یوم تشکر اور تجدید عہد - محمد شاکر

موجود سے کٹ کر معدوم کی طرف نگاہوں کا اٹھنا ہی ناشکر ی ہے۔ انسان کی پاس اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی سینکڑوں نعمتیں ہوتی ہیں ان کی طرف نگاہ نہیں جاتی، یہی سوچتا رہتا ہے کہ میرے پاس فلاں چیز کی کمی ہے، میرے پاس یہ چیز نہیں ہے وہ چیز نہیں ہے۔ بعض مرتبہ ہوتی ہے، پرانی ہوتی ہے یا کم کوالٹی کی ہوتی ہے، تو اس پر پریشانی ہوتی ہے۔ اسی فطرت کی تعبیر یہ مشہور جملہ ہے’’ چیز اس وقت تک اچھی ہے جب تک دکان میں پڑی ہو‘‘ خریدنے کے ساتھ وسوسے شروع ہوتے ہیں۔ بظاہر یہ بہت چھوٹی سی بات محسوس ہوتی ہے مگر انجام اس بہرحال بھیانک ہی ہے جو ناشکری کا سبب بن کر نعمتوں محروم کر سکتی ہے۔

دوسری طرف معدوم سے کٹ کر موجود کی طرف نگاہیں لوٹتی ہیں، اسی لمحہ انسان شکرگزار بندوں کی جماعت میں شامل ہوجاتا ہے۔ رفتہ رفتہ دل و دماغ سے ہوتا ہوا یہ احساس پورے جسم رچ بس جاتا ہے۔ پھر ہر عمل اور ہر کردار سے شکرگزرای جھلکتی چھلکتی نظر آتی ہے۔

ان نعمتوں میں سے جو ہماری اجتماعی ناشکری کی لپیٹ میں ہیں ایک بڑی نعمت ’’ یہ مملکتِ خداداد‘‘ ہے۔ کتنے قلم کار ایسے ہیں جو قلم نکلنے والے حروف اس وجود پر تیشے کی طرح چلتے ہیں؟ کتنے بزعمِ خویش دانشور ایسے ہیں جن کی دانشوری کی دکان میں کھلے عام مایوسی فروخت ہوتی ہے؟ کوئی اس کے نظریۂ وجود کا انکار کررہا ہے؟ کوئی حکمرانوں کی آڑ لے کر اس کے مورچہ زن ہے؟ ایسے لوگوں کے بارے میں حسنِ ظن کی انتہاکرتے ہوئے جو تبصرہ ہو سکتا ہے وہ یہی ہے: ’’یہ ناشکرے لوگ‘‘ ہیں۔

اس ناشکری کا سبب یہاں موجود سینکڑوں نعمتوں سے صرفِ نظر کرنا ہے اور بس۔ٹھیک ہے یہاں ہمیں کئی سہولیات جو دوسرے ملکوں میں بآسانی میسر ہیں یہاں میسر ہی نہیں یا کم مقدارمیں یا بامشکل میسر ہیں لیکن کئی چیزیں ایسی ہیں جو یہاں میسر ہیں جو کئی ملکوں میں میسر نہیں لیکن ہماری نگاہیں موجود کی طرف نہیں جاتیں غیر موجود ہی کی طرف اٹھتی ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی قابل غور ہے کئی خرابیاں ہماری بدانتظامی کا نتیجہ ہیں بلکہ اکثر ایسی ہیں ۔کچھ ہماری سادگی یا نااہلی سے فائدہ اٹھانے والے دشمنوں کی کارستیاں ہیں۔ایسے میں ضرورت بد انتظامی دور کرنے کی ہے۔ناشکری کے جذبات والے کاموں دشمنوں کا کام ہی آسان ہوگا۔

اس یومِ آزادی کو یوم ِ تشکر کے طور منائے۔ اس مملکتِ خداداد کی بدولت ہمیں دستیاب سہولیات کی فہرست بنالیں۔پھر لوگوں کو بتائیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے کتنی نعمتوں سے بن مانگے نواز رکھا ہے؟بے شک خرابیوں کی فہرست مرتب کریں مگر پھر یہ دیکھیں اس میں ہماری بدانتظامی کا کتنا دخل ہے؟ اس کو دور کرنے کا کیا طریقہ ہوسکتا ہے؟

تشکر کی ایک صورت یہ ہے کہ ہم اس موقعے پر اس نعمت ِبیش بہا ممکتِ خداداد کو حاصل کرتے وقت جو عہد اپنے رب سے کیا تھا اس کی تجدید کرلیں اور اس عملی جامہ پہنانے کی بلا تاخیر اقدام کریں۔ یہ بھی ایک صورت نہیں ہے یہی ایک صورت ہے باقی سب زبانی جمع خرچ ہیں۔زبانی جمع خرچ کی مخلوق کے ہاں کوئی قدر نہیں خالق کے ہاں کیا قدر ہوگی؟ سچی بات تو یہ ہے زبانی جمع خرچ ناشکری ہی ایک خفی صورت ہے شکر گزاری کوئی اور چیز ہے؟

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com