کیا یہ ریلی نئے وزیراعظم کا راستہ ہموار کر رہی ہے؟ - اختر عباس

کبھی کوئی سب ایڈیٹر کر دیتا تھا تو پورا دن نکو بنا رہتا، جو کوئی رپورٹر اس کی وجہ بنتا تو اس پر نگاہ رکھی جاتی، کسی بندے کی تصویر پریس ریلیز کے ساتھ چھپ جاتی تو باقاعدہ مذاق اڑایا جاتا، سب کو غیبی طور پر یقین ہوتا کہ بندے نے پانچ سو روپے پکڑے ہیں۔پروگرام،جلسے جلوس میں دوسرے تیسرے درجے کے لیڈر کی تصویر نمایاں ہوتی تو نیوز ایڈیٹر بھی باخبر ہوتا کہ اب کے سب ایڈیٹر نے نہیں کیمرہ مین نے پیسے پکڑے ہیں۔ ایک کالمی حد دو کالمی بھی نیوز ایڈیٹر کی اجازت سے ہی ممکن ہوتی یا شعبہ اشتہارات والے اصرا ر کرتے کہ ہمارا کلائنٹ ہے ابلائج کرنا ہے تو ایسی خود ساختہ خبر جگہ پاتی۔ایڈیٹر نیوز ایڈیٹر یہاں تک کہ چیف ایڈیٹر بھی کچھ کہے بنا بہت کچھ کہہ دیتے، پھر کئی روز چین رہتا یہاں تک کہ کوئی بے چین سیاسی عزائم رکھنے والی روح تعلقات کے استعمال کا ڈول ڈال دیتی اور اپنی خبر لگوا لیتی ۔

یہ 2002ء تک کی بات ہے، پھر کہانی بدل گئی، کردار بدل گئے۔ ٹی وی چینلز نے 2014ء تک آتے آتے پوری روایت، تہذیب اور ترتیب ہی بدل ڈالی۔ اب پرائم ٹا ئم میں ایک ایک پروگرام شروع ہوا جو سیاسی حالات حاضرہ پر ہوتا تھا۔ ابھی لائیو کا رواج عام نہیں تھا۔ یونیورسٹی سے پڑھے ہوئے لڑکے جو نہ نیوز میں رہے تھے، نہ میگزین نے ان کی تربیت کی تھی، خوش شکل تھے اور کہیں کہیں خوش فکر بھی، پروڈیوسر بنے۔ انہی کی عمر کا اینکر سامنے سکرین پر نظر آنے لگا۔ کچھ پروگراموں کی پروڈکشن کا میں خود گواہ ہوں۔ اینکر صاحبہ میک اپ کروا کر آئیں،اخبارات کی فائل، بات کرنے کے لیے خبریں ڈھونڈیں،نہ کسی پر تحقیق کی نہ جستجو،نہ فالو اپ، نہ یہ خبر کہ تردید ہو چکی ہے، نہ یہ علم ہوتا کہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔ اسسٹنٹ پروڈیو سر اپنے پاس موجود نمبروں اور اپنی عمر کے لحاظ سے شناسائی والے ان سیاسی لیڈروں کو ٹیلی فون لائن پر لیتے جنہیں کبھی سنگل کالم میں جگہ نہ ملتی تھی، اب ان کے ساتھ گفتگو سے پروگرام مکمل ہو جاتا۔ یہ سارے پروگرام ریکارڈڈ ہوتے، پھر کوئی کوئی لائیو ہونے لگا، اس میں بھی دس سیکنڈ کا مارجن ہوتا۔ پروڈیوسر متوجہ ہوتا اور اینکر محتاط تاکہ کوئی غیر معیاری جملہ روکا جا سکے۔

پھر وہ زمانہ آگیا جس کو ہم اور آپ مسلسل د یکھ اور بھگت رہے ہیں۔ تبصرہ نگار، تبصرہ نگار نہ رہے بلکہ کسی نہ کسی پارٹی کے میمنہ، میسرہ یہاں تک کہ ہراول دستے بن گئے۔ایک ساتھ کئی کئی ماہرین آنے لگے، کہیں چینل کی کہیں پروڈیوسر کی اور کہیں اینکر کی لائن لی جانے لگی کہ اس سے ریٹنگ آئے گی، وہ جس جس کو بلائے گا، بیپر پر لے گا، ٹیلی فون پر بات کرے گا یا ریکارڈنگ کا حصہ بنائے گا، وہ اگر چند برس قبل ایک پریس ریلیز اخبار کو بھیجتا تو وہاں کوئی نو آموز سب ایڈ یٹر بھی اسے اٹھا کر ردّی کی ٹوکری میں پھینک دیتا مگر الیکٹرونک میڈیا نے بد لحاظ، زبان درازمہمانوں کی چاندی کرا دی۔ یہاں تک کہ ازکار رفتہ صحافتی کارکنوں نے بھی یہی وتیرہ اختیار کر لیا اور انہیں لگنے لگا کہ جو وہ بولتے ہیں وہ قول فیصل ہے، اس کے بعد کسی کی جرات اورمجال کیونکر ہو سکتی ہے؟ ان کی یہ غلط فہمی دھیرے دھیرے عادت میں بدل گئی،یہاں تک کہ 2017ء آگیا۔ایک مقبول سیاسی پارٹی نے ہر اس شخص کو اپنا ترجمان بنانا شروع کردیا جو دوسرے سے زیادہ بد تمیزی اور بد تہذیبی کر سکتا تھا۔ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا۔ اب عالم یہ ہے کہ نیا نیا شامل ہونے والا چوتھا بھی ترجمان بنا اپنی الیکٹرونک پریس ریلیز لئے کالی عینک لگا کر خود سے ہی اسمبلیاں توڑنے اور اپنی مخالف سیاسی جماعت کو کالعدم کرانے اور اپنی پارٹی سے 180 ڈگری برعکس بیان دینے لگ گیا ہے چونکہ چینل پر چل جاتا ہے، پارٹی بھی خاموش ہے یہ جانے بنا کہ ان جملوں لفظوں سے اسے 'کولیٹرل ڈیمج' کس قدر ہو رہا ہے۔ اس نقصان سے بے خبر دوسری پارٹی نے بھی چن کر ایسے ہیرے موتی نکالے جن کی زبان عام زبانوں سے دو ڈھائی گنازیادہ دراز تھی، ان میں کوئی تو اپنی زبان دانی اور 'لاؤڈ ایکسپریشن' کے ساتھ جملہ کہہ کریوں زیر لب مسکراتا جیسے سلطان راہی کسی مرے ہوئے دشمن کی لاش پر پاؤں رکھ کر دھاڑتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   تحریک انصاف حکومت کا پہلا سال۔چند سوال ، جواب - محمد عامر خاکوانی

ماہرین کے نام پر پروان چڑھی اس مخلوق میں سابق صحافی، سابق بیوروکریٹ،سابق سیاست دان، سابق دفاعی کا رکن، رائے کے نام پر تلوار بازی کرنے والے سیاسی کارندے سبھی شامل ہوتے گئے۔انہیں ایک ہی گُر آتا تھا، 'پاپولر سینٹی منٹ' کے ساتھ چلنا اور اس کے پردے میں کھیلنا۔ انہوں نے عوام سے زیادہ اداروں کو متاثر کیا۔ ان کے تاثرات عدالتوں تک گئے اور وہاں ان کی زبان، لہجے اور جملے دلائل کے طور پر جمع ہونے لگے۔ وہ عدالتیں جو بے تحقیق آرٹیکلز اور کتابوں کو پکوڑے بیچنے والی ردی سمجھتی تھیں، وہیں پر اس لب و لہجہ نے جگہ پالی اور ان کے دلائل نے بھی،آج عالم یہ ہے کوئی چینل لگا لیں، بولنے والا نیوز کاسٹر نہ ہو تو اگلے ہی لمحے آپ اس کے بے نیام الفاظ اور دلائل کی کاٹ سے اس کی پارٹی اور بنیاد کو سمجھ لیں گے۔ ان کی زبان کو کوئی اینکر، کوئی پروڈیوسر نہیں روک سکتا کیونکہ اب تو گاہے یہ میزبان پر بھی بھاری پڑنے لگے ہیں۔ اس سے زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ محبت، تمیز، تہذیب اورسماجی طور پر سلجھے لوگ بھی اپنے تبصروں میں اتنے ہی لاؤڈ ہو گئے ہیں کہ کسی جگہ چار منٹ سیاست پر سلیقے سے بات کرنے کی گنجائش ہی ختم ہو گئی ہے۔

آپ کی طرح میں بھی جانتا ہوں کہ زبانوں پر اب یہ بند نہیں باندھا جا سکے گا۔ بات، اصول اور دلیل سے نکل کر کاٹ، آزار اور زخم دینے تک پہنچ گئی ہے۔ نااہلی کے عدالتی فیصلے کے بعدا یسے سبھی تبصرہ نگارتوقع کررہے تھے کہ نواز شریف اور مسلم لیگ دونوں ڈھے جا ئیں گے۔حد یہ ہے کہ کل ایک چینل کے نیوز ایڈیٹر نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد انہیں منہ چھپا کر کہیں بیٹھ جانا چاہیے، یہ ریلی نکال رہے ہیں۔ وہ گھنٹوں خالی سڑکیں دکھاتے رہے یہاں تک کہ شام کو جب کوئی سڑک خالی نہ رہی تو وہ ایسے الزامات پر آگئے کہ لکھنا بھی مناسب نہیں۔ کچھ چینلز پر غصہ ور اینکر اور تجزیہ نگار پوچھتے رہے حتیٰ کہ کائرہ صاحب بھی پریس کانفرنس کر کے ان کی مدد کو آئے کہ یہ احتجاج کس کے خلاف ہے۔ وہ سب اپنے جس ہدف کے ادھ موا ہونے کی امید لگائے بیٹھے تھے،پہلے تو وہ اور اس کی پارٹی ٹوٹی نہیں، الٹا وہ اٹھ کر کھڑا ہی نہیں ہوا پورے لاؤ لشکر میں ڈھل گیا۔ نواز شریف اب ڈس کوالیفائیڈ آدمی نہیں رہا ایک ایسا سیاسی برانڈ بن گیا ہے کہ آنے والے کئی الیکشن اسی کے گرد گھومیں گے۔ اس پر دس کیا بیس ریفرنس بھی آئے تب بھی وہ بادشاہ گر رہے گا۔ سیاسی موسموں کو بھانپنے والے سبھی پرندے اس کے ساتھ کھڑے ہیں کوئی ایک پرندہ اڑ کر نہیں گیا جو دوسرے گھونسلوں سے آئے تھے۔ یہ سفر جہاں کچھ لوگوں کے لیے خوشگوار ثابت و رہا ہے وہاں کچھ پر بھاری بھی پڑتا نظر آرہا ہے، مگر ایک دو دن میں اس پر کوئی حتمی رائے دینا مناسب نہ ہو گا ہاں جو بات ان ناراض اینکرز اور تجزیہ نگاروں کو ٹھنڈے سٹوڈیوز میں بیٹھے نظر نہیں آرہی وہ ان کے گرمی اور حبس میں رپورٹنگ کرتی ٹیم کو بہرحال سمجھ آرہی ہے اور وہ صرف اتنی ہے کہ 'پاپولرسینٹی منٹس' کا اثر آپ چاہیں نہ چاہیں عدلیہ پر ہی نہیں دوسروں اداروں پر پڑتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیاآنے والے دنوں میں 'پاور بروکرز' کے ساتھ معاملہ کرنے کا توازن بدل رہا ہے اور پلڑا واقعی نواز شریف کی طرف جھکتا نظر آنے لگا ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   لبرلز کی خوشنودی کے لیے عمران، نواز ایک ہو گئے - انصار عباسی

یہ بات ان کو بھی سمجھ آرہی ہے جن کے لیے یہ جلوس اور ریلی سوچی اور ڈیزائن کی گئی ہے، کیونکہ 'پاپولر سینٹی منٹس' کی مدد سے ساری کوشش پلڑا جھکانے کے لیے تھی۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس ریلی کے مکمل ہونے سے پہلے اقتدار کے پوشیدہ کوریڈورز اور غلام گردشوں میں تیز ہوتی چہل پہل کیا رنگ لائے گی۔ یہ بہرحال طے ہے کہ ان کی حیرت نہیں جارہی کہ مسلم لیگ کا ووٹر سڑک پر کیسے آگیا؟ پاور بروکرز کے ساتھ معاملات کے لیے میاں کا پلڑا گوجرانوالہ پہنچنے سے پہلے اسی طرح غیر متوقع طور پر جھک رہا ہے جس طرح ججوں کی بحالی کے لیے گوجرانوالہ پہنچنے تک جھکا تھا،کیا اس بار بھی کسی کا فون آئے گا اور معاملات کی ترتیب کسی نئے وزیر اعظم کے نام سے بدل جائے گی؟ ذرا غور کیجیے ان سب متاثرین کی جن کی کبھی پریس ریلیزیں شائع نہیں ہوا کرتی تھیں، آج بطور ماہرین چیخ و پکار لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہی ہے اور گالیاں بھی کیونکہ وہ بھی جان گئے ہیں کہ اس ریلی کے بعد ترتیب بدلنے جا رہی ہے۔

Comments

اختر عباس

اختر عباس

اختر عباس مصنف، افسانہ نگار اور تربیت کار ہیں۔ پھول میگزین، قومی ڈائجسٹ اور اردو ڈائجسٹ کے ایڈیٹر رہے۔ نئی نسل کے لیے 25 کتابوں کے مصنف اور ممتاز تربیتی ادارے ہائی پوٹینشل آئیڈیاز کے سربراہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.