اے وطن کے سجیلے جوانو - سعدیہ نعمان

وہ اپنے گھر کے باہر برآمدے کی سیڑھیوں میں بیٹھا تھا، گول مٹول گل گوتھنا سا، یہی کوئی تین چار سال کا پیارا سا بچہ۔ نشتر ہسپتال کی رہائشی کالونی میں ہمارے گھر کے بالکل سامنے والے گھر میں حسن بخش انکل رہتے تھے، ماشاء اللہ سات بیٹے اور تین بیٹیاں۔ ہمارا بچپن ان دونوں اطراف میں بنے گھروں کے درمیان کے گراؤنڈ میں سب کے ساتھ کھیلتے کودتے گزرا، ڈسپلن اور ٹائم ٹیبل کی سخت پابندی کرنا پڑتی، اور امی کی ایک آواز پہ ہم مغرب سے کافی پہلے گھر کے اندر ہوتے، لیکن برآمدے کی جالیوں سے ناک لگا کے بچوں کو کھیلتا دیکھتے رہتے۔

یہ تین چار سال کا گول مٹول پیارا سا بچہ اس بھرے ہوئے گھر کا پہلا پہلا پوتا تھا، سب کا چہیتا راج دلارا حسان مظہر۔ شام ہوتے ہی باہر کھیلنے لگتا، دادی وارے صدقی جاتیں اور ہر جگہ ساتھ رکھتیں، حسان کی امی کی ہم سے بڑی دوستی تھی کیونکہ وہ ہمیں باجی ہی لگتیں، معصوم سا بچوں جیسا چہرہ، عمر بھی اتنی نہ تھی، وہ خوش ہو کر حسان کی باتیں اور شرارتیں بتایا کرتیں. ہر ماں کی طرح انہوں نے بھی حسان کی خاطر بےپناہ قربانیاں دیں، گھر میں بچوں کی رونق تو بڑھتی گئی، لیکن حسان کا مقام اور پیار کسی اور کو نہ ملا۔ پھر انکل کی ریٹائرمنٹ کے بعد وہ کالونی سے اپنے گھر شفٹ ہو گئے، اور ہم لوگ بھی شادیوں کے بعد ادھر اُدھر بکھر گئے۔

کئی سالوں بعد واہ کینٹ سے چھٹیاں گزارنے ملتان آئے، ناشتہ کے ساتھ اخبار پہ نظر ڈالی،
""فلائی اوور پہ ون ویلنگ کے دوران موٹر سائیکل سوار دو نوجوان جاں بحق"
دل پہ اداسی سی چھا گئی، خبر ختم ہوئی، تصویر پہ نظر ڈالی نیچے نام لکھے تھے
"حاد ثے میں جاں بحق ہونے والا نوجوان حسان مظہر"
بے یقینی کے عالم میں کیپشن پھر پڑھا حسان ہی تھا۔
تین چار برس کا گول مٹول برآمدے میں کھیلتا حسان، ذہن کے پردہ پہ یادیں ابھرتی گئیں۔

مرے ہوئے بوجھل اور زخمی دل کے ساتھ ہم حسان کی دادی کے پاس بیٹھے تھے. باجی (حسان کی والدہ) کا رنگ زرد پڑ چکا تھا، ہچکیاں رکتی نہ تھیں. سب کچھ ختم ہو چکا تھا. حسان اب اس دنیا میں نہیں تھا، وہ گھر والوں کو کسی میچ کا بتا کر نکلا تھا اور کسی اور ہی جانب چلا گیا۔ اب کوئی حسرت کوئی آہ اسے واپس نہیں لا سکتی تھی. اب گھر والوں نے ساری عمر بس اس کی یادوں کے ساتھ رہنا اور ہر لمحہ مرنا تھا۔ ننھا حسان جب بیس برس کی عمر میں پہنچا تو سب سے کھو گیا۔

میرے دیس کے پیارے جوانو!
آپ امید ہو وطن کی بھی اور والدین کی، بھی زندگی ہو آپ ہو تو سب کچھ ہے، خوشیاں ضرور مناؤ لیکن اتنا خیال رکھو کہ کہیں قدم ایسی ڈھلوان پہ نہ آجائے کہ سنبھل نہ سکو.
دیکھو!
آپ سب ہی حسان ہیں والدین کے لیے،
کوئی حسان نہ چھیننا ماں باپ سے۔
سب سے قیمتی اثاثہ اور سرمایہ آپ ہیں۔
خوشی و جذبات میں بےقابو نہیں ہوا کرتے، ماں باپ کو دھوکا بھی نہیں دیا کرتے۔
اچھے دوست بناؤ جو تمہیں اچھا بننے میں مدد دیں، ایسے دوست نہ بناؤ جو تمہاری راہوں میں کانٹے بکھیر دیں اور تمہاری منزل ہی بھلا دیں۔

دیکھو!
تمہارے والدین کے لیے سب سے بڑھ کے تم ہو، اپنی زات اور اپنی زندگی سے بھی بڑھ کے۔
اپنی زندگیوں کو امانت سمجھو، ان سے کھیلو مت۔
کوئی بڑا مقصد اپناؤ جس سے تمہیں زندگی قیمتی لگنے لگے، اپنے اوقات کو ضائع ہونے سے بچاؤ۔
اس وطن کو تمہاری ضرورت ہے، تم اپنے جذبہ تعمیر کو زندہ رکھتے ہوئے تعمیر وطن کرو۔

دیکھو!
سازشوں سے بچو، دوست اور دشمن کی پہچان کرو، کہیں انجانے میں کسی گہری کھائی کی جانب نہ دھکیل دیے جاؤ۔
اللہ تم سب کو سلامت رکھے۔ اور اس پاک وطن کو بھی۔ آمین۔

Comments

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان سعودی عرب میں مقیم ہیں، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ابلاغ عامہ میں ماسٹر کیا، طالبات کے نمائندہ رسالہ ماہنامہ پکار ملت کی سابقہ مدیرہ اور ایک پاکیزہ معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں خواتین کی ملک گیر اصلاحی و ادبی انجمن حریم ادب کی ممبر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.