کیا لوگ آپ کے لیے بھی ایسی قربانی دیں گے میاں صاحب؟ - خالد ایم خان

میں آج اپنے ایک لکھے گئے پرانے کالم کو آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں کیونکہ جن دنوں میاں صاحب کو عدالت نے نااہل قرار دیا تھا، اُس کے اگلے دن پنجاب کے کچھ علاقوں بالخصوص لاہور میں ترک بغاوت کی تصاویر کے حامل پمفلٹ دیواروں پر چسپاں کیے گئے اور لوگوں میں تقسیم بھی ہوئے۔ یوں عدلیہ اور ریاست کے دیگر ستونوں کے خلاف ایک تحریک پیدا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن میاں صاحب! عوام کے دلوں پر حکمرانی اور شہنشائیت میں بڑا فرق ہوتا ہے! آپ کے جانے سے نہ کوئی زلزلہ آیا اور نہ طوفان، بلکہ اس ملک میں لگے کروڑوں پیڑوں کا پتّا تک نہ ہلا۔ بہرحال، تحریر حاضر خدمت ہے :

کچھ عرصہ قبل ترک افواج کے چند دستوں نے بغاوت کرتے ہوئے پارلیمنٹ، آرمی ہیڈکوارٹر، ٹیلی وژن اسٹیشن اور دیگر اہم مقامات پر قبضہ جما لیا اور اہم جرنیل اور بڑے افسران کو یرغمال بنا کر اپنے تئیں بغاوت کو کامیاب بھی بنا لیا۔ بلاشبہ ترک حکومت کا تختہ الٹ چکا تھا اور اس کارروائی میں باغی دستوں کو بڑی طاقتوں کی آشیرباد بھی حاصل تھی۔ اس بغاوت کے بعد پورے ترکی میں صرف ایک شخص، یقین جانیں صرف ایک شخص حرکت میں آتا ہے، جو کسی نہ کسی طرح میڈیا کے ذریعے عوام تک پیغام پہنچاتا ہے کہ جاگو! گھروں سے نکلو اور باغیوں کے سامنے دیوار بن کر کھڑے ہو جاؤ! یہ آویز تھی رجب طیب اردوان کی اور پھر دنیا بھر نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ترکی کے لاکھوں عام لوگوں نے بغاوت کے اس بہتے دریا کے سامنے بند باندھا اور ایک تاریخ رقم کردی۔ ترک عوام نے وہ کر دکھایا جو کسی نے سوچا بھی نہ تھا، بھلا ملک کے طاقتور ترین ادارے فوج اور اس کے ٹینکوں، مشین گنوں اور خودکار ہتھیاروں کے سامنے کون ٹک پاتا ہے؟ لیکن ترکی کے عوام کسی چیز کو خاطر میں نہ لائے اور صرف ایک شخص کی خاطر باغی افواج کے سامنے ڈٹ گئے۔ اس کے لیے جس نے برسر اقتدار آتے ہی ترکوں کو کامیابیاں دیں، جس نے عوام کو یکجا گیا، گرتی ہوئی معیشت کے دنیا کی بہترین اقتصادی طاقتوں کے مقابل لا کھڑا کیا، جس نے امیر اور غریب کے لیے ایک قانون بنایا، جس کا دل نہ صرف ترکی بلکہ دنیا کے ہر مظلوم مسلمان کے لیے بھی دھڑکتا ہے، وہ جو صرف ترکی کا نہیں بلکہ اب پورے عالم اسلام کا رہنما ہے، اس کی کرشماتی شخصیت کا ہر مسلمان معترف ہے، وہ دولت پر حکمرانی نہیں کرتا، وہ عوام میں اپنی گردن اکڑا کر نہیں پھرتا، وہ غریبوں، بے سہاروں اور بے کسوں کا سہارا بننے کے جتن کرتا ہے، ہمارے رہنماؤں کی طرح 'غریب مکاؤ پروگرام' شروع نہیں کرتا، ترکی بلکہ عالم اسلام کے غم اور درد کو سمجھتا ہے، اپنے ذاتی اور خاندانی غموں میں دوبا نہیں رہتا۔ جواب میں عوام نے اس کی طرف سے پوری دنیا کی استعماری طاقتوں کو کھلا پیغام دیا کہ ترکی رجب طیب اردوان کی قیادت میں متحد ہے، اس لیے کسی بھی مہم جوئی سے باز رہا جائے۔

اب ذرا تقابل کریں، ایک طرف رجب طیب اردوان ہے ، جن کے لیے عوام توپوں کے سامنے کھڑی ہوگئی اور دوسری طرف ہمارے میاں برادران جو لندن میں عوام کے درمیان سڑکوں پر پیدل نظر آتے ہیں لیکن ملک کی طرف منہ ہوتے ہی شہنشاہ اعظم بن جاتے ہیں۔ اس کے باوجود بھی کیا وہ سوچتے ہیں کہ یہاں کے عوام اتنے بے وقوف ہیں کہ آپ کے لیے بھی ڈٹ جائے گی؟ سوچیں میاں صاحب کہ کیا فرق ہے آپ میں اور رجب طیب اردوان میں؟ اردوان کو پورا ترکی دیوانوں کی طرح چاہتا ہے جبکہ آپ 1988ء سے برسر اقتدار ہیں، کبھی صوبائی کبھی وفاقی سطح پر لیکن جب اکتوبر 1999ء میں آپ کا تختہ الٹا گیا، معزول ہوئے، گرفتار کرلیا گیا تو کتنے لوگ سیسہ پلائی دیوار بنے؟ اس وقت تو آپ کے پاس رجب طیب اردوان سے بھی بڑا مینڈیٹ تھا، دو تہائی سے بھی زیادہ اکثریت لائے تھے، کہاں کم ہوگئی تھی وہ اکثریت؟ آپ آج بھی خوشامدیوں کے اسی ٹولے میں گھرے نظر آتے ہیں۔ سوچیں کہ کیا یہ خوشامدی، یہ سعادت مند مرید جو صرف نوٹوں کے غلام ہیں، اور یہ وزیروں کی فوج کل کسی بھی برے دن میں آپ کے لیے قربانی دے گی؟

فرق صرف اتنا ہے کہ رجب طیب اردوان اپنے عوام سے بہت قریب ہے، اس کا چہیتا اور ہر دل عزیز ہے جبکہ آپ بہت دور نکل گئے ہیں اپنے عوام سے۔ آپ اور عوام کے درمیان ایک وسیع خلیج ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ رہنما نہیں بلکہ شہنشاہ بن گئے تھے اور شہنشاہوں کا کوئی دوست نہیں ہوتا، صرف دشمن ہوتے ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com