میں عورتوں کے مظلوم ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ محسوس کی گئی ہے کہ اقتدار اور اختیار زندگی کے ہر شعبے میں مرد کے پاس ہے لہذا یہ اتھارٹی جب مرد سے عورت کو منتقل ہو گی تو ظلم خود بخود ختم ہو جائے گا اور عدل کا نظام قائم ہو جائے گا۔ اب یہاں پاکستان میں کون سی لبرل اور سیکولر سیاسی جماعت ایسی ہے جو "ویمن ایمپاورمنٹ" نہیں چاہتی یا اس کا نعرہ نہیں لگاتی؟

2۔ ملی مسلم لیگ کے قیام کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی بیان ہوا ہے کہ وہ آئیڈیالوجی آف پاکستان کی حفاظت کرے گی اور آئیڈیالوجی آف پاکستان کیا ہے؟ انہی کے الفاظ میں یہ وہ اصول وضوابط ہیں، جن پر قائداعظم محمد علی جناح نے مسلم لیگ کو قائم کیا تھا اور چلایا تھا۔ ویسے یہ پہلی مذہبی سیاسی جماعت ہو گی جومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کردہ جماعت کی بجائے محمد علی جناح کی مسلم لیگ کو اپنا آئیڈیل بنائے گی۔
اگر کوئی سیاسی جماعت، جو مذہبی ہونے کی دعویدار ہو، اس قسم کی اسٹیٹمنٹس جاری کرے تو آپ اسے اسٹوپڈٹی نہ کہیں تو کیا کہیں؟ ہاں، یاد آیا کہ "الحرب خدعۃ" کہہ سکتے ہیں۔ مجھے تو یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ اب اگر جماعۃ الدعوۃ کے سالانہ اجتماع میں "سبیلنا، سبیلنا" کا نعرہ لگے گا تو اس کا جواب کیا آئے گا؟ بھائی، یہی آنا چاہیے کہ "ویمن ایمپاورمنٹ اور" قائداعظم کی مسلم لیگ"۔ لیکن جس طرح ہر سیاسی جماعت کے پاس احمقوں اور بے وقوفوں کی کمی نہیں ہے لہذا یہاں بھی اطاعت امیر کے حیلہ کے نام پر وہی جواب آئے گا جو اندھی تقلید کا متقاضی ہو گا کہ "الجہاد، الجہاد" یعنی اب ویمن ایمپاومنٹ اور قائداعظم کی مسلم لیگ بنانے کے لیے جدوجہد بھی "جہاد" شمار ہو گی؟

3۔ ملی مسلم لیگ کے ایجنڈے کا تیسرا نکتہ اقلیتوں کے حقوق ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس ملک میں مسلمانوں کو پورے حقوق مل رہے ہیں جو آپ کو اقلیتوں کے حقوق کی فکر کھائے جا رہی ہے؟ اور پاکستان کی کون سی سیاسی جماعت ایسی ہے جو اقلیتوں کے حقوق کے نام پر سیاست نہ کر رہی ہو۔ یعنی ایک مذہبی سیاسی جماعت اور ایک سیکولر سیاسی جماعت میں امتیاز کیا ہوا؟
ایک سیکولر سیاسی جماعت کیا ویمن ایمپاورمنٹ، قائداعظم کی مسلم لیگ اور اقلیتوں کے حقوق کا نعرہ نہیں لگاتی؟ یا تو پھر آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سیکولر سیاسی جماعتیں اس عالمی سیکولر ایجنڈے کے لیے صرف نعرے لگاتی ہیں جبکہ ہم اسے عملا پورا کر کے دکھائیں گے؟ کیا یہ کہنا چاہتے ہیں یا پھر اس ایجنڈے کا مذہبی سیاسی جماعت سے تعلق کیا ہے؟ یہ سمجھ نہیں آ رہا۔ آپ کتاب وسنت کے نفاذ کے ایجنڈے کی بات کرتے، آپ کوئی آئین کو اسلامائز کرنے کی جدوجہد کی بات کرتے، آپ کوئی سود کے خاتمے کی جدوجہد کی بات کرتے تو بات سمجھ میں بھی آتی کہ کسی مذہبی سیاسی جماعت کا ایجنڈا ہے۔ بھائی، اب یہ نہ کہہ دینا کہ "الحرب خدعۃ" ہو رہا ہے۔ بھائی، اب یہ کبڈی کبڈی کہنا چھوڑیں اور کوئی کام کرنا ہے تو سنجیدگی سے کریں۔

یہ بھی پڑھیں:   پرانا پاکستان بمقابلہ نیا پاکستان - سلمان اسلم

4۔ کشمیر پالیسی یعنی کشمیریوں کے حقوق کی وکالت کرنا۔ چلیں، یہ نکتہ تو معقول ہے کہ آپ نے ساری زندگی اسی پر سیاست کی ہے لیکن یہ نہیں سمجھ میں آ رہی کہ کشمیریوں کے حقوق کی جس وکالت کی آپ نے بات فرمائی ہے، وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حمایت کرنا ہے نہ کہ حق بات کی حمایت کرنا۔ اور دوسرا یہ کہ پاکستان کی کون سی سیاسی جماعت ایسی ہے جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کے حقوق کی وکالت نہ کرتی ہو تو آپ کس اعتبار سے دوسری سیاسی جماعتوں سے مختلف ہیں؟
ابھی تو سوشل میڈیا پر جماعت کے کارکنان کے بیانات ہی پڑھنے سننے کے لائق ہیں۔ کچھ سنجیدہ اور ذمہ دار کارکنان کہہ رہے ہیں کہ ہماری سیاسی جماعت کا مقصد الیکشن لڑنا نہیں ہے بلکہ ہم تنظیم اسلامی کی طرح کی احتجاجی سیاست کریں گے؟ تو بھائی، پھر الیکشن کمیشن میں اپنے آپ کو بطور سیاسی جماعت رجسٹر کروانے کی وجہ کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ "الحرب خدعۃ" ہو رہا ہے یعنی ہم مغرب کو دھوکا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چلیں جی، مغرب والے اتنے ہی سادہ ہیں جتنے کے آپ، اسی لیے تو دنیا پر حکومت کر رہے ہیں اور اگلا نمبر آپ کا ہی ہے، ان شاء اللہ۔

ایک اور ذمہ دار کارکن نے کہا کہ ہم تو بیس سال سے سیاست میں ہیں تو یہی تو ہم پوچھ رہے ہیں کہ اگر پچھلے بیس سال سے جماعۃ الدعوۃ سیاست کر رہی ہے تو اب الیکشن کمیشن سے جماعت رجسٹر کروانے کی کیا ضرورت پڑ گئی؟ ان کا جواب تھا کہ شیخ نذیر حسین دہلوی رحمہ اللہ نے بھی جماعت رجسٹر کروائی تھی۔ بھائی، الیکشن کمیشن سے رجسٹر کروانے کے بارے میں پوچھ رہے ہیں؟ اور بطور سیاسی جماعت رجسٹریشن کے بارے میں سوال ہے؟ اور یہ صاحب مرید-کے مرکز میں استاذ ہیں اور ان کے سترہ شاگرد شہید ہو چکے ہیں۔ اب ذہنی لیول دیکھیں اور جذبہ دیکھیں۔ اسی لیے تو میں کہتا ہوں کہ ہماری جہادی تحریکوں کا ایک ہی مسئلہ ہے اور ان کی ناکامی کی ایک ہی وجہ ہے، ٹی ٹی پی سے لے کر داعش تک اور وہ ایک لفظ میں "سٹوپڈٹی" ہے۔ میں نے بات پوری کر لی ہے، اب آپ کے گالیاں دینے کی باری آئی چاہتی ہے۔ باقی جو آپ کی جماعت میں اچھی باتیں ہیں، میں آج بھی ان کا قدر دان ہوں جیسا کہ آپ کا ویلفیئر اور خدمت خلق کا کام ایک بے نظیر کام ہے اور آپ کے جماعت کے کارکنان کی جفاکشی اور محنت قابل تقلید صفات میں سے ہے۔

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں