بھینس نر یا مادہ کی قربانی جائز ہے - مفتی منیب الرحمٰن

فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق قربانی کے جانوروں کی چار اقسام ہیں: دنبہ، بکرا، اونٹ اورگائے (اِن کی جس قدر اقسام ہیں، سب اِن میں) داخل ہیں۔

نر، مادہ، خصی اور غیر خصی سب کا ایک ہی حکم ہے، بھینس گائے میں شمار ہے، اس کی بھی قربانی ہوسکتی ہے۔

علامہ حسن بن منصور اوزجندی لکھتے ہیں :

اَلْاُضْحِیَّۃُ تَجُوْزُ مِنْ أَرْبَعٍ مِنَ الْحَیَوَانِ : اَلضَّانِ وَالْمَعْزِ وَالْبَقَرِ، وَالْاِبِلِ ذُکُوْرُھَا وَاِنَاثُھَا وَکَذٰلِکَ الْجَامُوْسُ لِاَنَّہٗ نَوْعٌ مِّنَ الْبَقَرِ الْاَہْلِیِّ، وَلَایَجُوْزُ الْبَقَرُ الْوَحِشِّیُ

ترجمہ:" چارقسم کے جانوروں کی قربانی جائز ہے :دنبہ، بکرا، گائے، اونٹ، نر اور مادہ (سب کا ایک حکم ہے ) اور اسی طرح بھینس (نر ومادہ) کی قربانی بھی جائز ہے کیونکہ وہ پالتو گائے کی قسم میں سے ہے، وحشی(نیل) گائے کی قربانی جائز نہیں ہے" (فتاویٰ قاضی خان علی ہامش ہندیہ، جلد3،ص:348)

ڈاکٹر وھبہ الزحیلی لکھتے ہیں:

’’اِتَّفَقَ الْعُلَمَاءُ عَلیٰ اَنَّ الْاُضْحِیَّۃَ لَاتَصِحُّ اِلاَّ مِنْ نَعَمٍ أِبِلٍ وَبَقَرٍ (وَمِنْھَا الْجَامُوْسُ)وَغَنَمٌ (وَمِنْھَا الْمَعْزُ)بِسَآئِرِ اَنْوَاعِھَا، فَیَشْمُلُ الذَّکَرَ وَالْاُنْثیٰ وَالْخَصِیَّ وَالْفَحْلَ فَلَایُجْزِءُ غَیْرُالنَّعَمِ مِنْ بَقَرِ الْوَحْشِیِّ وَغَیْرِہٖ، وَالظِّبَاءِ وَغَیْرِھَا لِقَوْلِہٖ تَعَالیٰ وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا لِّیَذْکُرُوْااسْمَ اﷲِ عَلیٰ مَارَزَقَھُمْ مِّنْم بَھِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ،(الحج:34)وَلَمْ یُنْقَلْ عَنْہُ ﷺ وَلَا عَنْ اَصْحَابِہٖ التَّضْحِیَّۃُ بِغَیْرِھَا،وَلِاَنَّ التَّضْحِیَۃَ عِبَادَۃٌ تَتَعَلَّقُ بِالْحَیْوَانِ فَتَخْتَصُّ بِالنَّعَمِ کَالزَّکَاۃِ‘‘۔

ترجمہ:’’ اس پر علماء کا اتفاق ہے کہ مویشیوں کے سوا(کسی اور جانور کی)قربانی جائز نہیں ہے(اور وہ یہ ہیں): اونٹ، گائے(اور بھینس بھی اسی میں شامل ہے)،بکری اپنی تمام اقسام کے ساتھ(یعنی دنبہ، بھیڑ وغیرہ )، تمام اقسام کے مذکر ومؤنث، خصی ونر(بھی اس میں شامل ہیں)، ان مویشیوں کے علاوہ نیل گائے اور ہرن وغیرہ کی قربانی جائز نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اور ہر امت کے لیے ہم نے ایک قربانی مقرر کی تاکہ اس کے دئیے ہوئے بے زبانوں چوپایوں پر (ذبح کے وقت)اللہ کا نام لیں،(الحج:34)۔ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب سے ان مویشیوں کے علاوہ اور جانوروں کی قربانی منقول نہیں ہے۔ اور چونکہ قربانی ایسی عبادت ہے جو حیوان سے متعلق ہے، جیسے زکوٰۃ (مال سے متعلق ہے)۔ (الفقہ الاسلامی وادّلتہٗ، جلد:04، ص:2719-20)‘‘۔

Comments

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن، چیئرمین مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان، صدر تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان، سیکرٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان، مہتمم دارالعلوم نعیمیہ اہلسنت پاکستان

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!