تاریخ سے سبق سیکھنے کا اُبھرتا ہوا شعور- الطاف حسن قریشی

تاریخ بتاتی ہے کہ انسانی تجربات، مشاہدات اور گزرے ہوئے واقعات پر غوروفکر کرتے رہنے سے زندگی میں ارتقا کا عمل جاری رہتا اور قوتِ متخیلہ کو ممیز ملتی رہتی ہے۔ الہامی تعلیمات نے اِس ارتقا کو ایک جداگانہ بلندی اور ایک خاص رفعت عطا کی ہے۔ مغربی مفکروں سے صدیوں پہلے محسنِ انسانیت اور خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ نے جبل الرحمت پر اپنے خطبہ حجۃ الوداع میں انسانی حقوق کا جو عالمگیر منشور پیش کیا، وہ انسانی عظمت کا ایک لافانی شاہکار ہے۔ اس میں صراحت سے واضح کیا گیا کہ عربی پر عجمی کو اور گورے کو کالے پر کوئی فوقیت نہیں، کیونکہ سب انسان برابر ہیں۔ حاکمیت کا حق صرف اللہ تعالیٰ کا ہے جس نے انسان کو اپنا نائب مقرر کیا اَور مشاورت کے ذریعے امورِ حکومت چلانے کا اختیار دیا۔ اِس خطبے میں یہ بھی ارشاد ہوا کہ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون حرام ہے اور اللہ سے ڈرنے والا معاشرے میں سب سے افضل انسان ہے۔ اس عظیم الشان خطبے میں تمام جاہلانہ تصورات کی نفی کی گئی ہے اور اسلام کی آفاقی تعلیمات کی روشنی میں ایک پُرامن اور منصفانہ معاشرے کا نقشہ سامنے آ جاتا ہے۔ یہ نقشہ اس عظیم ترین ہستی نے پیش کیا جنہیں قرآنِ حکیم میں ’صادق‘ اور ’امین‘ کے لقب سے متصف کیا گیا۔
جنرل ضیاء الحق (شہید) اقتدار میں آئے، تو اُن کے مذہبی رجحانات نے علما کو اپنی طرف متوجہ کیا کہ اُنہوں نے اپنی پہلی نشری تقریر میں نفاذِ اسلام کی نوید سنائی تھی۔ آگے چل کر ایک مخصوص ذہن کے علما اُن کے بہت قریب آ گئے جو اِس سوچ کے حامل تھے کہ اسلام کے اندر سیاسی جماعتوں کی سرے سے کوئی گنجائش نہیں، مگر چند صحافی جن میں جناب صلاح الدین (شہید)، جناب مجیب الرحمٰن شامی، جناب ابن الحسن (مرحوم)، جناب مجید نظامی (مرحوم) اور یہ خاکسار بھی شامل تھے، اُنہوں نے اِس خیال کی ڈٹ کر مخالفت کی اور جنرل صاحب کو اپنی آئینی اسکیم کے اندر تلخ تجربے کے بعد سیاسی جماعتوں کے لیے گنجائش پیدا کرنا پڑی۔ مخصوص ذہن کے علما نے جنرل ضیاء الحق کے کان میں یہ بات ڈالی کہ سیاست کو گندگی سے پاک رکھنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ منتخب اداروں کے ارکان کی شرائطِ اہلیت اِتنی سخت رکھی جائیں کہ کوئی خائن، دین سے ناآشنا اور بدکردار شخص اسمبلیوں میں جا نہ سکے۔ ان علما کا ایک وفد میرے پاس بھی کئی بار آیا تھا اور مجھے رائے پر قائل کرنے کی پوری کوشش کی تھی۔ میں نے جو علم السیاست کا طالبِ علم ہوں، اُن کی رائے سے شدید اختلاف کرتے ہوئے اس تجویز کے خطرناک پہلوؤں کی نشان دہی کی۔ پھر یہ معاملہ آٹھویں آئینی ترمیم کے موقع پر غوروخوض کا عنوان بنا۔ ماہنامہ اُردو ڈائجسٹ کے متعدد شمارے اِس حقیقت کے گواہ ہیں کہ ہم نے 62اور 63کی آئینی شقوں میں ایسی دفعات شامل کرنے کی شدید مخالفت کی جو قانون کی نگاہ میں ناقابلِ شناخت اور ناقابلِ نفاذ تھیں۔ ’متقی‘ کو قانون کے ترازو میں تولا نہیں جا سکتا۔ اِسی طرح ’صادق اور امین‘ کے القاب جو صرف سرورِ کونین حضرت محمد ﷺ کے لیے خاص ہیں، اُن کا قانون کی زبان میں تعین کسی طور ممکن نہیں۔ ہم نے یہ بھی نشان دہی کی تھی کہ یہ اضافے آگے چل کر مذاق بن جائیں گے اور پُراسرار فتنوں کو جنم دیں گے۔ اب ہم ایسا ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ قانون کے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کے فاضل پانچ رکنی بنچ نے چشمِ زدن میں پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف کو ایک ایسے جرم پر جو اُن سے سرزد بھی نہیں ہوا، فیصلہ سنا دیا ہے کہ وہ ’صادق اور امین‘ نہیں رہے۔ میرا ضمیر مطمئن ہے کہ میں نے حکمرانوں کو بروقت آئینی ترمیم کے ضرر رساں اثرات سے آگاہ کیا اور آج بھی اپنی رائے پر قائم ہوں کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر آئین سے 62(1-F)ختم کی جائے کہ یہ شِق عوام کے حقِ حکمرانی پر شبخون مارنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔
اللہ کا شکر ہے کہ ہم نے نیب آرڈیننس کے خطرناک نتائج کے بارے میں بھی قوم کو بروقت خبردار کر دیا تھا۔ جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ فوجی آمروں کی طرح معاشرے کو ہر طرح کی بدعنوانی سے صاف کرنے کا اعلان کرتے ہوئے نیب آرڈیننس جاری کیا۔ ہم نے اسی وقت پائنا کے زیرِ اہتمام سیمینار کا اہتمام کیا جس میں قانون دانوں، سیاسی جماعتوں کے نمائندوں، مالیاتی اور اقتصادی ماہرین نے حصہ لیا۔ سیمینار میں اس رائے کا اظہار ہوا کہ اس آرڈیننس سے عمومی تاثر یہی ملتا ہے کہ یہ ادارہ فوجی حکمرانوں کی طرف سے سول شخصیتوں کو احتساب کے شکنجے میں کسنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ پائنا کی تنبیہ درست ثابت ہوئی کہ جنرل پرویز مشرف نے قاف لیگ نیب کے ذریعے قائم کی تھی۔ اس کے علاوہ فاضل سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں بار بار کہہ چکی ہے کہ یہ ادارہ نااہلی اور بدعنوانی کی بدترین مثال بن چکا ہے۔ ان حالات میں اس کا وجود ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا ہے۔
جناب محمد نواز شریف نے فاضل عدالت کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے اقتدار چھوڑ دیا، مگر اس فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔ وزارتِ عظمیٰ کا منصب چھوڑ دینے کے بعد اُن کی طرف سے جو بیانات اور اشارے آ رہے ہیں، اُن میں تاریخ سے سبق سیکھنے کی زبردست خواہش جھلک رہی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذات سے بہت بلند ہو کر تاریخی حقائق کی تہہ تک پہنچ گئے ہیں۔ وہ اپنے ہم وطنوں سے کہہ رہے ہیں کہ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے کہ پاکستان میں ایک وزیراعظم بھی اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر سکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے نظامِ مملکت میں کوئی بڑا سقم ہے جسے دور کرنا ہم سب کی یکساں ذمہ داری ہے۔ وہ بہت سارے تلخ تجربات کے بعد ’گرینڈ ڈائیلاگ‘ کی بات کر رہے ہیں کہ سب مل کر بیٹھیں اور ٹروتھ اینڈ ری کنسی لییشین کمیشن (Truth & Rconcilation Commission) قائم کریں۔ اس کمیشن کے سامنے تمام ذمہ دار لوگ ماضی کی غلطیاں تسلیم کریں، سچ بات کہیں اور مصالحت کی ایک واضح سمت متعین کریں۔ جنوبی افریقہ میں ایک ایسا کمیشن نیلسن منڈیلا نے اپنی عظیم فتح کے بعد قائم کیا جس میں زیادتی کرنے والی سفید اقلیت کو معاف کرتے ہوئے مصالحت کا ایک عظیم الشان عمل شروع کیا گیا جس کے حیرت انگیز اثرات مرتب ہوئے۔
جناب نوازشریف جی ٹی روڈ سے اپنے گھر لاہور روانہ ہو چکے ہیں۔ جگہ جگہ ان کا والہانہ خیرمقدم کیا جا رہا ہے اور بیداری کی لہر ایک نئی قوت اور جلال کے ساتھ پورے ملک میں پھیلتی جا رہی ہے۔ انہوں نے سویلین بالادستی کا نعرہ بلند کیا ہے جو ہمارے آئین کی کلیدی شق ہے، تاہم انہیں سب سے پہلے اس امر کا خیال رکھنا ہو گا کہ ہر قیمت پر آئینی بندوبست قائم رہے، پارلیمان اپنی آئینی مدت پوری کرے اور کاروبارِ حکومت نہایت مستعدی سے چلتا رہے۔ وہ بار بار وضاحت کر چکے ہیں کہ وہ مختلف ریاستی اداروں میں تصادم کے بجائے توازن قائم کرنے کے لیے کوشاں ہیں اور عوام کی طاقت سے ایک ایسی سمت کا تعین کرنا چاہتے ہیں جس میں اُن کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی نااہلی بھی حدود سے تجاوز کا شاخسانہ تھی۔ اس آن وہ تمام سیاسی قوتوں کے حقوق اور پاکستان کی جمہوری بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس پُرامن جنگ میں کلیدی کردار سیاسی کارکن ادا کریں گے۔ پارلیمان سیاسی جماعتوں کے لیے طاقت کا سرچشمہ ہے جس کے ساتھ گہری وابستگی فتح و کامرانی کی کلید ہے۔ ہمارے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اِسی عزم کا اظہار کیا ہے کہ ہم قانون کی بالادستی اور قانون کی عمل داری کے لیے تمام اداروں سے تعاون کرتے رہیں گے۔ انہوں نے گہرے تاریخی شعور کا ثبوت دیا ہے۔ اس لیے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنا تاریخی فرض ادا کرنا اور نوازشریف کی آواز میں آواز ملا کر عوامی حاکمیت کو مستحکم کرنا ہوگا۔ تاریخِ انسانی کا ایک عظیم لمحہ طلوع ہوا ہے جو ماضی کی تلخیوں سے نکل آنے اور قائدانہ عظمت کا ثبوت دینے کا تقاضا رہا ہے۔

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!