خشک مچھیلوں کی مانگ آج بھی - ظریف بلوچ

مچھیروں کی قدیم بستی پسنی کے باسیوں کا مرکز و محور آج بھی سمندر ہی ہے۔ ماہی گیری زمانے سے یہاں کے لوگوں کا بنیادی پیشہ ہے جس میں مچھلیوں کو صاف کرکے انہیں نمک لگانے پر خشک کرنے کا کام بھی عرصے سے کیا جا رہا ہے۔ آجکل تو اسے پیک کرکے بیرون ملک برآمد بھی کیا جاتا ہے۔

ماضی میں چونکہ کولڈ اسٹوریج نہیں ہوتے اس لیے شکار کی گئی مچھلیوں کی بڑی مقدار خراب ہوکر ضائع ہو جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اسے خشک کرکے محفوظ کرنا ہی واحد ذریعہ تھا۔ اب تو یہ عمل سمندر میں ہی شروع ہو جاتا ہے جہاں نمک لگا کر مچھلیوں کو خشک کرکے کشتیوں میں ہی اسٹور کرلیا جاتا ہے ۔

مچھلیوں کو خشک کرنے کی درجن بھر تکنیک ہیں لیکن ماہرین کے لیے سالٹنگ کی تکنیک سب سے موثر اور پائیدار ہے۔ مرین بایولوجسٹ فشریز اسد اللہ کہتے ہیں کہ سالٹنگ سے مچھلیوں کے گلپھڑوں میں موجود بیکٹیریا ختم ہو جاتے ہیں اور یہ نمکین مچھلیاں کئی ہفتوں تک قابل استعمال رہتی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ سالٹنگ کے عمل سے پہلے مچھلیوں کو کاٹ کر ان کی صفائی کی جاتی ہے، پھر ان میں نمک بھرا جاتا ہے اور انہیں فریز کردیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق نمکین مچھلی آج بھی لوگ بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔

ماضی میں مچھلیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے 'بکار' بھی بنائے گئے تھے جہاں یہ تمام پروسس مقامی کاریگر کرتے تھے اور ان کو کام کے حساب سے معاوضہ ملتا تھا۔ سینکڑوں کی تعداد میں مزدور اس کام سے منسلک تھے، جن میں سے ایک نے ہمیں بتایا کہ آج بھی خشک اور نمکین مچھلیوں کی علاقے میں ڈیمانڈ ہے۔ دور دراز کے لوگ اب بھی خشک اور نمکین مچھلیوں پر انحصار کرتے ہیں۔ البتہ بین الاقوامی مارکیٹ میں خشک مچھلیوں کی مانگ نہ ہونے کی وجہ سے 'بکار' تو بند ہو چکے ہیں البتہ علاقائی ضروریات پوری کرنے کے لیے مچھلیوں کو سالٹنگ کے ذریعے خشک کرنے کا کام جاری ہے۔

لیکن اب ملک اور بین الاقوامی سطح پر تازہ اور جمی ہوئی مچھلیوں کی مانگ میں اضافے کے بعد خشک مچھلی کی طلب میں کمی کو دیکھتے ہوئے مقامی سرمایہ کاروں نے کولڈ اسٹوریج کی طرف دھیان دیا ہے جس سے ایک طرف لوگوں کو روزگار فراہم ہوا ہے تو دوسری جانب انٹرنیشنل مارکیٹ کی ڈیمانڈ بھی پوری ہو رہی ہے۔

پسنی سمیت ساحل مکران کے دیگر علاقوں میں خشک مچھلی کی مانگ میں کمی ہونے کے باوجود یہ عمل آج بھی جاری ہے۔ پسنی، سربندر اور گڈانی کے ساحل پر کھلے میدانوں میں مچھلیوں کو اس عمل سے گزارا جاتا ہے۔ چکن فیڈ تیار کرنے کے لیے بھی مچھلیوں کو دھوپ میں خشک کیا جاتا ہے اور پھر انہیں ٹکڑے کرکے مرغیوں کی خوراک کے لیے تیار کیا جاتا ہے جو ان کی نشوونما کے لیے بہت مفید ہے۔

سالٹنگ کے عمل کے بعد مچھلی کو کراچی سے ساحل مکران کے دیگر علاقوں تک فروخت کیا جاتا ہے۔ زیادہ تر ان علاقوں کے لوگ یہ مچھلیاں بڑی تعداد میں خریدتے ہیں کیونکہ یہ خشک مچھلی کئی ہفتوں تک خراب نہیں ہوتی اور اس پسماندہ علاقے میں بجلی کا نظام اور آلات بھی ویسے موجود نہیں ہیں۔ پسنی فش مارکیٹ میں مچھلیاں فروخت کرنے والے عبد الغفور کا کہنا ہے کہ گرمیوں کے موسم میں مچھلی خراب ہونے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے اس لیے خسارے سے بچنے کے لیے ہم مچھلیوں کو کاٹ کر نمک لگا کر خشک کر لیتے ہیں۔ پھر خشک مچھلی کی قیمت تازہ اور جمی ہوئی مچھلی سے بہت کم بھی ہوتی ہے اس لیے دیہی علاقوں کے لوگوں میں اس کی طلب زیادہ ہوتی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com