صحافیوں کو ”بخش دینے “ والا رویہ اپنانے کی ضرورت- نصرت جاوید

247/ چینلوں کے دور میں اسلام آباد سے لاہور بذریعہ جی ٹی روڈ سفر کرنے والی نواز شریف کی ریلی کو ٹی وی سکرینوں پر ”کامیاب“ دکھانے کے لئے اس دھندے کی باریکیوں کو خوب سمجھنے کی ضرورت تھی۔ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے سے اپنے عہدے کے لئے نااہل ٹھہرائے وزیراعظم کے پاس ان باریکیوں کے ماہرین پر مشتمل ٹیم ہی موجود نہیں ہے۔
نواز شریف اور ان کے وفادار سیاست دان 1980ءکی دہائی میں ہمارے سیاسی منظر نامے پر نمودار ہوئے تھے وہ دور پرنٹ میڈیا کا دور تھا۔ مقبول ترین اخبارات میں کسی جلسے یا جلوس کی ”جھلکیاں“ بتانا بہت کاریگری کا تقاضہ کرتا تھا۔ ذہن سازی میں اہم ترین کردار کالم نگار ادا کرتے تھے۔نواز شریف کو ”جھلکیاں“بنانے والے کاریگروں کو خوش رکھنا خوب آتا تھا۔ ”لفافہ“ صحافیوں کا طعنہ ان ہی کی بدولت ایجاد ہوا تھا۔
اُردو اخبارات میں کالم لکھنے والوں کی بے پناہ اکثریت کا تعلق ویسے ہی کسی نہ کسی حوالے سے نام نہاد ”دائیں بازو“ کے ساتھ رہا تھا۔ جنرل ضیاءکی مہربانی اور جنرل جیلانی کی نگہبانی میں پروان چڑھا نوازشریف ان کالم نگاروں کی نظر میں ”نظریہ پاکستان“ کے تحفظ پر مامور تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو ان کی دانست میں ”مغرب زدہ“ سوچ کی نمائندہ تھیں۔ پیپلز پارٹی اگرچہ ”سوشلسٹ“ نظریات وخیالات کو ذوالفقار علی بھٹو کے آخری ایام ہی میں خیرباد کہہ چکی تھی لیکن محترمہ کو ان ہی خیالات کا پرچارک شمار کیا گیا۔
افغان ”جہاد“ کے تناظر میں ہمارا جذبہ ایمانی ان دنوں ویسے بھی بہت ولولہ انگیز تھا۔لاہور کے ایک دین دار گھرانے کا فرزند ہوتے ہوئے نواز شریف ہم سب کو ایک ”اچھا اور بہتر“ مسلمان بھی نظر آیا۔ رونق لگ گئی۔ اپریل 1986ءسے 2007ءمیں اپنے الم ناک قتل تک محترمہ بے نظیر بھٹو اُردو کے مقبول ترین اخبارات میں اپنے حامیوں کا ہجوم اکٹھا نہ کرپائیں۔ انگریزی اخبارات کا معاملہ دگر تھا۔ سب سے اہم بات مگر یہ تھی کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے بدترین حالات میں بھی اپنے کارکنوں اور صحافیوں سے براہِ راست اور انتہائی متحرک رابطہ برقرار رکھا۔ اس رابطے نے انہیں نواز شریف کے مقابلے کا رہ نما بنائے رکھا۔
ہمہ وقت مستعد اور انتہائی بے باک ہونے کے دعوے دار ٹی وی صحافیوں کو اپنا گرویدہ بنانے کے لئے ہمارے سیاست دانوں کو ایک قطعی نئے انداز کی ضرورت تھی۔ علم ابلاغ کے ایک مہا گرو نے کئی دہائیاں قبل ٹیلی وژن کو Idiot Boxکہا تھا۔ اس کے علاوہ اس کا اصرار یہ بھی تھا کہ Medium is the Message۔ سادہ ترین الفاظ میں اس کا مطلب یہ تھا کہ ٹی وی سکرین کے تقاضوں کو سمجھ کر اپنی بات کہنا اشد ضروری ہے۔
عمران خان 1996ءمیں سیاسی میدان میں آئے تھے۔ پرنٹ میڈیا کے تقاضوں کو وہ سمجھ نہ پائے۔ اس ملک میں ”آزاد اور بے باک“ الیکٹرانک میڈیا کے متعارف ہونے کے بعد 2011ءمیں البتہ انہیں وہ لوگ میسر آگئے جو کسی سیاسی پیغام کو ایک TV Productکی طرح دکھانے کا تجربہ رکھتے تھے۔ عمران خان ہی کی ٹیم نے ریگولر کے علاوہ سوشل میڈیا کی اہمیت کو بھی بروقت جان لیا۔ ان دونوں کے ماہرانہ استعمال سے وہ ”چھاچھو“ گئے۔
ٹی وی سکرینوں کو ذرا ڈرامہ،کچھ سسپنس اور کافی رنگینی درکار ہوتی ہے۔ عمران خان اپنے نظریاتی کزن طاہر القادری کے ہمراہ اگست 2014ءمیں جب لاہور سے اسلام آباد کے لئے روانہ ہوئے تو ہماری ٹی وی سکرینوں پر ان کا کاررواں کسی محاذ پر تخت یا تختہ کی جنگ برپا کرنے والا سفر کرتا نظر آیا۔ اسلام آباد پہنچ جانے کے بعد انہوں نے ریاستی قوتوں کے ساتھ کئی ”معرکوں“ میں 126دن گزارے۔ سکرینوں پر رونق لگی رہی۔
سپریم کورٹ سے نااہل قرار پانے کے بعد نوازشریف اسلام آباد سے بذریعہ جی ٹی روڈ لاہور جاتے ہوئے محض ”اپنے گھر“ لوٹتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ ان کے اس سفر کے بارے میں فوری خیال ”وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزارکے“ والے مصرعے کی صورت نظر آتا ہے۔ نظر بظاہر وہ ”تندی¿ باد مخالف“ کے خلاف اُڑنے والے عقاب نہیں۔ اسلام آباد میں ان ہی کے نامزدہ کردہ شاہد خاقان عباسی کی حکومت ہے۔ اٹک سے رحیم یار خان تک پھیلا پاکستان کا آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ ان کے برادرِ خورد کے مکمل کنٹرول میں ہے یہ دونوں حکومتیں خوب جانتی ہیں کہ اسلام آباد سے لاہور بذریعہ جی ٹی روڈ سفر کرنا نواز شریف کی جان کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ان کی ”سکیورٹی“ کی خاطر لہذا سرکاری مشینری نے Overkillکی صورت بنائی۔ ایسے ماحول میں ٹی وی سکرینوں پر رونق لگانا انتہائی دشوار کام ہے۔
مذکورہ بالا حقائق کو نگاہ میں رکھتے ہوئے مجھے ہرگز حیرت نہ ہوئی جب بدھ کی شام 7بجے کے قریب ٹی وی کے لئے خبریں جمع کرنے والے رپورٹروں اور کیمرہ مینوں کی اکثریت نے اس ریٹائرڈ رپورٹر کو اطلاع یہ دی کہ نواز شریف اپنا ”شو“ نہ لگا پائے۔ ”بندے“ نہیں آئے۔ ان نوجوان صحافیوں کی یہی سوچ بیشتر ٹی وی سکرینوں پر بھی غالب رہی۔ اندھی نفرت اور عقیدت میں تقسیم ہوئے ہمارے معاشرے کے تمام لوگوں کو خوب پتہ ہے کہ نواز شریف کی ریلی کو ”کامیاب“ دیکھنا ہے تو کونسا چینل لگایا جائے۔ اس ریلی کو ”ناکام“ بتانے والی سکرینیں اگرچہ اکثریت میں تھیں۔ اسلام آباد سے راولپنڈی کے کمیٹی چوک تقریباََ 13گھنٹے تک سفر کرنے کے بعد پہنچنا بھی لیکن اپنی جگہ ایک حقیقت ہے۔ آپ اس سفر کو محض ”چالاکی“ کے ذریعے اتنا طویل بنا ہی نہیں سکتے تھے۔ جو حقیقت ٹیلی وژن سکرینوں پر دکھانا ناممکن نہ سہی مگر بہت ہنر آزما ہے، وہ یہ ہے کہ نواز شریف کا ایک طاقت ور ووٹ بینک ہے یہ ووٹ بینک اس خیال پر سختی سے قائم ہے کہ نواز شریف کے ساتھ انصاف نہیں ”زیادتی“ ہوئی ہے۔ ٹی وی سکرینوں پر ”بندے“ نظرآئیں یا نہیں، نواز شریف کے حامیوں میں ”زیادتی“ والا تاثر برقرار رہے گا اور اگر وہ موجودہ رفتار کے ساتھ لاہور پہنچنے اور وہاں ایک بھرپور اجتماع سے خطاب کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یہ تاثر مزید مستحکم ہوجائے گا۔
ہماری ریاست کے دائمی اداروں میں بیٹھے چند اہم اور فیصلہ ساز افراد کو اس تاثر کا پھیلاﺅ اور استحکام بہت ناگوار گزرے گا۔مسلم لیگ کے متوالے چند چینلوں سے ویسے ہی بہت ناراض ہیں۔ ان میںسے کئی جوشیلے افراد نے ان چینلوں کے رپورٹروں اور کیمرہ مینوں کے ساتھ ویسا ہی رویہ اپنایا جو بدقسمتی سے تحریک انصاف اور اس کی کزن جماعت نے 2014ءمیں متعارف کروایا تھا۔
ہم صحافیوں کی بدقسمتی کہ جب یہ رویہ متعارف ہوا تو یکسو ویکجا ہوکر اپنے باہمی اختلافات کو نظرانداز کرتے ہوئے ہم ”کمی کمین“ اس روئیے کی مزاحمت نہ کر پائے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ نواز شریف نے کمیٹی چوک پر خطاب کرتے ہوئے ہمارے چند ساتھیوں کے ساتھ ہوئے بُرے سلوک کا ذکر کیا۔ انہیں اپنے بقیہ سفر کے دوران اس سلوک کے بارے میں زیادہ سخت الفاظ کے ساتھ متواتر مذمتی رویہ اپنانا ہوگا۔ اندھی نفرت اور محبتوں میں تقسیم ہوئی قوم کے لئے ان کا واضح انداز میں صحافیوں کو ”بخش دینے“ والا رویہ ماحول میں تھوڑا توازن لاسکتا ہے۔
ریاستی اداروں کے مابین توازن کے ضمن میں اگرچہ میرا وہمی ذہن روشن امکانات نہیں دیکھ رہا۔ مجھے خدشہ ہے کہ شاید نئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اپنے اقتدار کے ابتدائی دنوں ہی میں PEMRAکے کھانے والے دانتوں کو سختی سے استعمال کرنے پر مجبور ہوجائیں گے اور ان کا یہ اقدام حتمی Showdownکی طرف بھی لے جاسکتا ہے۔
٭٭٭٭٭

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!