میری مرحومہ سائیکل - کامران امین

آج نجانے کیوں بیٹھے بیٹھے گمشدہ بلکہ مرحومہ سائیکل کی یاد آ گئی۔ اب دیکھیے پطرس بخاری کو مرزا نے ایک سائیکل تحفتاً، بعوض کچھ رقم، عنایت کی تھی تو اس کی شان میں انہوں نے کیا قصیدہ لکھا تھا۔ بہر حال، میں نہ تو مرزا ہوں اور نہ پطرس، لیکن پھر بھی کچھ لکھنا تو ہے۔

تو کہانی اصل میں اس دن شروع ہوئی جب میرے ایک چینی دوست نے مجھ سے پوچھا کہ تم ہاسٹل سے یونیورسٹی تک کیسے آتے ہو؟ میں نے برجستہ جواب دیا پیدل!۔ اس نے مجھے ہمت و محنت کی داد دی تو محسوس ہوا میں کوہ ہمالیہ سے اتر کر آتا ہوں حالانکہ ہاسٹل کوئی فرلانگ بھر دور ہی ہوگا بلکہ شاید اس سے بھی کم۔ لگے ہاتھوں خود ہی مجھے کہا کہ ایک عدد پرانی سائیکل اس کے پاس ہے جو کسی جگہ پارک ہے، فی الحال اس کا پتہ معلوم نہیں۔ بہرحال، وہ سائیکل میں لے سکتا ہوں اگر مل جائے تو۔ ہماری پارکنگ میں ہزاروں سائیکلیں کھڑی ہوتی ہیں، اب کون ڈھونڈے۔ لہٰذا میں نے تو یہ خیال ہی دل سے نکال دیا اور بدستور پیدل آنے جانے لگا۔ ایک دن پھر اس نے خود ہی فون کیا کہ ایک اور چینی لڑکا میرے ساتھ جائے گا پارکنگ سے سائیکل تلاش کرنے میں میری مدد کرے گا۔ اب اتنے خلوص پر انکار کیسے ہو؟ میں گیا اور بھائی صاحب نے سائیکل کا جو حلیہ مجھے بتایا اس کے بعد تو وہ مجھے نادر شاہ کےان نوادرات میں سے محسوس ہوئی جو وہ دہلی پر حملے کے بعد اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ میں دل ہی دل میں دعا کر رہا تھا کہ نہ ملے لیکن وہ مل گئی۔ سائیکل کیا تھی، حوادث زمانہ کا ایک منہ بولتا ثبوت تھی۔ ا س سائیکل میں کچھ ایسی خصوصیت تھیں جن کی بدولت وہ مجھے بہت یاد آتی ہے۔

سب سے پہلی خصوصیت یہ تھی کہ اس کو میرے علاوہ کوئی نہیں چلا سکتا تھا۔ سائیکل کا اگلا ٹائر ٹیڑھا تھا، دوسرا اس کا ہینڈل بھی زخمی تھا۔ موسوف نے مجھ سے پہلی درخواست کی تھی کہ اس حالت میں سائیکل کی سواری بہت خطرناک ہے لہٰذا اسے فی الفور کسی 'ہسپتال' لے جاؤں۔ لیکن جب میں نے سائیکل پر سوار ہو کر پیڈل گھمایا تو وہ پہلے آگے کو روانہ ہوئی، پھر کہیں دائیں بائیں ہوئی ، میں بڑی مشکل سے اسے روکنے میں کامیاب ہوا۔ میں نے اس عمل کو اپنی نالائقی پر محمول کیا اور اسے 'ڈاکٹر' کے پاس لے جانے کا خیال اس لیے نکال دیا کہ چلتی ہے۔ بس تو پھر دوستو! کچھ مشق کے بعد میں اس کو سیدھا چلانے کی مہارت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا لیکن دوست احباب اس فضیلت سے محروم ہی رہے لہٰذا انہیں کیا پتہ اس سائیکل میں کیا مزا تھا؟

جن دنوں مشق جاری تھی انہی دنوں اس سائیکل نے راہ چلتے دو تین چینی حضرات کی جسم بوسی کا شرف بھی حاصل کیا۔ اس میں میری کوئی غلطی نہیں تھی، وہ پتہ نہیں کہاں سے آگے آ جاتے تھے خود ہی۔ میں سیدھا اپنے رستے پر 'چلتا کیا نہ کرتا'، سیدھا ان سے ٹکرا جاتا۔ بہرحال، کچھ حضرات تو زمین سے اٹھنے کے بعد ایک نظر مجھ پر اور دوسری سائیکل پر ڈال کر ساری کہانی سمجھ جاتے لیکن ایک صاحب نے انتہائی فصیح اور شسستہ چینی زبان میں میری سائیکل چلانے کی مہارت کی خوب داد دی اور یقین کیجیے میں نے بھی میر اور غالب کی اردو میں اس کا شکریہ ادا کیا۔

لیکن اس کا ہر گزیہ مطلب نہیں ہے کہ سائیکل خراب تھی یا اس میں بریکیں نہیں تھیں۔ ان گنہگار آنکھوں نے با ہوش و حواس ہینڈل کے ساتھ دو عدد بریکیں بھی دیکھی تھیں۔ یہ الگ بات کہ ہمیشہ ٹکر لگنے کے بعد ہی یاد آتا تھا کہ اگر میں پاؤں نیچے رکھنے کی بجائے بریکیں لگادیتا تو یہ نوبت نہ آتی۔پاؤں رکھنے سے یاد آیا کہ سائیکل میرے قدرتی قد سے کچھ بڑھی تھی لہٰذا زمین پر پاؤں رکھنا بہت دشوار تھا اسی لیے سیٹ پر بیٹھنے کی توفیق زیادہ نہیں ہوئی ورنہ میں سیٹ کی خوبیاں بھی بیان کرتا۔

سائیکل کیونکہ مغلیہ سلطنت کے گمشدہ نوادرات کا حصہ تھی اس لیے حوادث زمانہ نے اسے چپ لگا دی تھی۔ مجال ہے کہ کبھی چوں چرخ قسم کی کوئی آواز اس نے پیدا کی ہو۔ اب چونکہ گھنٹی بھی نہیں تھی اس لیے اس کی کمی میں اکثر اپنے منہ سے سیٹیاں بجا کر پوری کرتا تھا۔ وہ تو اللہ کا شکر ہے بیجنگ کی دوشیزائیں پیچھے سے سیٹی بجانے کا بالکل بھی برا نہیں مناتیں ورنہ میں اس وقت یہ مضمون کسی پولیس سٹیشن سے لکھ رہا ہوتا۔

ویسے مزے کی بات یہ ہے کہ یہ تاریخی سائیکل بہت مشہور تھی۔ لوگ اس کی مثالیں دیا کرتے اور اکثر احباب کہا کرتے کہ سائیکل لینی ہے لیکن وہ چرخہ نہیں لینا جو کامران کے پاس ہے۔ پھر وہ وقت آ گیا جس کا برسوں سے انتطار نہیں تھا۔ میں سائیکل باہر کھڑی کر کے مارکیٹ میں گیا۔ سائیکل کی جملہ خصوصیات کی وجہ سے اسے تالا لگانے کی زحمت کم ہی گوارا کرتا تھا مگر اس دن جب باہر نکلا تو سائیکل وہاں نہیں تھی۔ میں سمجھا شاید میرے ظلم و ستم سے تنگ آ کر ادھر ادھر ہوئی ہو اور کئی دن تک تو یہ گمان رہا کہ شاید لے جانے والا خود ہی واپس رکھ دے گا، مع ایک عدد خط کے، جس میں ایسی سائیکل رکھنے پر مجھ پر فوجداری مقدمہ قائم کرنے کا ذکر ہوگا لیکن کچھ نہ ہوا۔ جن دوست احباب کو پتہ چلا وہ شام کو مٹھائیاں لے کر میرے پاس تعزیت کرنے آئے، کچھ دن اس کے سوگ میں میٹھا کھا کر میں نے نئی سائیکل لے لی جس کا قصہ پھر کبھی سہی!

Comments

کامران امین

کامران امین

مصنف کا شمار باغ، آزاد کشمیر کے قابل نوجوانوں میں ہوتا ہے اور آج کل وہ ’’یونیورسٹی آف چائنیز اکیڈمی آف سائنسز‘‘ سے نینو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کررہے ہیں۔ تعلیم اور سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں۔ باالخصوص چین میں تعلیم کے خواہش مند طلبا رہنمائی کے لیے ان سے فیس بک پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.