مریض کی عیادت، نیکیوں کا خزانہ - سید ارسلان حسین زیدی

اللہ تعالیٰ اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مریض کی عیادت کرنے کی تلقین فرمائی ہے اور یہ ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا حق ہے کہ اگر اس کا مسلمان بھائی بیمار ہوجائے تو اس کی عیادت کو جائے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں،جن میں سے ایک بیمار کی عیادت کرنا بھی ہے۔ (بخاری و مسلم) رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے ابن آدم! میں بیمار ہوا، تو نے میری عیادت نہیں کی۔ وہ شخص کہے گا: اے میرے رب! میں تیری کیسے عیادت کرتا حالانکہ تو رب العالمین ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا، اگر تو اس کی عیادت کرتاتو مجھے اس کے پاس پاتا۔ (مسلم)

مریض کی عیادت کرنے کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مریض کی عیادت کرنے والا واپس آنے تک جنت کے باغ میں رہتا ہے۔ (مسلم) رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اچھی طرح وضو کیا اور ثواب کی نیت سے اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کے لیے گیا، اسے ستر(۷۰) سال کی مسافت کے برابر جہنم سے دور کیا جاتاہے۔ (ابو داؤد) حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جو شخص شام کے وقت کسی مریض کی عیادت کے لیے جاتا ہے تو اس کے ساتھ ستر(۷۰) ہزار فرشتے جاتے ہیں جو صبح تک اس کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں اور جو شخص صبح کے وقت کسی مریض کی عیادت کے لیے جاتا ہے تو اس کے ساتھ ستر (۷۰)ہزار فرشتے جاتے ہیں اور شام تک اس کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہوگا۔ (ابو داؤد) ہارون بن ابی داؤد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا: اے ابو حمزہ! آپ کا گھردور ہے اور ہمیں آپ کی عیادت کرنا پسند ہے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا سر اٹھا کر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص کسی مریض کی عیادت کرتاہے، وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت میں داخل ہوجاتا ہے اور جب وہ مریض کے پاس بیٹھتا ہے تو رحمت اس کو ڈھانپ لیتی ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم! یہ اس تندرست کا اجر ہے جو مریض کی عیادت کرتاہے تو بیمار کا کیا اجر ہوگا؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے گناہ جھڑ جائیں گے۔ (مسند احمد)

ہمارے معاشرہ میں ہر چیز ایک رسم بن کر رہ گئی ہے۔ اگر کوئی بیمار ہوجائے تو ا س کی عیادت کو جانا ایک سر درد بن جاتا ہے کہ "فلاں کو دیکھنے بھی جانا ہے، دو دن ہوگئے وہ بیمار ہے، وہ کہے گا کہ میں اس کو دیکھنے بھی نہ آیا"۔ مریض کی عیادت کو نیک کام نہیں بلکہ ایک بوجھ سمجھا جاتا ہے اور عیادت کرنے کے بعد ایسا محسوس کرتے ہیں جیسے سر پر سے کوئی بہت بڑا بوجھ اتر گیا ہو۔ جبکہ مندرجہ بالا احادیث کا مطالعہ اگر عمل کرنے کی نیت سے کیا جائے تو ایسا محسوس ہوگا کہ عیادت کرنے کی ضرورت مریض سے زیادہ عیادت کرنے والے کو ہے کیونکہ اس سے نیکیوں میں کئی گُنا اضافہ ہوتا ہے۔ اتنی پُر اثر دین اسلام کی تعلیمات ہیں کہ مریض کی حوصلہ افزائی کے لیے جو شخص جارہا ہے اس کو بھی دین اسلام نے محروم نہ رکھا۔ پھر ہم یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ جب مریض کی عیادت کی جاتی ہے تو ایک طرح سے وہ عیادت کرنے والے کا احسان مند ہوتا ہے کہ آپ نے وقت نکال کر میری خیریت دریافت کی یعنی آپس میں محبت بڑھتی ہے، دکھ درد میں شریک ہونا بندہ کی اخلاقی تربیت کی عکاسی کرتا ہے۔ چند ایک آداب جو عیادت سے متعلق احادیث مبارکہ میں بیان کیے گئے ہیں، ان کا خلاصہ موجود ہے تاکہ ہم دین اسلام کی تعلیمات کے مطابق مریض کی عیادت کریں۔

یہ بھی پڑھیں:   بیمار ہوئے جس کے سبب - افشاں نوید

٭ جب مریض کی عیادت کو جائیں تو اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھنا چاہیے، یا اس کے ہاتھ تھام کر بیٹھیں یا کوئی بھی ایسا عمل ہو جس سے اپنائیت کا اظہار ہو اور مریض کی دلجوئی ہو۔ اس کی خیریت دریافت کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ مریض کے لیے دعا بھی کرنی چاہیے۔

٭ جب مریض کی عیادت کو جائیں تو اسے نصیحت کریں یہ بیماری اس کے گناہوں کا کفارہ بنے گی۔ کئی ایک احادیث مبارکہ اس حوالے سے بیان کی گئی ہیں۔ چند ایک اسے بیان کریں تاکہ وہ اس بیماری پر صبرکرے اور اللہ تعالیٰ سے رحمت کی امید بھی رکھے۔

٭ اگر مریض کی عیادت کو جائیں تو پھر بھی نماز کا خیال رکھنا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہم یہ سوچیں کہ ہم تو مریض کی عیادت کر ہی رہے ہیں، یہ بھی ایک نیک کام ہے تو نماز رہنے دیتے ہیں یا جماعت کو ترک کردیتے ہیں۔ ایسا ہر گز نہیں کرنا۔ خود بھی نماز ادا کرنی ہے اورمریض کو بھی نماز کی تلقین کرنی ہے کہ جیسے بھی ہوسکے، بیٹھ کر، لیٹ کر، اشاروں سے جیسے اسے آسانی ہو، وہ بھی نماز کو ادا کرے کیونکہ نماز ہر حال میں فرض ہے۔

٭ مریض کے گھروالوں سے بھی مریض کی خیریت دریافت کرسکتے ہیں، یہ بھی عیادت کرنے کے
ضمرے میں آئے گا لیکن ہمیں چاہیے کہ مریض سے ملاقات کریں۔ اگر مریض اس حالت میں نہیں کہ اس سے ملاقات کی جاسکے تو اس کے گھر والوں سے مل کر مریض کی خیریت دریافت کی جائے اور انہیں حوصلہ دیا جائے۔

٭احادیث مبارکہ میں عیادت کے لیے کئی ایک دعائیں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے تعلیم فرمائی ہیں۔ ہر دعا کے اندر ایسے الفاظ ذکر ہیں کہ جس سے مریض کے لیے شفاء مانگی گئی ہے، تندرستی کا سوال کیا گیا ہے، اس کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے اور اسے اس بیماری پر صبر کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ جب ہم میں سے کوئی بیمار ہوتا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنا دائیں ہاتھ مبارک پھیرتے، پھر یہ دعا پڑھتے:"اے بندوں کے رب! یہ تکلیف و درد دُور کردے اور شفاء اور تندرستی عطا فرما کہ تو ہی شفاء عطا کرنے والا ہے،کوئی شفاء نہیں مگر تیری شفاء۔ ایسی شفاء دے جو کسی بیماری کو نہ رہنے دے۔" (بخاری و مسلم) حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں ہے کوئی مسلمان جو مسلمان کی بیمار پرسی کرتا ہے اور سات بار کہتا ہے: َاسَالَ اللّٰہُ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اَنْ یَّشْفِیْکَ ترجمہ: میں دعا کرتا ہوں اللہ عظیم سے جو عرش عظیم کا رب ہے کہ وہ تجھے شفاء عطا کرے مگر اللہ تعالیٰ شفاء عطا فرمادے گا مگر یہ کہ اس کی موت کا وقت آچکا ہو۔ (ابو داؤد، ترمذی)

یہ بھی پڑھیں:   بیمار ہوئے جس کے سبب - افشاں نوید

٭ مریض کے پاس جب عیادت کو جائیں تو شور و غل نہ کیا جائے کہ مریض اس سے تنگ ہوتا ہے۔
اس کے پاس مختصر قیام کیا جائے تاکہ مریض اور اس کے اہل خانہ تنگ نہ ہوں۔ کیونکہ کچھ مریض ایسے ہوتے ہیں کہ پیشاب پاخانہ بستر پر ہی کرتے ہیں تو ایسا نہ ہو کہ ہم دیر تک بیٹھے رہیں اور مریض شرم کی وجہ سے اپنی حاجت نہ بتا سکے۔ لیکن اگر مریض قریبی رشتہ دار یا قریبی دوست ہے یعنی بے تکلف ہے کہ وہ اپنی حاجت بتادے گا تو اس کے پاس دیر تک قیام کیا جاسکتا ہے۔

اس کے علاوہ جب مریض کی عیادت کو جائیں تو اس کی صحت کے لیے جو چیزیں یا پھل وغیرہ اچھے ہیں، وہ ساتھ لے کر جائیں۔ ایسی چیزیں نہ لے کر جائیں جو وہ بیماری کی وجہ سے استعمال نہ کرسکتا ہو۔ عیادت کا کوئی وقت مقرر نہیں، کسی بھی وقت جاسکتے ہیں بس اس بات کا خیال ضرور ہونا چاہیے کہ وہ وقت آرام کا نہ ہو کہ مریض کے آرام میں خلل آئے۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اگر کوئی ہمارا مسلمان بھائی بیمار ہوجائے تو اس کی عیادت کو جانا ہے۔ عیادت کرنے سے مریض کی دلجوئی بھی ہوتی ہے اور اس کا بے پناہ اجر و ثواب بھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے عطا کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!