شعور کی جنگ اور حقیقی آزادی - بلال شوکت آزاد

قانون کرپشن کی باندی ہے، انصاف صرف نظر کا فریب اور میٹھا دھوکا ہے۔ جس ملک میں چور کو حکومتِ وقت دوام بخشے اور حکومتی مشینری کو چور کا ذاتی ملازم بنا دے، وہاں شعور و تعلیم کے بغیر کسی بھی طریقے سے، کسی بھی نعرے سے،کسی بھی قیادت سے انقلاب نہیں آ سکتا۔ تبدیلی کا اصل مرکز و منبع ملک کی ظاہری ترقی نہیں بلکہ تعلیم اور اس کا شعور ہے۔

عوام تعلیم یافتہ نہ ہوں مگر باشعور ہوں تو بھی قوم ترقی کی حقیقی منازل طے کرتی ہے لیکن اگر قوم تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود شعور نہ رکھے تو اسے زوال اور تنزلی کی دلدل میں اترنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اصل انقلاب مال و دولت کی فراوانی نہیں بلکہ معاملات کا درست وقت اور جگہ پر درست لوگوں کے ہاتھوں میں ہونا ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان میں قانون ہی کرپشن کا پشتیبان ہے۔ یہ قانون اور انصاف کا لالی پاپ عوام کے منہ میں دے کر خود ہی کرپشن کی اعلیٰ ترین مثال قائم کرتے ہیں۔ نواز شریف، آصف علی زرداری اور عمران خان کا موازنہ ان کی تقریروں اور بیانوں سے کرنے والے گھامڑ افراد نے ہی اس ذہین قوم کی عقل گھٹنوں میں پہنچا دی ہے۔

ہم سب قانون کی نظر میں مجرم ہیں، بس کوئي ہلکی سے غلطی سرزد ہونے کی دیر ہے اور یہ 'کرپشن کی کنیز' ہمارا قانون چند ثانیوں میں ہمیں اسی دنیا میں جہنم کے نظارے کروا دے گا۔ دوستو! سیاست اور جمہوریت کا منجن بیچ کر دانشور مت بنو، یہ وطن عزیز میں کرپشن کی سیڑھیاں ہیں اور یہی قانون ان کی باندی کا کردار ادا کرتا ہے۔ مکڑی کے اس جالے میں ہم سب وہ حشرات ہیں جو خوشی خوشی پھنس جاتے ہیں اور ان کی خوراک بن جاتے ہیں۔

انصاف اور قانون سے بڑا دھوکا اور فریب اس ملک میں نہیں دیا گیا اور یہ دھوکا عرف عام میں کہلاتا ہے جمہوریت اور آپ یہ جملہ بھی مت بھولیں کہ "جمہوریت بہترین انتقام ہے" اور اس انتقام کی پہلی ضرب پڑتی ہے عوام پر۔ یہاں آزادی کو سلب کرنا ہی جمہوریت ہے، جو یہاں تقسیم کرتی ہے، آزاد نہیں کرتی، یہاں بندش اور پابندی کی امین ہے، یہی قوم پرستی، لسانیت، فرقہ پرستی، دہشت گردی، غربت، ناخواندگی، دھوکا دہی اور کرپشن کی ماں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   زندہ قومیں - سعدیہ رضوی

ہمیں جمہوریت کی نہیں شعور کی ضرورت ہے، شعور ہی انقلاب کا آغاز ہوگا۔ قانون کو آزادی نصیب نہیں ہوگی جب تک جمہور کی حکومت ہوگی، اس لیے نظام کی جنگ لڑنے سے پہلے شعور کی جنگ لڑو کیونکہ یہی روشن راہ ہے۔ یہی قانون کی بالادستی اور انصاف کی سیڑھی ہے۔ شعور نہیں تو خواندگی نہیں اور خواندگی نہیں تو قانون نہیں اور قانون نہیں تو انصاف کیسا؟

ایمان، اتحاد اور تنظیم ہی شعور ہے اور یہی وہ نظام ہے جس کی خواہش قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کی صورت میں ظاہر کی لیکن افسوس اس عظیم ہستی کی خواہش کی تکمیل کی راہ میں موت آڑے آ گئی۔

آج 70 سال کا ملک اور اس کے مسکین عوام شعور کی تلاش میں ہیں لیکن موقع پرست مبینہ جمہور نواز اپنی تسکین طبع اور ناجائز مفادات کی خاطر اس ملک اور اس کے عوام کو اندھیرے میں رکھ کر اپنی تجوریاں بھر رہے ہیں۔

اس لیے جاگو! اپنے شعور کی جنگ لڑو، کیونکہ شعور کی جنگ کا نتیجہ ہی نظام اور نظام کی بالادستی ہی حقیقی آزادی ہے۔