وزیر اعظم کے عہدے پر نحوست کے سائے - پروفیسر جمیل چودھری

ریاست پاکستان 70 سال مکمل کرچکی ہے، اب تک ڈیڑھ درجن وزراء اعظم آئینی اور قانونی طریقے سے بنائے گئے لیکن کسی ایک کو بھی عزت و وقار سے اپنی معیاد پوری کرنے نہیں دی گئی۔ایسا لگتا ہے کہ اس عہدے پر نحوست کے سائے چھائے ہوئے ہیں۔یہ سائے اس طرح کے نہیں ہیں جو سورج کی وجہ سے کم و بیش ہوتے رہتے ہیں۔سورج کی وجہ سے کبھی کسی شے کا سایہ بہت لمباہوتا ہے کبھی کم اور کبھی بالکل نہیں ہوتا۔اس عہدے پر نحوست کا سایہ پائیدار ہے کمی وبیشی کا یہاں تصور نہیں ہے۔اس سائے میں کوئی حرکت بھی نہیں ہے۔پاکستان بننے کے بعد کی دہائی ہو یا نئی صدی کی دوسری دہائی۔ یہ منحوس سایہ اس عہدے پر موجود ہے۔

ہمارے پہلے وزیر اعظم جناب لیاقت علی خان صاحب جوایک انتہائی شریف،قابل اور دیانتدار انسان تھے ان کے بارے میں کرپشن کا تصور بھی نہیں کیاجاسکتا۔نحوستی سائے کی وجہ سے اس کی جان لے لی گئی اور ابھی تک قتل کی تفتیش بھی نہیں ہوسکی۔قائد اعظم کے بعد پاکستانی قوم نے اس عظیم شخص سے امیدیں وابستہ کی ہوئی تھیں اس کے بعد 50ء کی دہائی میں نحوستی سائے نے چھ وزراء اعظم کواندھیر نگری کے سپرد کیا۔پھر11سال چونکہ یہ عہدہ ہی نہیں تھا لہٰذا راوی بظاہر چین ہی چین لکھتا رہا لیکن راوی نے مشرقی پاکستان میں ہونے والی زیادتیوں کا ذکر کرنا بھی مناسب نہ سمجھا۔اس وقت کے سینئر معیشت دان اب آکر بتارہے ہیں کہ پاکستان کو ملنے والے کل قرضوں اور گرانٹس میں سے صرف اور صرف 20 فیصد مشرقی پاکستان کی ترقی کے لیے استعمال ہوتے تھے اور باقی تمام گرانٹس مغربی پاکستان پر خرچ ہوتی رہیں۔60سال کے بعد ایسی باتیں بتانے والے ذمہ داروں پر لفظ "لعنت" ہی ذہن میں آتا ہے۔ایک شرابی جرنیل کے ڈھائی سال بھی آئے اس پورے عرصے میں دل خون کے آنسو ہی روتا رہا۔اب تک کسی بھی وزیر اعظم کے زمانے میں پاکستان کا ایک انچ بھی بھارت کے قبضے میں نہیں گیا تھا یہاں تو آدھا ملک ہی چلا گیا۔مشرقی پاکستان کے آپریشن سے پہلے نور الامین کو وزیر اعظم اور نائب صدر بنایا گیا اس انتظام سے نورالامین سمیت باقی تمام لوگ ذلیل و خوار ہوئے۔ نحوست کے سائے اب ذوالفقار علی بھٹو جیسے ذہین اور عالمی لیڈر کا انتظار کررہے تھے۔ ان منحوس سایوں نے انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا۔محمد خان جو نیجو نے3سال مشکل سے ہی پورے کیے وہ بغیر بات کیے خاموشی سے اپنے گاؤں سندھ چلے گئے۔پہلی مسلم خاتون وزیر اعظم ڈیڑھ سال بعد ہی الزامات لگاکر فارغ کردی گئیں۔یہی رویّہ نواز شریف کے ساتھ روا رکھا گیا۔90ء کی دہائی میں دونوں کے ساتھ ایک دفعہ پھر یہی سلوک کیاگیا عہدے پر نحوست کے سائے پھیل کر90ء کی دہائی کے آخر تک پہنچ گئے۔اگر یحییٰ خان ڈکٹیٹر کے دور میں مشرقی پاکستان پر بھارت نے قبضہ کیا تھا تو جنرل ضیاء الحق کے دور میں سیا چن گلیشیئر کا ایک بہت بڑاعلاقہ بھارت کے قبضے میں چلا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   تقریر تو اچھی، بہت اچھی تھی - فیض اللہ خان

یہ بات یادرکھنی چاہیے کہ اب تک منتخب وزراء اعظم کے زمانوں میں ایک انچ بھی بھارت کے پاس نہیں گیا۔ذوالفقار علی بھٹو نے تو بھارت کا مفتوحہ علاقہ واپس لیکر پاکستان میں شامل کیا۔پھر مشرف نے2002ء میں ایک شریف شخض ظفر اللہ جمالی کو وزیر اعظم بنایا لیکن نحوست کے سایوں نے پھرپوراپنا کام دکھایا اور2سال بعد ان سے بھی استعفیٰ لے لیا گیا۔شوکت عزیز چونکہ پاکستانی تھے ہی نہیں لہٰذا جب مشرف کے دور میں حالات خراب ہوئے وہ تیزی سے پاکستان چھوڑ کراپنے وطن سدھار گئے۔یہ وزیر اعظم شوکت عزیز پر نحوست کے سایوں کا اثر ہی تھا کہ وہ اس عہدے پر رہ کر اتنے ڈر گئے کہ انہوں نے واپس مڑکر دیکھنا بھی پسند نہ کیا۔ایسا لگتا ہے کہ بُرے سایوں نے ان پر بھی اثرات ڈالے۔

یوسف رضا گیلانی کے واقعات تو آپ کو یاد ہی ہوں گے۔جرم کسی اور کا تھا لیکن بُرے سایوں کا اثر تو وزیر اعظم پر ہی پڑنا تھا۔زرداری صاحب کو ان کے پیر 5 سال پورے کرواگئے یہ اس لیے بھی ہوا کہ زرداری کے ساتھ وزیر اعظم کا سابقہ استعمال نہیں ہوتا تھا۔مجھے یقین کامل ہے کہ اگر زرداری وزیر اعظم بنتے تو نحوست کے سایوں کا اثر ان پر بھی لازمی طور پر پڑتا۔وہ اپنی پانچ سالہ ٹرم کسی بھی صورت پوری نہ کرپاتے۔ان کے پیر کا کمال تو ہم تب مانیں گے کہ زرداری کو وزیر اعظم بنواکر5سالہ ٹرم پوری کروائی جائے۔

میں نے پرانے اور نئے وزیر اعظم کے کوائف دیکھے، یہ تمام کے تمام آئین کی شرطوں کو پورا کرنے والے تھے۔ یہ تمام پاکستانی تھے۔اسلام کی ٹھیٹھ تعریف کے مطابق یہ مسلمان تھے۔ ان تمام کی عمریں آئینی ضرورت یعنی25سال سے زیادہ تھیں۔اسلام کی بنیادی اقدار اور عقائد سے واقف تھے۔الیکشن کے بعد ان تمام نے حلف اٹھایا کہ وہ واحدا نیت پر یقین رکھتے ہیں۔محمد ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں اس دنیا کے بعد دوسری دنیا پر بھی یقین رکھتے ہیں۔محمد نواز شریف پر نحوست کے سائے کے اثرات تو ابھی تازہ تازہ ہیں۔ میں نے اموی خلفاء اور عباسی خلفاء کی تاریخ پڑھی ہے، جتنے ظلم و ستم ان حضرات نے اپنے مخالفین پر کرائے اور بے دریغ مخالفین کا خون کرایا۔ایک ہمارے منتخب وزراء اعظم نے کبھی اپنے مخالفین کے ساتھ اس طرح کا رویہ اختیار کیا مخالفانہ تقریریں اور بیان بازی تو جمہوریت میں ہر جگہ ہوتی ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے مخالفین کے ساتھ کچھ سختی بھی کی لیکن وہ رویہ جو عباسیوں نے امویوں کے ساتھ اختیار کیا مخالفین کی لاشوں اور زخمیوں کے ڈھیر لگائے ان پر قالین بچھائے اور کراہتے ہوئے زخمیوں پر بیٹھ کر شراب نوشی کے مزے لیے۔کیا پاکستانی وزرائے اعظم کے قصور ان سے کسی بھی لحاظ سے ملتے جلتے ہیں؟ جس کو بھی دیکھو قتل۔ پھانسی اور جلا وطنی یا تمام عمر کی نااہلی؟

یہ بھی پڑھیں:   پُورا منٹو اور تاریخِ پاکستان - امجد اسلام امجد

مجھے تو وزیر اعظم کے لفظ میں کوئی مسئلہ لگتا ہے حروف کی سائنس کے ماہرین کو ان کے نمبر معلوم کرکے کچھ تجزیہ کرنا چاہیے۔میں تو اس علم کو بالکل نہیں جانتا۔ کیا وزیر اعظم کے حروف کے نمبروں کو جمع کرنے سے کوئی خطرناک صورت حال تو نہیں بنتی۔اگر کوئی ایسی صورت حال ہے تو پھر آئین میں ترمیم کرکے اس عہدے کانام تبدیل کردینا چاہیے۔تاکہ اس عہدے پر نحوست کے سائے ختم ہوسکیں۔ہم کب تک اثرات کو بھگتیں گے۔70سال میں17وزرائے اعظم کے ساتھ قتل،پھانسی، جلا وطنی کا رویہ اور سب سے زیادہ اہم بات کروڑوں لوگوں کے نمائندوں کے ساتھ انتہائی بے توقیری۔ پارلیمنٹ کے اراکین کو بات سمجھنی چاہیے اس عہدے کا نام بدلنا تو ضروری ہے ہی ان نادیدہ قوتوں کے بارے غور کرنا بھی ضروری ہے۔ جن کا تعلق چاہے ملک سے ہو یا ملک سے باہر ہو۔اگر آئین جوں کا توں رہا تو جو کچھ70سال سے ہورہا ہے آئندہ بھی نحوست کے سائے اس عہدے پر چھائے رہیں گے۔