ترجمان ماضی، شان حال، جان استقبال ! - خالد ایم خان

14 اگست 1947ء، دنیا کے نقشہ پر ایک ایسا ملک وجود میں آیا جس کا نام پاکستان رکھا گیا۔ پاک کا مطلب آپ جانتے ہی ہوں گے کیونکہ ہمیں شروع دن ہی سے پڑھایا جاتا ہے"پہلا کلمہ طیب" طیب معنی پاک اور میری ناقص معلومات کے مطابق استھان ہندی میں جگہ کو کہتے ہیں، جس کا مطلب ہوا پاک استھان ( پاکستان )، طیب کی جگہ، کلمہ کی جگہ لا الہ الا اللہ کا گھر، اس لیے ہم کہتے ہیں کہ پاکستان کلمہ کے نام پر حاصل کیا گیا اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس کے نام کے اندر ہی اپنا نام رکھ دیا ہے جو قیامت تک روشن ورخشاں رہے گا، ان شاء اللہ!

جیسے ہی آزادی کا دن قریب آتا ہے تو ہم لوگوں کو پاکستان کا قومی ترانہ بھی یاد آجاتا ہے جو کبھی بچپن میں ہم اسکول کے پریڈ گراؤنڈ میں با آواز بلند پڑھا کرتے تھے۔ قومی ترانہ برصغیر کے اُس وقت کے صف اول کے بہترین شاعر جناب ابوالاثر حفیظ جالندھری کے قلم کا شاہکار ہے۔ حفیظ جالندھری نے پاکستان کے لیے یہ ترانہ 1952ء میں تحریر کیا اور ملک کے دیگر چوٹی کے شعراء کی جانب سے آئی ہوئی 723نظموں میں سے حفیظ جالندھری صاحب کی یہ نظم مُلک کے قومی ترانہ کے لیے پسند کی گئی۔ جس کی کمپوزنگ اُس وقت کے مُلک کے ممتاز کمپوزر احمد غلام علی چھاگلہ نے دی تھی۔ اس ترانے کا ایک ایک لفظ اپنی ابتدا سے لے کر اختتام تک اپنے اندر ایک عجیب کشش رکھتا ہے۔ محبت خلوص، ایثار اور قربانی کی داستانیں سناتا نظر آتا ہے، اپنی شروعات ہی سے اس کا ایک ایک لفظ اپنی دھرتی، اپنی ماں، اپنی مٹی سے عشق کاایک حسین منظر آنکھوں کے سامنے پیش کرتا نظر آتا ہے، چاند ستارہ سے سجے اپنے قومی پرچم کی خوبصورتی بیان کررہا ہوتا ہے دنیا کے اندر موجود تمام مملکتوں میں اپنے وطن کو ایک لازوال چمکتے ستارہ وہلال سے تشبیہ دیتا ہے، ایک ایسے چمکتے ستارے سے کہ جس کی روشنی سے کل عالم منور ہو رہا ہے جو اپنی دودھیا چمکدار روشنی سے دنیا کے دیگر ممالک کو بھی اندھیروں کی سیاہ ظلمتوں سے نجات دلاتا نظر آتا ہے، جس کا ماضی اپنے اندر قربانیوں اور شہادتوں کی عظیم داستانیں سناتا نظر آتا ہے، ترقی، محنت اور دنیا میں عظمت وبلندی کی کہانیاں سُناتا ہے۔ جس کا حال ہمارے لیے خوشیوں کے تازیانے بجاتا ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کو ایک محسور کُن روشن مستقبل کی نوید یں سنا رہا ہو تا ہے اور وہ بھی اللہ ذوالجلال کے سایہ کے نیچے۔

اس ترانہ کا ایک جملہ مجھے سوچوں کی وادی میں گھسیٹ کر لے گیا، جس نے مجھے جھنجوڑ کر رکھ دیا اور وہ ہے"مرکز یقین شاد باد"، کیا ہے مرکز یقین شاد باد؟ اور کیا سوچ کر جناب حفیظ جالندھری نے یہ یہ لکھا تھا؟ 'یقین کا مرکز' کس بات کا یقین؟ کیا عزم وحوصلہ کا یقین؟ محنت وعظمت کا یقین؟ دنیا کے اندر مستقبل میں حاصل ہونے والی ترقیوں وکامرانیوں کا یقین؟ جب کوئی مصور اپنا کوئی شاہکار تخلیق کرتا ہے تو اُسے نامور گیلریوں میں سجا کر دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور مشہور مصور اور ناقدین اُس تصویر یا اُس شاہکار کو دیکھ کر تخلیق کار کے دماغ تک پہنچنے کی اپنی سی کوششیں کرتے نظر آتے ہیں کہ کیا سوچ رہی ہوگی اُس فنکار کی اس شاہکار کو تخلیق کرنے میں؟ تمام دنیا کے لوگ بشمول دنیا کے بڑے بڑے ناقدین اُس ایک تصویر کے ذریعے فنکار کی سوچ تک پہنچنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں، اسی طرح جب کوئی شاعر کوئی شاہکار ترتیب دیتا ہے تو لوگ اُس شاعر کی تخلیق کے ذریعے اپنے فنکار کی اُن سوچوں تک پہنچنے کی ضرور کوشش کرتے ہیں کہ آخر وہ کیا محرکات تھے؟ وہ کونسی ایسی سچویشن تھی اُس وقت کہ جس نے شاعر کو اس شاہکار کو ترتیب دینے کے اسباب پیدا کئے؟

ہم نے تو یہی دیکھا اور سُنا ہے کہ کبھی کوئی شاعر کسی 'الہڑ مٹیار' کی خوبصورتی کا اس قدر دیوانہ ہوا کہ اُس پر پوری غزل کی کتاب ہی لکھ ڈالی۔ کسی نے اللہ سے عشق کیا تو کلمہ حق خواجہ غلام فرید شکر گنج ؒ اور حق باہو جیسے اولیا کی زبان سے جاری ہوا۔ بہرکیف حفیظ جالندھری صاحب نے مرکز یقین شاد باد جیسا جملہ جو استعمال کیا وہ اُس وقت اُن کی فن کی عظیم بلندیوں کی اور پاکستان سے لازوال محبت کی معراج نظر آتی ہے۔ شاعر کا مملکت خداداد پاکستان پر اس قدر پختہ یقین کہ جس کی نظروں میں یہ ملک یہ ارض پاکستان، یہ سلطنت مرکز یقین ہے، دنیا کے اندر اسلام کا مرکز، دنیا کے اندر عدل وانصاف کا مرکز، دنیا کے اندر پیار ومحبت کا مرکز، دنیا کے اندر اعلیٰ اسلامی نظام معاشرت کا مرکز، درحقیقت شاعر کی نظروں میں وہ تمام مصائب اور حالات ضرور رہے ہوں گے جو 'تقسیم' کے وقت اس قوم نے برداشت کئے، اُس خون کے دریا کو پار کر کے آنے والے جنہوں نے قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کیں اس مملکت خدادا کے حصول کی خاطر تو یقینا اُن کی نظروں میں یہ ملک مرکز یقین تھا اُس اسلامی معاشرت کا جس کا خواب ڈاکٹر محمد علامہ اقبال نے ماضی میں اُن کو دکھایا تھا۔ ایک ایسا اسلامی معاشرہ جس میں عدل وانصاف کا بول بالا ہوگا، جس میں عوام کا نمائندہ عوام کا خادم ہو گا۔

لیکن ۔۔۔۔۔۔ہم نے سب سے پہلے اپنے بزرگوں کی قبروں پر آخری فاتحہ پڑھ کراُن کو منوں مٹی کے نیچے دفنا دیا اُن کی تمام قربانیوں کے ساتھ اور پھر آہستہ آہستہ اُن کی تمام قربانیوں کو بھی فراموش کردیا اور اپنے طور پر یہ سمجھ لیا کہ یہ ملک ہم نے صرف اور صرف دنیا کا مال غصب کرنے،لوٹ مار اور کرپشن کی خاطر بنایا ہے، کیا ترجمانی کی ہے ہم نے اپنے ماضی کی اور حال تو اب ہمارا ویسے ہی بے حال ہو چکا ہے۔ جس طرح کی لوٹ مار ہمارے حکمرانوں نے پچھلی چند دہائیوں سے مچا رکھی ہے اس ملک میں شاید اب تو ہم بھی سوچ میں پڑ گئے ہیں کہ کیا یہ ملک انہی چند خاندانوں کی لوٹ مار اور کرپشن کے لیے وجود میں لایا گیا کیونکہ جب بھی ان خاندانوں میں سے کسی بھی خاندان کی لوٹ مار اور کرپشن کو عوام کے سامنے لانے کی بات کی جاتی ہے تو فورا کھپے اور نہ کھپے کے نعرے وجود میں آنے لگ جاتے ہیں۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اگر آپ لوگوں کو لوٹ مار اورغریب چکی میں پستی ہوئی عوام کا مال لوٹنے کی اجازت دے دی جائے تو پھر "پاکستان کھپے"، خدا کی پناہ! چند کروڑ روپوں میں کھربوں کی زمینیں گروی رکھی جا رہی ہیں اس ملک میں کمیشنوں کی خاطر اور پھر سونے پہ سہاگہ کہ ایشیا کے سب سے بہترین وزیر خزانہ کا اعزاز بھی، بھئی کیوں نہ ملے آپ کو یہ اعزاز؟ کون بدبخت ہوگا جو کماؤ پوت کو بُرا کہے؟ ظاہر ہے کہ ہمارے وزیر خزانہ اپنے ملک کی غریب عوام کا مال جس بیدردی کے ساتھ لوٹ لوٹ کر اغیار کو خوش کررہے ہیں تو وہ ان کو اعزاز بھی نہ دیں؟

14 اگست آنے کو ہے، پورے ملک میں زور وشور کے ساتھ آزادی کا دن منایا جائے گا، سبز ہلالی پرچم لہرائے جائیں گے، چراغاں کیا جائے گا، ملّی نغموں کے ساتھ ہی ساتھ قومی ترانہ بھی پڑھا جائے گا، لیکن میری دعا ہے کہ اس قومی ترانہ کو پڑھنے کے ساتھ اس پر اس کی روح کے مطابق عمل بھی کیا جائے، پاک سرزمین کو اللہ پاک صحیع معنوں میں پاک سرزمین بنائے اوراس ملک کو اللہ تبارک وتعالیٰ پوری دنیا کے اندر نشان عزم عالی شان بنائے، مسلمانان عالم کے لیے یقین کا مرکز بنائے، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ماضی میں دی گئی لازوال قربانیوں کو یاد رکھیں، اور اپنے موجودہ گذرتے وقت میں اقوام عالم کو ثابت کریں کہ ہم ایک عظیم قوم ہیں اور انشاء اللہ مستقبل ہم ہی سے ہے اور اللہ کا سایہ ہم پر ہر دور میں قائم ودائم رہے گا، انشاء اللہ!

ترجمان ماضی شانِ حال

جانِ استقبال

سایہ خدائے ذوالجلال

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com