وطن نے کیا دیا؟ - حیا حریم

ایک خاموش سناٹا تھا، سڑک برف سے ڈھکی ہوئی تھی، سفید چادر اوڑھے خاموش و ساکت کھڑے درختوں کے درمیان جو شاید اس کی حالت پر ماتم کر رہے تھے۔ وہ لانگ شوز پہنے، لمبے کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے سر جھکائے چلا جا رہا تھا۔ کبھی ہوا کا کوئی سرد جھونکا آتا تو اس کے منہ سے آہ نکل جاتی۔ 15 سال بیت چکے، یہاں کیا کھویا، کیا پایا، اس نے کبھی غور ہی نہ کیا تھا۔ برف میں بھاری قدم اٹھاتے اٹھاتے اس کے ذہن میں ایک منظر ابھرا۔ لکڑی کی گول میز پر چھوٹی چھوٹی موم بتیاں، جام سے لبریز گلاس، میزبان کے درمیان بڑا سا پھولوں کا گلدستہ اور اس زرد ماحول میں میز کے اردگرد ہر طرح کے لوگ۔ اس قسم کی تقریبات اکثر ہوا کرتی تھیں لیکن اس وجہ کچھ خاص تھی، آج سوئٹزرلینڈ کا قومی دن تھا۔ سوئس باشندوں کے درمیان بیٹھا وہ واحد پاکستانی تھا۔ اسے کبھی احساس ہی نہیں ہوا کہ وہ پاکستانی ہے کیونکہ اسے پاکستان سے نفرت تھی۔ وہ سوچتا تھا کہ آخر پاکستان نے مجھے دیا ہی کیا ہے جو میں اس سے محبت کروں؟ لیکن آج جب مسٹر جوزگ نے اس سے پوچھا کہ "مسٹر حاشر! تم نے اپنے وطن کو کیا دیا ہے؟" تو اس کے چہرے پر ایک رنگ آ کر ابھرا اور گزر گیا۔

مسٹر جوزگ کی آواز میں استہزا تھا، تمسخر تھا، طنز تھا یا پھر یہ ایک معمولی سا سوال تھا؟ وہ سمجھ ہی نہیں پایا۔ البتہ اسے ایک تھپڑ ضرور محسوس ہوا، زناٹے دار تھپڑ جو اپنی اساس اور اثاثے کی ناقدری کی وجہ سے بہت زور سے پڑا تھا۔


برف میں دھنسی کار کے ٹائروں کی آواز پر اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔ کچھ دور درختوں کے نیچے ایک گاڑی کھڑی تھی جس کے ٹائر برف میں دھنس چکے تھے۔ گاڑی کا سفید فام مالک اسے نکالنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ٹائروں پر جمی اس کی نگاہوں میں ایک اور منظر تحلیل ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:   جدید مغربی سوچ کاا سمِ اعظم، آزادی! - وقاص احمد

ایک کمزور سا آدمی، میلے کچیلے کپڑے پہنے، ایک ہاتھ ٹھیلا سنبھالنے کی تگ و دو کرتا اور دوسرے سے پیشانی پر چمکتا پسینہ صاف کرتا ہوا۔ اس کے ٹھیلے کے ٹائر کیچڑ میں دھنس چکے تھے۔ وہ اپنے ہاتھوں سے اسے گھسیٹنے اور نکالنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس وقت پہلی بار اس کے منہ سے نکلا تھا "کیا دیا ہے اس ملک نے مجھے؟"

ایک آواز کے ساتھ ہی وہ چونک اٹھا۔ گاڑی کے ٹائر برف سے نکل چکے تھے اور وہ اب برف کی جمی ہوئی تہہ پر کھڑی تھی۔ سفید فام مالک کی خوشی دیدنی تھی۔ اس نے گاڑی کو اسٹارٹ کیا اور وہ فراٹے بھرتی ہوئی دوڑنے لگی۔ وہ برف پر پڑنے والے ٹائروں کے نشانات کو دیکھتا جا رہا تھا اور اس کی آنکھوں کی پتلیاں سکڑیں اور ذہن میں ایک جھماکا سا ہوا۔

علاقے میں بجلی بند تھی اور محلے کے تمام لڑکوں نے احتجاج کی ٹھانی۔ وہ سڑک پر کھڑے مظاہرہ کر رہے تھے۔ گھنٹوں تک وہ ایسے ہی گھومتے رہے، جہاں جاتے دکانیں بند کرواتے، نہ ماننے والوں کو زدوکوب کرتے۔ اشتعال بڑھتا جا رہا تھا اور اس دوران اس نے بھی کئی گاڑیوں کے شیشے توڑے۔ پھر اس کے سامنے وہی کمزور آدمی آیا جو کہہ رہا تھا کہ "بیٹا! اپنے ہی ملک کو یوں نقصان پہنچانا بری بات ہے۔" "مجھے اس ملک نے دیا ہی کیا ہے؟" وہ غرایا۔ وہ خاموش ہوگیا، شاید اس کے پاس بھی اس سوال کا جواب نہ تھا۔


سخت سردی میں وہ پیدل چلا جا رہا تھا۔ کتنا چل چکا تھا وہ اپنی زندگی میں؟ اس نے کبھی قدم نہیں گنے تھے لیکن آج ایک، ایک قدم کا حساب کر رہا تھا۔ جیسے ہر قدم اس سے اپنا حساب مانگ رہا ہو۔

وہ کڑیل طاقت ور تھا، جب کندھے پر بیگ لٹکائے اس نے اس کمزور آدمی کو اپنے یورپ جانے کی اطلاع دی تو نم آنکھوں کے ساتھ اس نے صرف اتنا کہا تھا "یاد رکھنا، تم لوٹ کر یہیں آؤ گے۔"

یہ بھی پڑھیں:   پرویز مشرف کیخلاف خاموشی پر کیا پیشکش ہوئی؟ حامد میر کا خصوصی انٹرویو (2)

تب وہ زور سے ہنسا تھا، "پاگل ہوں میں جو یہاں لوٹ کر آؤں گا؟ اس وطن نے مجھے دیا ہی کیا ہے آخر؟" اس نے پھر وہی کہا جس پر وہ شخص خاموش ہوگیا۔


قبرستان میں داخل ہوتے ہی وہ دیوانہ وار ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔ اسے وہ کونا آج بھی یاد تھا جہاں وہ کمزور آدمی دعا مانگا کرتا تھا۔ ہاں، وہی کمزور آدمی جو اسے بتاتا تھا کہ یہ اس کے دادا کی قبر ہے۔ وہ اسی کونے میں جا پہنچا۔ اس قبر کے ساتھ آج ایک اور قبر کا اضافہ ہو چکا تھا۔ قبر کی مٹی سے اٹھنے والی خوشبو مانوس سی تھی، یہ اسی کمزور آدمی کی قبر تھی۔ وہ گھٹنوں کے بل جھکا اور جھکتا ہی چلا گیا۔

"بابا! میں واپس آ گیا ہوں!" وہ زار و قطار رو رہا تھا۔

پھر فضا میں اللہ اکبر کی آواز گونچی۔ اذان کی آواز ماحول پر چھائی تو وہ سسکا۔ 15 سال بعد اس نے اذان کی آواز سنی تھی۔ اسے جواب مل گیا تھا کہ وطن نے اسے کیا دیا؟ اس وطن نے جہاں شناخت دی، وہیں کلمہ بھی دیا اور وہ مسلمان کہلایا۔ اس کی آنکھوں سے نکلنے والے آنسو باپ کی قبر کی مٹی کو بھیگ رہے تھے، وہی مٹی جو اس کے وطن کی مٹی تھی۔