آزادی - حرا زرین

"سن کشور، وقت نہیں ہے میرے پاس، بڑی مصیبتوں سے آئی ہوں۔ ابّا کہہ رہا تھا کہ ہم گاؤں میں زیادہ سے زیادہ دو دن ٹھہر سکتے ہیں، پھر ہر حال میں یہاں سے نکلنا ہو گا۔ سب سامان باندھ رکھا ہے امّاں نے۔ اُدھر فرنگی نے اعلان کرنا ہے، اِدھر ابّا نے ہمیں لے کر نکل جانا ہے۔ اب دیکھ لے تو کیا کرنا ہے۔ میں دوبارہ نہیں آ سکوں گی اِدھر، جلدی بتا" بیلا آم کے باغ میں کھڑی کشور سے مخاطب تھی۔ کشور جو اس کے بچپن کا دوست تھا۔ اِسی باغ کے پیڑوں پر لٹکتے جھولتے نہ جانے کب کھیلنے کودنے کی عمر گزری، جذبات نے نیا رخ لیا اور اب آزادی کے اعلان سے جدائی کی تلوار دونوں کے سروں پر لٹک رہی تھی۔

" بیلا میں کیا کروں؟ تو بتا؟ حالات ٹھیک ہوتے تو اور بات تھی۔ ابّا کا تجھے پتہ ہے کتنا کٹّر ہے، اور امّاں؟ وہ تو پہلے ہی خوش ہے کہ تو جائے اور اُس چڑیل چمپا سے میرا بیاہ کر دے" کشور ٹہنی کے پتے نوچتا اِدھر اَدھر نظریں دوڑا رہا تھا کہ کوئی آ نہ جائے۔

"کشور، کشور تو ہمارے ساتھ چل پڑ، تو کہتا تھا نا کہ دھرم بدل لے گا۔ نئے ملک میں جا کر آزادی ہو گی۔ وہاں نہ تیرا باپ ہو گا اور نہ وہ چڑیل چمپا ہوگی" بیلا یہی حل سوچ کر آئی تھی۔

"نہ بیلا، پہلےکی بات اور تھی۔ حالات بہتر ہوتے تو میں سب سے ٹکر لے لیتا۔ اب بوڑھے ماں باپ کو کس آسرے پر چھوڑوں؟ اور تیرا باپ مجھے لے کر بھی نہیں جائے گا۔ سب کو معلوم ہے میں راج منشی کا بیٹا ہوں" کشور نے اضطراب سے ٹہنی توڑی۔

" ٹھیک ہے پھر، تو رہ اِدھر، میں چلی جاؤں گی دو دن میں، دوبارہ چندر کو میرے گھر مت بھیجیو، میں باغ میں نہیں آسکتی" بیلا چل پڑی۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان امر رہے گا - عبد العزیز غوری

" بیلا بیلا! ایسے نہ جا، میں کر لوں گا کچھ، میں آج پھر ابّے سے بات کروں گا، میں تجھے نہیں چھوڑوں گا بیلا" مگر بیلا چلتی رہی کہ اب مڑنے کا وقت نہیں تھا۔

شام کو گاؤں میں شور اٹھا۔ بلوائی اور ہندو آ گئے۔ گھر دھڑا دھڑ جلنے لگے۔ عورتوں اور بچوں کی چیخ و پکار سے دل دہلنے لگا۔ کشور باپ کے قدموں میں پڑ گیا کہ بیلا کے گھر والوں کو چھپا لے۔ راج منشی بھی بے بس تھا۔ مسلمانوں کو پناہ دینا اپنی موت کو بلانا تھا۔ بلوائی مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹتے گلی تک آگئے۔ کشور کا صبر جواب دے گیا۔

"کرم دین، اِدھر آ جا، چھپ جا اِدھر" راج نے دیوار کے پار سے آواز لگائی۔ کشور نے بھاگ کر زنجیر کھولی مگر اتنے میں ہی کرم دین کے چیخنے کی آواز آئی۔

"بیلا بیلا" کشور نکل بھاگا۔

"ابّا ابّا" بیلا پاگلوں کی طرح چیخ رہی تھی۔

"بیلا تو آ جا، یہ پکڑ لیں گے تجھے" کشور کی آواز پر بیلا ہوش میں آئی۔ وہ نکل بھاگی۔ کشور نے
اسے اپنے گھر کے اندر کر کے کواڑ بند کر لیے۔

"جا بیلا تو رسوئی میں چھپ جا" کشور چلایا۔

" یہ تو نے کیا کیا کشور؟ اپنی موت کو بلا لیا تو نے، کیوں اپنی جان کا دشمن ہو گیا تو؟ " راج نے اس کے آگے ہاتھ جوڑ دیے کہ بیلا کو نکال دے۔

" ابّا میرے سر کی قسم تجھے تو چپ رہ" دروازہ دھڑا دھڑ پیٹا جانے لگا۔

"کرم دین کی چھوری اِدھر ہے۔ اسے ہمارے حوالے کر دو نہیں تو تمہاری خیر نہیں،" پھر بلوائی دروازہ توڑ کر گھر میں داخل ہو گئے " کِدھر ہے چھوری؟ ہم نے خود دیکھا اسے اِدھر آتے ہوئے"

" میں منشی ہوں گاؤں کا، تم میرے گھر میں کیوں داخل ہوئے؟" راج نے اپنی حیثیت یاد دلائی۔

یہ بھی پڑھیں:   فیروزہ دائی - نورین تبسم

" او بس، او بس منشی! تیرے جیسے غدار تو اِس دھرتی کی کالک ہے، راہ میں نہ آئیو ورنہ جان سے جائے گا" راج سہم کر پرے ہو گیا۔ بلوائی برچھیاں لہراتے بیلا کو ڈھونڈنے لگے۔

رسوئی میں بلوائیوں کے داخل ہوتے ہے کشور بھی بھاگا اور بیلا کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو
گیا۔

"بھگوان کا واسطہ یہ ظلم نہ کرو" کشور نے ہاتھ جوڑے۔ بیلا کی آنکھیں خوف سے پھٹ گئیں۔ اسے معلوم نہ تھا کہ برچھیوں سے اس کے باپ کا لہو قطرہ قطرہ ٹپک رہا ہے۔

" چھورے ہٹ آگے سے، جان سے جائے گا ورنہ" مگر کشور نہ ہٹا۔

" ٹھیک ہے، تیرے جیسے نمک حرام کو زندہ رہنا بھی نہ چاہیے" بلوائی نے برچھی گھمائی اور کشور تڑپ کر زمین پر گرا۔

" کشور، کشور" بیلا اس کے زخموں سے ابلتا خون ہاتھ سے روکنے لگی۔

"تو بھاگ جا بیلا" کشور نے کرب سے کہا۔

" اب کہاں جاؤں گی بھاگ کر؟" بیلا بھی زمین پر بیٹھ گئی۔ بلوائیوں کے مکروہ قہقہے گونجے۔ بیلا کی سمت بہت سے ہاتھ بڑھے مگر اس سے قبل بیلا کی پشت پر چھپا ہاتھ آگے آیا اور اس نے پوری قوت سے چھّری اپنے پیٹ میں گھونپ دی۔

" نمک حرام، ذلیل، بے غیرت !" بلوائیوں کے منہ سے گالیاں نکلیں۔ وہ پلٹ گئے کہ آگے بہت سی بیلائیں اور کرم دین تھے۔

بیلا اور کشور کا گرم لہو رسوئی کے کچے فرش میں جذب ہونے لگا۔

" جسم سے روح کی آزادی، یہ بھی تو آزادی ہے، یہ تو میں نے سوچا ہی نہ تھا" بیلا کی آنکھیں بے نور ہو کر ٹھہر گئیں۔