حدود – قدسیہ ملک

بچے اسکول جاچکے تھے اور وہ تھوڑی سی دیر ستانے کے لیے لیٹی ہی تھی کہ اس شور شرابے سے آنکھیں کھل گئی شاید وہ سب ملکر زور زور سے احتجاج کررہے تھے ۔ ذرا غور کیا تو معلوم ہوا کہ چڑیاں ایک چڑیا پر چیخ رہی تھیں، شاید کوئی بھولی بھٹکی چڑیا اپنے علاقے سے ان کے علاقے میں آگئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس سے علاقہ خالی کروانے کے لیے صبح صبح یہ احتجاج ہو رہا تھا۔ آخر کار اس کے چلے جانے کے بعد شور کچھ کم ہوا۔ وہ سوچنے لگی کہ کیا ان کے بھی علاقے، حدود اور راہداریاں ہوتی ہیں؟

شام میں سب پارک جانے کی تیاری کرنے لگے۔ جب گاڑی باہر نکالی تو محلے کے تمام کتوں کو میدان میں ایک کتے پر بھونکتے دیکھا، جو خاموشی سے کھڑا سب کے غصے کا سامنا کر رہا تھا۔ وہ حیرت سے یہ تماشا دیکھ رہی تھی کہ اچانک ایک کتے نے اس نئے کتے پر حملہ کردیا اور اسے میدان چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ وہ خاموشی سے چلا گیا اور محلے میں سکون ہوگیا۔ وہ پھر سوچنے لگی کہ کیا جانوروں، چرند، پرند میں بھی یہ شعور ودیعت کیا گیا ہے کہ اپنی زمین، اپنی جگہ اور اپنی حدود کی حفاظت کرنی ہے اور کسی غیر کی مداخلت صرف معیوب ہی نہیں بلکہ زندگی و موت کی مسئلہ ہے؟

یہ قدرت کا قانون ہے اور انسان تو اشرف الخلق ہے، ان تمام چرند، پرند، حیوانات، نباتات و مخلوقات سے افضل ہے، جس کے لیے قرآن مجید نازل کیا گیا اور اسے ایک ضابطہ اخلاق کا پابند بنایا گیا۔ اس سے کہا گیا کہ یہ قومیں، برادریاں اور قبائل تمہارے تعارف کا ذریعہ ہیں تاکہ تم لوگ ایک دوسرے کو پہچان لو۔

شاید اسی لیے دو قومی نظریے کی ضرورت پیش آئی۔ پاکستان کا یہ تصور اچانک پیدا نہیں ہوا، اس کے پیچھے ہندو-مسلم دشمنی کے علاوہ مذہب، تہذیب و ثقافت، ذات و قبائل اور ذہنیت کا فرق واضح تھا۔ تقسیم ہند سے پہلے ہندو مسلم ساتھ رہتے تھے لیکن انگریزوں کے زمانے میں جب مسلم سلطنت میں بے یقینی کی کیفیت پیدا ہوئی تو انہی ہندوؤں نے سکھوں اور مراٹھوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں ہی کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ ان کی سازشیں اور ساز باز نے ایسے حالات پیدا کیے کہ مسلمانوں کے فکری تشخص اور آزادی کو خطرہ لاحق ہوگیا۔ اسی دور میں شاہ ولی اللہ، سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید جیسی شخصیات نمودار ہوئیں جن کی خواہش اسلامی عقائد کی مضبوطی تھی۔ اس کے لیے انہوں نے اپنی ہر ممکن کوشش کی اور مسلمانوں کے تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی جان کی بھی پروا نہ کی۔ یہ مجاہدین اسلام اپنی اقدار و روایات اور مسلمانوں کے جداگانہ تشخص کو برقرار رکھنے کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ دینے سے بھی نہ کترائے۔ یہ انہی مجاہدین اسلام کی کوششوں کا ثمر تھا کہ ہم بالآخر علیحدہ تشخص اور ایک الگ وطن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کی قیمت بہت بھاری تھی، لاکھوں نے اپنی جان، مال و عزت کی قربانی دی تب یہ علیحدہ وطن قائم ہوا۔ مدینہ کے بعد دنیا میں "لا الہ الا اللہ" کے نام سے بننے والی پہلی ریاست، جس کی بنیادوں میں ان لٹے پٹے مہاجروں کے قافلے کی عظیم جدوجہد بھی شامل تھی۔ ان بے آسرا اور بے خانماں مہاجرین کے لیے زندگی کی ایک ہی امید اور ایک ہی نعرہ تھا "پاکستان کا مطلبہ کیا ۔۔۔۔ لا الہ الا اللہ"

یہ بھی پڑھیں:   نظریہ اور انسانی زندگی (2) - محمد دین جوہر

لیکن آج 70 سال گزر گئے ہیں اور ہم پاکستان کی اس نظریاتی اساس کا حق ادا نہیں کر سکے ہیں، جس کے لیے یہ عظیم مملکت معرض وجود میں آئی تھی۔ 71ء میں جغرافیائی وحدت کو ٹکڑے کیے، دو قومی نظریے کو ٹھیس پہنچائی، حکمران تو کجا عوام بھی جرم ضعیفی کے اس عمل میں شریک رہے اور یوں مرگ مفاجات کی سزا پائی۔ پھر جو ہوا وہ سب نے دیکھا، کبھی کوئی غیر ہماری بیٹی کو اغواء کر گیا اور ہم خاموش، کبھی کوئی امریکی ہمارے ملک کے باسیوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دیتا اور ہم خاموش، کبھی کوئی اپنا ہی ہماری جڑوں کو کاٹنے کے لیے کام کرگیا اور ہم بے دست و پا، کوئی "نوبل انعام یافتہ" اٹھتا اور اس وطن عزیز کے خلاف ہرزہ سرائی کرتا اور ہم خاموش، کوئی ڈرون ہماری فضاؤں میں داخل ہوکر ہمارے شہریوں پو ٹوٹ پڑتا اور ہم چند سکوں کی خاطر خاموش، بھتہ نہ دینے پر کارخانے دن دیہاڑے نذر آتش کیے گئے، سینکڑوں سوختہ لاشیں نکلیں اور خاموش، سیاست دان باہم دست و گریباں، علماء خاموش، تعلیم کے نام پر غلاظت معصوم اذہان میں انڈیلی جانے لگی اور ہم خاموش، ہسپتال مذبح خانے بن گئے اور ہم خاموش، کیوں؟ آخر کس لیے؟ کیا ہم ان کتوں سے بھی بدتر ہوگئے ہیں کہ کم از کم انہیں اپنے علاقے کی حفاظت کا خیال تو ہے؟

وقت آ گیا ہے، ہمیں جاگنا ہوگا، زندہ رہنے آگے بڑھنا ہوگا، ثابت کرنا ہوگا کہ ہم زندہ قوم ہیں، ان سازشوں کا مقابلہ کرنا جانتے ہیں اور اپنی علیحدہ شناخت کو برقرار رکھنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔ ہمیں شعور و بیداری کا کام کرنا ہوگا، خود بھی علم کی دولت سے مالامال ہونا ہوگا تاکہ آگہی کے عمل کو آگے بڑھا سکیں۔ اس ملک، اس نظریے، اس پاک دھرتی کی اساس کو قائم و دائم رکھتے ہوئے ان تمام سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک پاکستان کی نظریاتی سرحدوں، جغرافیائی سرحدوں،ثقافتی سرحدوں،اور دینی و بنیادی سرحدوں کی حفاظت فرمائے، آمین!

Comments

قدسیہ ملک

قدسیہ ملک

قدسیہ ملک شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی میں ایم فل سال اوّل کی طالبہ ہیں۔ مختلف رسائل، اخبارات اور بلاگز میں لکھتی ہیں۔ سائنس، تعلیم، سماجی علوم، مذہب و نظریات دلچسپی کے ایسے موضوعات ہیں جن پر آپ قلم اٹھاتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!