متعفن سیاسی اور معاشرے پر اثرات - عبد الباسط بلوچ

سیاست اور سیاست دان ہر دور میں ناقابل اعتبار رہے ہیں اور یہ ایک بڑا المیہ ہے۔ اس میں آتے تو بڑے بڑے دعووں سے ہیں لیکن جاتے پھر عوام کی بددعاؤں سے ہیں۔ جو سیاست میں آئے اچھی پہچان اور نام سے جاتا سکینڈلز اور عوامی نفرت سے ہے۔

عجب ہی شعبہ ہے جس میں کوئی جتنا بدمزاج اور بدتمیز ہو، اسے اتنا ہی پسند کیا جاتا ہے۔ جو جتنا غلیظ، عیاش،، بد مزاج اور بدتمیز ہو اسے اتنا بڑا اور کامیاب سیاست دان تصور کیا جاتا ہے۔ جس کی زبان لمبی ہو، وہ اتنا بڑا پارٹی ترجمان۔ یہ بدمزاجی آہستہ آہستہ معاشرے میں سرایت کر رہی ہے۔

یہ بیڈ روم کو سیاست کے ایوانوں میں گھسیٹ کر لانا کوئي آج کی بات نہیں۔ ہو سکتا ہے بظاہر اس طرح مخالف کو نیچا دکھانے میں کامیاب بھی ہو جائیں، لیکن عزت کو تار تار کرکے جو بہت بڑی قومی "خدمت" انجام دی جاتی ہے، یہ بھول جاتے ہیں کہ یہی خیال وعام میں سرایت کرے گا اور سارا معاشرہ بے حسی و بے شرمی کا گڑھ بن جائے گا۔

آجکل جو زبان سیاست دان استعمال کر رہے ہیں، وہ کسی مہذب معاشرے میں برداشت نہیں کی جا سکتی۔ اس کی کئی وجوہات ہیں، جہاں سیاست میں دیانت، خدمت اور شرافت نہ ہو، جہاں عام آدمی سیاست دانوں کا شاہانہ طرز زندگی دیکھے تو ان کے لیے وہی الفاظ استعمال کرے گا۔

بہرحال، سیاست ایک ایسا شعبہ ہے جس کے عوام پر براہ راست اثرات مرتب ہوتے ہیں اس لیے 'اوئے' کہنے سے پہلے سوچ لیں کہ نجانے کتنے 'اوئے' آپ کے بھی منتظر ہوں گے۔ سیاست بھی اسی قوم کا ادارہ ہے، اس کی زبان انداز اور سوچ پوری قوم کی آواز ہوتی ہے اس لیے ہر حال میں خیال رکھنا چاہیے۔ الزامات اور تحقیر آمیز کلمات کے ذریعے کسی کو نیچا نہیں دکھا سکتے۔ اگر ہم کرپشن سے پاک معاشرے کی تشکیل میں سنجیدہ ہیں تو اپنی مالی، اخلاقی و زبانی کرپشن سے بھی ہمیں پاک ہونا ہوگا، ورنہ یہ سیاسی غلاظت عداوت کا عملی نمونہ بن جائے گی۔ خدارا! اپنا نہیں تو عوام اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا ہی خیال کر لیں۔

Comments

عبدالباسط بلوچ

عبد الباسط بلوچ

شعبہ صحافت سے خاص محبت رکھنے والے۔ ایم ایس سی کیمونیکیشن اسٹڈیز، ایم فل اسلامک سٹڈیز اور اب پی ایچ ڈی جاری

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */