رویبضہ کون لوگ ہیں؟ - محمد مبشر بدر

رویبضہ کے بارے میں نے بچپن میں سنا تھا اور مدرسے کے گیارہ سالہ تعلیمی دور میں بھی اس کی گونج کانوں میں پڑی۔ شاید آپ میں سے کچھ لوگوں نے سن رکھا ہو، جب کہ بہت بڑی تعداد لوگوں کی ایسی ہے کہ انہیں رویبضہ کا علم ہی نہیں اور نہ ہی انہوں نے ان کے بارے میں کبھی سنا ہے۔ آقا علیہ السلام نے علامات قیامت کھول کر بیان فرمائیں اور پیش آنے والے فتنوں اور فتنہ پرور لوگوں سے آگاہ کیا، تاکہ امت مسلمہ ان فتنوں سے اپنا ایمان محفوظ کرلے۔ انہی فتنوں میں سے ایک فتنہ رویبضہ کا بھی ہے جس کا ذکر نبی کریم ﷺ نے اس حدیث میں فرمایا:

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: إِنَّ أَمَامَ الدَّجَّالِ سِنِينَ خَدَّاعَةً، يُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ، وَيُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ، وَيُخَوَّنُ فِيهَا الأَمِينُ، وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ، وَيَتَكَلَّمُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ، قِيلَ : وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ ؟ قَالَ : الْفُوَيْسِقُ يَتَكَلَّمُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ.

آپ ﷺ نے فرمایا کہ:

"لوگوں پر بہت سے سال ایسے آئیں گے جن میں دھوکا ہی دھوکا ہوگا، اس وقت جھوٹے کو سچا سمجھا جائے گا اور سچے کو جھوٹا، بد دیانت کو امانت دار تصور کیا جائے گا اور امانت دار کو بددیانت، اور رویبضہ ( گرے پڑے نااہل لوگ ) قوم کی طرف سے نمائندگی کریں گے۔ عرض کیا گیا: رویبضہ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا:

"وہ نااہل اور بے قیمت آدمی جو جمہور کے اہم معاملات میں رائے زنی کرے۔"

یہ روایت حاکم، مسند احمد، ابن ماجہ اور کنزل العمال میں صحیح سند کے ساتھ آئی ہے۔

اس روایت کو بغور پڑھیں خاص طور پر آخری الفاظ کی طرف توجہ کریں کہ آقا علیہ السلام نے کیسے سنگین دور کی منظر کشی فرمائی اور ایسے لوگوں کی نشاندہی فرمادی جو کم علم، جاہل، اور گرے پڑے ہوکر جمہور امت کے معاملات میں ٹانگ اڑائیں گے اور ان کے فیصلوں میں اپنی رائے داخل کرنے کی کوشش کریں گے۔ آقا علیہ السلام نے ایسے شخص کو " رویبضہ " کے لفظ سے تعبیر فرمایا جس کا مطلب ہے " الرجل التافہ " یعنی معمولی، گراپڑا اور عامی شخص، جو اکابر کے منہج اور متفقہ فیصلوں میں اپنی رائے گھسیڑنے کی کوشش کرے۔ ایک اور روایت میں رویبضہ کا مطلب فاسق بھی آیا ہے۔

آج ہم دیکھتے ہیں کہ امت کی بربادی کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہے کہ ہر دوسرا شخص جس نے دین کی تعلیم تک حاصل نہیں کی ہوتی اور نہ اسے علم و عمل کی ہوا لگی ہوتی ہے، وہ بیٹھا فقہاء کے متفقہ مسائل کو ہٹ کررہا ہوتا ہے، کبھی ان کی توہین کرکے انہیں معاذ اللہ جانوروں سے تشبیہ دیتا ہے اور کبھی انہیں اپنی رائے میں قرآن و حدیث کی مخالفت کرنے والا ثابت کرتا ہے۔ یہاں ہر عامی جسے کچھ بولنے اور لکھنے کا طریقہ آتا ہے وہ خود کو مجتہد اور فقیہ سمجھنے لگتا ہے اور امت کے تعامل اور جمہور فقہاء کے فیصلوں کے مقابلے میں " علامہ گوگل " سے دستی رہنمائی لے کر عوام کے اذہان میں شکوک بھرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔ ایسوں کی نشاندہی حدیث مذکور میں نبی علیہ السلام نے فرمائی ہے۔

اس روایت کا دوسرا مطلب بھی محدثین نے بیان فرمایا ہے کہ رویبضہ سے مراد وہ نااہل اور ناخلف لوگ مراد ہے جو مجالس میں آگے آگے بیٹھتے ہیں اور کبھی اونچے مناصب اور اقتدار پر غالب آکر لوگوں کے معاملات میں بغیر علم کے رائے زنی اور تصرف کرتے ہیں اور جمہور کے فیصلوں کو کالعدم قرار دے کر شاذ اور مرجوح مسائل پر لوگوں کو ابھارتے ہیں اور انہیں حق و سچ کے استے سے ہٹا کر دین سے دوری اور اسلاف پر بداعتمادی اور مسلمانوں سے نفرت پیدا کرتے ہیں۔چنانچہ آپ آج کے دور میں دیکھیں گے کہ گرے پڑے کم فہم اور چھوٹے لوگ علم دین اور فتویٰ نویسی کی طرف بڑھ رہے ہیں تاکہ وہ اس منصب کو اپنے ہاتھ میں لیں اور لوگوں کو غلط مسائل بیان کرکے راہ مستقیم سے ہٹا دیں۔چنانچہ نبی کریم ﷺ نے علاماتِ قیامت میں سے ایک علامت کے بارے فرمایا:

"إن من أشراط الساعة أن يلتمس العلم عند الأصاغر" (رواه الطبراني في المعجم الكبير‌ وصححه الألباني (2207) في صحيح الجامع)

یعنی:" علاماتِ قیامت میں سے ایک یہ ہے کہ علم معمولی( اور نااہل ) لوگوں سے حاصل کیا جائے
گا۔"

لامحالہ جب نااہل لوگ اپنے ذاتی معالعے سے علماء کرام کی رہنمائی لیے بغیر دین بیان کرنا شروع کردیں گے تو لوگ انہیں ہی اپنا پیشوا اور مقتداء سمجھنے لگیں گے اور ان سے دینی مسائل پوچھنا شروع کردیں گے، حالانکہ ان کا علمی شجری کھنگالا جائے تو بے سند نکلیں گے۔آج آپ مختلف چینلوں پر ایسے لوگوں کی کثرت دیکھیں گے جن کا ظاہری حلیہ تک دین سے میل نہیں کھاتا پھر بھی وہ لوگوں کو مسائل بتارہے ہوتے ہیں، وہ کسی مستند مدرسے سے فارغ التحصیل نہیں ہوتے اور نہ ہی جید علماء سے انہوں نے کسبِ فیض کیا ہوتا ہے۔ انہیں میں سے ایک ڈاکٹریٹ کا فتنہ ہے جو ابھر رہا ہے۔ لوگ انگریزی یونیورسٹیوں سے تیار ہوکر آرہے ہیں، خود کو امت کا مصلح بنا کر پیش کرتے اور ان کا رشتہ اسلاف و علماء سے کاٹ کر اپنے تفردات کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں اورکم علم و نادان لوگ سر پٹ ان کی تقلید کیے جارہے ہیں اور ماہرین شریعت علماء کو پس پشت ڈال رہے ہیں، جو کہ علامت قیامت ہے۔

یہی حال منکرین حدیث، منکرین فقہ، متجددین، دین بیزار لبرلزاور کم علم مسلمانوں کا ہے جنہیں دین کا خاطر خواہ علم نہیں وہ دین اس لیے سیکھ رہے ہوتے ہیں تاکہ علماء کو ہرائیں اور ان سے مناظرے کریں۔ جو شخص اس نیت سے دین کا علم حاصل کرتا ہے تاکہ علماء کرام کو نیچا دکھائے اسے جہنم کی لگام پہنائی جائے گی۔ اس روایت کو سمجھیں اور طالب علم بن کر چلیں، جہاں فقہاء، محدثین اور اہل علم کی آراء، فیصلے اور فتاوے سامنے آجائیں ان کا احترام کریں۔ ان کے مقابلے میں اپنا فلسفہ نہ بکھیریں۔ آج کے دور میں کوئی بھی عام آدمی کسی میڈیکل ڈاکٹر کے لکھے ہوئے نسخے کو چیلنج نہیں کرتا اور نہ اس کی مخالفت کرتا ہے کیوں کہ اسے طب کا علم ہی نہیں ہوتا لیکن فقہاء کے فتاووں، علمی تحقیقوں اور دینی کاوشوں کو چیلنج اور رد کرنے کے لیے ہر ایرا غیرا میدان میں کود پڑتا ہے، جو انتہائی افسوس ناک امر ہے۔