کامیاب زندگی کا راز - رضوان اللہ خان

آپ نے اپنی زندگی میں بےشمار ایسے لوگوں کو دیکھا ہوگا جو کامیاب زندگی گزارنا چاہتے ہیں لیکن کیا کبھی کوئی ایسا شخص بھی دیکھا ہے جسے ناکام ہونا پسند ہو؟ اس کے باوجود لوگ کامیاب کیوں نہیں ہو پاتے، یہ ایک اہم سوال ہے۔ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں لفظ کامیابی کو سمجھنا ہوگا۔

تصور کیجیے کہ ایک شخص کسی خزانے کی تلاش میں نکلا ہے، مگر وہ نہیں جانتا کہ خزانہ ہوتا کیسا ہے؟ اس کی شکل کیسی ہوتی ہے؟ اس کا رنگ کیسا ہوتا ہے؟ اس کا سائز کیا ہوگا؟ کیا اس سے خوشبو آتی ہوگی یا اس خزانے کی لمبی زبان ہوگی جس سے وہ بتا دے کہ ’’میں ہی خزانہ ہوں‘‘۔ اب وہ بےچارہ راستے میں پڑی ہر انوکھی شے اٹھاتا ہے، اور سمجھتا ہے کہ شاید یہی خزانہ ہو۔ جونہی وہ تلاش کردہ خزانے کی قیمت لگواتا ہے، شرمندگی سے پانی پانی ہوجاتا ہے، کیونکہ کبھی وہ لکڑی کے خوبصورت ٹکڑے کو، کبھی گول خوبصورت پتھر کو، تو کبھی چمکتے شیشے کو خزانہ سمجھتا رہا ہے۔

خزانے کے ایسے متلاشی کو اگر معلوم ہو خزانہ ہوتا کیسا ہے؟ کس شکل و رنگ کا ہوگا؟ اور کس جگہ ملے گا؟ تو وہ اس طرح اپنا وقت کبھی برباد نہ کرتا۔ یہی حال دُنیا بھر کے ان لوگوں کا ہے جنھیں کامیابی تو چاہیے مگر یہ نہیں معلوم کہ اس کامیابی کی شکل و صورت کیسی ہے؟ لوگ کامیابی کے پیچھے دوڑتے ہیں اور کامیابی کسی تیز گھوڑے پر سوار آگے آگے ہوتی ہے. یہ وقت بہت صبر آزما ہوتا ہے، جو تھک کر بیٹھ گیا، وہ اونچے پہاڑ سے نیچے دھکیل دیا جاتا ہے اور جو مسلسل محنت کرتے ہوئے ہار ماننے کے بجائے دوڑتا رہتا ہے، وہ عین کامیابی کے قریب آجاتا ہے۔ کامیابی کیا ہے؟ کے سوال کو نہ جان کر اکثر لوگ کامیابی سے دور رہتے ہیں اور وہ سرپٹ دوڑتے گھوڑے پر سوار آنکھوں سے اوجھل ہوجاتی ہے۔

لوگ سمجھتے ہیں کہ کامیابی کسی منزل پر پہنچ جانا ہے جبکہ کامیابی مسلسل محنت کا نام ہے، یہ منزل نہیں بلکہ مسلسل سفر ہے۔ ایڈون سی بلس کا کہنا ہے:
’’کامیابی کا مطلب ناکامیوں کی عدم موجودگی نہیں ہے، اس کا مطلب تو حتمی مقاصد کا حصول ہے۔ اس کا مطلب جنگ میں فتح پانا ہے لیکن ہر جنگ میں نہیں۔‘‘
حقیقت میں کامیابی صرف دو چیزوں کا نام ہے: اندرونی سکون کا احساس اور اپنی قدرو قیمت کا احساس۔ جس کو یہ دو احساسات نصیب ہوگئے وہ کامیاب ہوجاتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   میٹرک کے نمبرز اور کامیابی کی بات - محمودفیاضؔ

یہ دونوں احساسات اس وقت نصیب ہوتے ہیں جب انسان ترقی کی منازل طے کرنے کے لیے اس کے بنیادی سٹرکچر کو جان جاتا ہے، اور اس پر عمل کرتے ہوئے آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ سو بس کامیابی پانے کے لیے دل و دماغ کو استعمال کرنا شروع کیجیے۔ دل اس لیے کہ وہ سکوں پا سکے اور دماغ اس لیے کہ عقل لڑا سکے۔ آپ کو یہ سوچنا ہوگا کہ آخر مجھے کرنا کیا ہے؟ لفظ کامیابی کی تعریف میں تمام ماہرین کے الفاظ تو مختلف ہیں، لیکن بنیادی نکات تقریباََ ایک سے ہیں۔ لہذا درج ذیل نکات بھی کامیابی ہی کا حصہ یا روپ ہیں:
سکون و اطمینان، مُسرت، اچھی صحت، اپنے خواب پورے ہوتے دیکھنا، پریشانی سے آزادی، اپنا مقصدِ زندگی پا لینا، اعلیٰ تعلیم، مالی اطمینان، اچھا خاندان، اپنی صلاحیتوں کا بہتر استعمال، ترقی پانا، سوشل ریلیشنز کا بہترین ہونا وغیرہ۔

بعض لوگ یہ سوچ کر بھی محنت اور کوشش نہیں کرتے کہ وہ سکول، کالج اور حتیٰ کے یونیورسٹی کی زندگی میں بھی اساتذہ سے اپنے متعلق صرف یہی سُنتے آئے ہیں کہ
’’تم کچھ نہیں کر سکتے‘‘
’’تم نالائق ہو‘‘
’’تم کچھ نہیں جانتے‘‘
اور
’’تم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے‘‘۔

کیا ایسے لوگوں کو یہ خوشخبری نہ سُنا دی جائے کہ اساتذہ کے ان جملوں کے باوجود آپ کامیاب ہو سکتے ہیں اور ترقی پا سکتے ہیں، اگر صرف کوشش کرنا شروع کر دیں۔ یہ بات ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک ریسرچ نے ثابت کی ہے کہ کسی بھی انسان کے کامیاب ہونے اور خوشحالی پانے میں اس کی اعلیٰ ذہانت اور اعلیٰ تعلیم کا کردار صرف 15 فیصد ہے۔ مختلف ریسرچرز کے مطابق انسان کی کامیابی میں 80 فیصد کردار کامیابی کے اصول جان لینے، کوشش، محنت اور مسلسل محنت کا ہے۔
کامیابی حاصل کرنے کے لیے مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے، ایسا نہیں ہے کہ کامیابی بغیر کچھ کیے مل جائے۔ کسی مفکر کاقول ہے:
’’جو لوگ کامیاب ہوتے ہیں، ان کو ان لوگوں سے کم مشکلات کا سامنا نہیں ہوتا جو ناکام ہوتے ہیں۔ مشکلات سے آزاد لوگ صرف قبرستان میں ملتے ہیں‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:   موت: دائمی زندگی کی ابتداء - ابن بشیر

سو چھوٹی چھوٹی ناکامیوں سے پریشان ہونے کے بجائے اپنی کامیابی کی شکل وصورت جاننے کی کوشش کیجیے۔ خود آپ کس معرکے کو کامیابی کہتے ہیں؟ کس کام میں آگے بڑھ جانا یا کس مقصد کو پالینا آپ کے لیے کامیابی ہے؟ ایسا کیجیے کہ ہاتھ میں کاغذ اور پینسل رکھ لیجیے۔ اب بیس سیکنڈز کے لیے آنکھیں بند کریں۔ کچھ سوچنا نہیں بلکہ ان بیس سیکنڈز کو گننا ہے۔ ایک دو تین اور پھر بیس۔ آنکھیں کھولیں اور فوری تین مقاصد لکھیں جنہیں آپ زندگی میں لازمی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ مقاصد غیر واضح ہرگز نہیں ہونے چاہییں۔ اگر آپ لکھیں ’’میں ترقی چاہتا ہوں‘‘ تو یہ درست مقصد نہیں ہے۔ آپ کتنی اور کیسی ترقی چاہتے ہیں؟ کس لیول پر پہنچنا چاہتے ہیں؟ اور کتنی مدت میں پہنچنا چاہتے ہیں؟ اس سب کو ذہن میں رکھ کر لکھیں۔

یاد رکھیں بنا سوچے سمجھے اچانک اس طرح لکھے گئے تین مقاصد آپ کی زندگی کے حقیقی مقاصد ہیں۔ ان مقاصد پر مزید غور و فکر کیجیے۔ ان سے متعلق ہر وہ پوائنٹ تفصیل سے لکھیں جس سے ان مقاصد کا حصول آسان ہوتا ہو۔ انھیں مزید سے مزید واضح کرتے چلے جائیں۔ ہر مقصد کے ساتھ وقت کی قید لگانا ضروری ہے۔ مثلاََ: میں فلاں بزنس جنوری 2019ء میں شروع کردوں گا وغیرہ۔
طولِ شب فراق سے گھبرا نہ اے جگر
ایسی بھی کوئی رات ہے جن کی سحر نہ ہو

Comments

رضوان اللہ خان

رضوان اللہ خان

رضوان اللہ خان کالم نگار، فیچر رائٹر، مصنف اور تربیت کار ہیں۔ اسلام و پاکستان سے محبت ان کا نظریہ اور اپنی بنیادوں سے جُڑے رہتے ہوئے مثبت و متحرک معاشرہ ان کا خواب ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.