دلیل کامیاب، کامیابی کے سفر کی مشکلات - نعیم الرحمٰن

دلیل کے قارئین اور لکھاری یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ دلیل ان چند آن لائن ویب سائٹس میں سے ہے جو کامیاب ترین ہیں۔ الیگزا رینکنگ میں ایسا کامیاب سفر میں نے اپنی زندگی میں کسی اور ویب سائٹ کا نہیں دیکھا جو کہ بلاگنگ کی ہو اور چند ماہ میں وہ ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے اس مقام پر آن پہنچے جس پہ آج دلیل کھڑی ہے۔ بلاگرز یہ بات جانتے ہیں کہ الیگزا رینکنگ کیا ہے؟ عام احباب کے لیے یہ وضاحت پیش ہے کہ الیگزا یہ بتاتا ہے کہ ویب سائٹ ٹریفک کے لحاظ سے کس نمبر پہ ہے۔ دلیل اس وقت پاکستان میں 1418نمبر پر ہے۔ قارئین کے لیے خوشی کی بات یہ ہے کہ سوموار کو دلیل 2800پہ تھی اور ان 2د نوں میں بلکہ ایک دن میں ترقی کا سفر طے کرتے ہزاروں میں شامل ہو گئی۔ دلیل کے لیے ہزاروں میں ہونا کوئی خاص بات نہیں ہے کیوں کہ دلیل کچھ عرصہ بند رہنے سے پہلے سینکڑوں میں بھی رہ چکی ہے۔ یہ تھی دلیل کی کامیابی کی کہانی۔ اب زرا سنیے میری کہانی۔

دلیل کو بنے تو ابھی ایک سال ہوا ہے لیکن میں نے اس کام کا آغاز 2012میں 12سال کی عمر میں کیا۔ بلاگنگ کے لیے ہمارے پاس ٹیم تو نہیں تھی کیوں کہ 12سال کی عمر تھی سوشل میڈیا پہ ہمارا کوئی دائرہ کار وسیع نہ تھا اس لیے میں اور میرا ایک دوست اس سفر میں شریک تھے۔ ہم نے نکتہ نظرڈاٹ کام کے ڈومین نیم سے ویب سائٹ تیار کی۔ لوگوں تک گروپوں کے زریعے اور ان باکس کے زریعے رابطے کیے اور لکھنے کو کہا۔ لکھنے والے تو بہت ملے لیکن ہم خود بھاگ کھڑے ہوئے کیوں کہ ہمارے لیے ایسے ایسے مسائل کھڑ ے ہوئے کہ جن کہ بارے میں ہم نے سوچا تک نہ تھا۔ اصل میں دلیل کی طرح ہم نے بھی پالیسی وضع کی تھی اور 24گھنٹوں کے اندر تحریر پبلش ہونے کے وعدے بھی۔ اب جب ہم ہر تحریر کو پالیسی کے مطابق جانچنے کی کوشش کرتے تو یہ کام ہمارے لیے درد سر بن گیا۔ 24 گھنٹوں میں تحریر پبلش کرنے کے دعوے، دعوے ہی رہ گئے۔ کچھ ٹیکنیکل مسائل ایسے کھڑے ہوتے ہیں جن کو حل کرتے ہوئے وقت لگتا ہے لیکن لکھاری اُن باتوں سے لا تعلق ہو کر ناراضی کا اظہار کرتے ہیں۔ ایسے مسائل کا دلیل کو بھی سامنا رہا ہے کہ اکثر لکھاری یہ شکایت کرتے نظر آتے تھے کہ ہماری تحریر جلدی پبلش نہیں ہو پاتی۔ یہ پھر دلیل ہے جس کے مدیر اعلیٰ محترم عامر ہاشم خاکوانی جیسے پر عزم انسان ہیں جو جھکنے والوں میں سے نہیں۔ اگر ہماری طرح جھک جاتے اور جو مسائل ان کو پیش آئے ان پہ صبر نہ کرتے تو آج یہ کامیابی اور یہ میری تحریر کبھی ان کے حصے میں نہ آتی۔

یہ بھی پڑھیں:   پرویز مشرف کیخلاف خاموشی پر کیا پیشکش ہوئی؟ حامد میر کا خصوصی انٹرویو (2)

کچھ احباب ایسے بھی ہیں کہ جن کا مقصد صرف پیسے کمانا ہے، خدمت کرنا ویسے ہی ان کے بس کی بات نہیں۔ نعرے سبھی خدمتِ اردو کے لگاتے ہیں لیکن اصل مقصد دنوں میں لکھ پتی بننا ہوتا ہے جو کہیں اشتہاروں سے انھوں نے پڑھ لیا ہوتے ہے کہ ’’ انٹرنیٹ سے لاکھوں کمائیں۔ ‘‘ کبھی ان اشتہاروں والوں سے پوچھیں کہ آپ کو کیا فکر پڑ گئی ہماری ؟ اصل میں یہ ان کا طریقہ ہے یوزرز لانے کا۔ اور عوام اس قدر پیسوں کی بھوکی کہ بھاگی چلی آتی ہے۔ چند ایسے نامراد بھی پائے جاتے ہیں جو دھوکہ دیتے ہیں۔ اور اس قسم کی پوسٹیں کرتے ہیں : ’’ ہاتھی ٹرین کے نیچے آگیا۔۔۔ پھر کیا ہوا دیکھیں، کمزور دل افراد دور رہیں۔ ‘‘ جب آپ کلک کریں گے تو وہ ویڈیو نہیں کوئی ان کی ویب سائٹ کی پوسٹ کھلے گی۔ دلیل کی کامیابی کی میں بڑے وثوق سے یہ وجہ بیان کرتا ہوں کہ دلیل والوں کا مقصد پیسے کمانا نہیں تھا بلکہ ایک معتدل پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا، اگر پیسے کمانا ہوتا تو یہ کب کے قصہ پارینہ بن چکے ہوتے۔ اگر اب انھوں نے ایڈز لگا لیے ہیں تو یہ ان کا حق ہے کیوں کہ ویب سائٹس کے اخراجات بہت ہیں، ضرور ایڈیٹرز کی بھی تنخواہ ہوگی اور کچھ پلگ انز اور تھیم خریدنے پڑتے ہیں ان کے اخراجات الگ ہیں۔ الغرض ایڈز لگانے پہ میں ذاتی طور پہ خوش ہوں۔

ایک دفعہ پھر میری طرف سے دلیل ٹیم اور جناب عامر ہاشم خاکوانی کو مبارک باد اور دعائیں۔ ساتھ ایک گزارش ہے خاکوانی صاحب سے کہ وہ دلیل کے رستے میں آنے والی رکاوٹوں سے ضرور ہمیں آگاہ کریں تاکہ لوگوں کو اندازہ ہو سکے کہ کامیابی کے لیے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔