سیاح … سو لفظوں کی کہانی- مبشر علی زیدی

’’میں پوری دنیا گھومنا چاہتا تھا۔‘‘
انکل نے بتایا۔
’’اچھا! کتنے ملک گھومے؟‘‘
میں نے دریافت کیا۔
’’جوانی میں کچھ پیسے جمع کئے۔
دبئی جا سکتا تھا۔
سوچا کہ استنبول بھی دیکھنا چاہئے۔‘‘
انکل نے سر کھجایا۔
’’پھر دبئی گئے یا اور پیسے کمائے؟‘‘
’’اور پیسے کمائے۔
استنبول کا بندوبست ہو گیا تو سوچا،
پیرس بھی جانا چاہئے۔‘‘
’’یعنی اور پیسے؟‘‘
’’ہاں، اور پیسے کمائے۔
پھر سوچا کہ نیویارک بھی جانا چاہئے۔‘‘
’’پھر گئے یا نہیں؟‘‘
میں نے پوچھا۔
انکل نے حسرت بھری آواز میں کہا،
’’کہاں جا سکا یار!
آج پوری دنیا گھومنے کے پیسے ہیں،
لیکن صحت نہیں۔‘‘
٭٭٭