ادھورے خواب - نوید اقبال

مملکت خداداد پاکستان، جس کی بنیادوں میں لاکھوں شہیدوں کا لہو ہے۔ مرد،عورتیں،بوڑھے، بچے، جوان ہر عمر کے افراد، شہادتوں کی تاریخ رقم کرتے ایک ایسی سمت رواں دواں ہوئے جہاں ان کے خوابوں کی سرزمیں تھی۔ "پاکستان کا مطلب کیا؟ لا اله الا اللہ!" یہ نعرہ ان کی زباں پہ جاری اور ان کے جسم میں لہو بن کے رواں دواں تھے۔ یہ صرف نعرہ نہ تھا بلکہ ان کا ایمان وایقان تھا۔ پھر قربانیوں کی لازوال داستان، تاریخ کے صفحات پر رقم ہو گئی۔

دو قومی نظریہ کی بنیاد پر بننے والی مملکت "پاکستان" اس بنیاد پر وجود میں آئی کہ "اس کو اسلامی اصولوں کی ایسی تجربہ گاہ بنایا جائے جہاں مسلمان آزادانہ طور پر، اپنی زندگی اسلامی اصولوں کے مطابق گزار سکیں۔ " "قرارداد مقاصد" اسی خواہش کی عملی شکل تھی تاکہ منزل بہ منزل تمام قوانین کو شریعت کے تابع کردیا جائے۔

مگر افسوس، قربانی دینے والی نسل کی آنکھوں کے خواب ادھورے ہی رہے۔ یہاں تک کہ تحریک آزادی کے مجاہد اور مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع عثمانی رحمہ اللہ نے اپنی مایہ ناز تفسیر"معارف القرآن" کے مقدمے میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ، "جس مقصد کے لیے مسلمانان ہند نے قربانیاں دیں تھیں وہ تشنہ ہی رہا اور قربانیاں ضائع ہو گئیں۔"

اللہ رب العزت نے ہمیں سنبھلنے کے بے شمار مواقع عطا فرمائے مگر،تاریکی تھی کہ بڑھتی ہی چلی گئی۔ جہالت،سر کشی،بغاوت مزاجِ ثانی بن گیا۔ بات یہاں تک پہنچی کہ "اسلام"پر ہی انگلیاں اٹھنے لگیں۔ مغرب زدہ نام نہاد سکالر شکوک و شبہات کا طوفان برپا کرنے لگے۔ برسر عام مذہب کو نشانہ بنایا جانے لگا اور مذہبی طبقے کی پگڑیاں اچھالی جانے لگیں۔ سیکولرازم،لبرل ازم اور اسلام مخالف ہر تحریک معتبر ٹھہری۔ حکمران اور ادارے اس بے سرے ڈھول کی تھاپ پے ننگا ناچ ناچنے لگے۔

پھر پاک سر زمین علماء کے خون سے رنگین ہونے لگی۔ مذہبی طبقے کو سیکورٹی کے نام پر ہراساں کیا جانے لگا۔ ملک کے وسائل عوام پر خرچ ہونے کی بجائے، حکمران طبقے کی عیاشیوں پر لگنے لگے۔ سرکشی، بغاوت اور نافرمانی کی ہر حد پار کر لی گئی۔ حکمران اپنی دنیا میں گم اور عوام اپنی الگ دنیا بسائے، خواب خرگوش کے مزے لیتے رہے اور جب پانی سر سے اونچا ہو گیا تو اللہ کا عذاب کا کوڑا حرکت میں آیا۔ مہنگائی،سیلاب، زلزلے،قتل و غارت،ظلم و ستم،خوف و ہراس اور دہشت گردی!

آہ وفغاں کرتے لوگ،درد کی تصویر بنے،کرب آنکھوں میں بسائے،بے بسی سے سوال کرتے ہیں؟ ہمارا قصور کیاہے؟مائیں پوچھتی ہیں؟ ہمارے جگر گوشے کیوں اس عذاب میں مبتلا ہیں؟ ہمارا لہو،پانی سے بھی کیوں ارزاں ہے؟ یہ سرزمینِ اماں، بے اماں کیوں ہو گئی؟امن کی فاختہ کہاں جا بسی؟امن کا گہوارہ یہ ملک، جہاں کبھی مغربی ممالک کے سفیر آرام کی غرض سے پوسٹنگ کرواتے تھے،آج دہشت کا استعارہ کیوں ہے؟ سوال تو بے شمار ہیں۔ مگر جواب ایک ہے۔ میرے رب کے فرمان کا مفہوم ہے:"بحر وبر میں جو فساد ہے وہ انسان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے"

یہ فصل ہم نے خود بوئی ہے۔ اپنے شہیدوں کے خون سے غداری کر کے،اللہ کی عطا کردہ اس امانت میں خیانت کر کے،اسلام اور اسلامی اصولوں کا مذاق اڑا کے ہم نے اس فصل کو جوان کیا اور آج اس کے کاٹنے کا وقت آپہنچا۔

یہ سارے عذاب جن میں ملک عزیز مبتلا ہے،یہ سارے عفریت جو بے قابو ہو چکے،اسی فصل کا کڑوا پھل ہے لیکن مہلت ابھی باقی ہے۔ اگر یہ بھی گزر گئی تو پھر مائیں ایسے ہی غم کی تصویر بنی، اپنے جگر گوشوں کے لاشے دیکھنے کا عذاب سہتی رہیں گی۔

مہلت ابھی باقی ہے، بس توبہ کا ایک آنسو، جفا سے توبہ،وفا کا وعدہ اور جب گفتار سے کردار تک کا سفر طے ہو جائے گا تو پھر تبدیلی ایسے ہی آئے گی جیسے موسم دھیرے بدل جاتے ہیں۔
ورنہ یاد رکھیں اللہ کے عذاب کا کوڑا بڑا سخت ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com