"عائشہ بمقابلہ عائشہ" - خدیجہ افضل مبشرہ

28 جون کو پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد سے پاکستان میں سیاست کا سمندر مسلسل مدو جزر کے عالم میں ہے۔ ہر آنے والا پل، ہر آنے والا دن ایک نئی کہانی، ایک نیا رخ سامنے لے آتا ہے۔

سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی نا اہلی کا فیصلہ بھلے بہت سے اعتراضات کی زد میں ہے مگر پھر بھی معترض افراد میں سے کثیر تعداد اس بات کو سراہ رہی ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں کے احتساب کی یہ روایت اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اپنی طرز کا ایک نیا واقعہ ہے اور یہ روایت قائم رہنی چاہیے اور اس روایت کے تحت ہر سیاسی لیڈر، بیوروکریٹ، جج اور فوجی افسر کا احتساب بھی ہونا چاہیے۔

اس فیصلے سے جہاں حکمران جماعت کی ساکھ کو کافی نقصان پہنچا وہیں مخالف جماعت پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کو " تبدیلی" کی امید بھی دلا گیا۔ ابھی پاکستان تحریک انصاف کے پر جوش کارکنان "میوزیکل" یوم تشکر کی تھکن بھی نہ اتار پائے تھے کہ عائشہ گلالئی کی جانب سے پارٹی چھوڑنے کا اعلان آگیا۔ بات اگر صرف پارٹی چھوڑنے کی ہوتی تو ہضم ہو جاتی مگر انہوں نے پارٹی چیئرمین عمران خان پر سنگین الزامات کی بو چھاڑ کر دی بلکہ انہیں بدکردار تک کہہ ڈالا۔ ان الزامات کی جو وجہ عائشہ گلالئی صاحبہ نے بتائی وہ بقول ان کے عمران خان کی جانب سے عائشہ گلالئی کو کیے گئے "قابل اعتراض اور فحش " میسجز تھے۔ یہاں یہ یاد رہے کہ یہ میسجز عائشہ گلالئی کے مطابق عمران خان نے عائشہ صاحبہ کو 2013 میں کیے، یعنی کہ کم و بیش چار سال قبل مبینہ طور پر پہلا قابل اعتراض میسج کیا گیا۔ عائشہ گلالئی نہ صرف پاکستان تحریک انصاف کی کارکن تھیں بلکہ وہ پی ٹی آئی کی جانب سے دی گئی اسپیشل سیٹ پر پارلیمنٹ کی رکن بھی ہیں۔

جہاں تک بات ہے کہ کون سچا اور کون جھوٹا تو اس معاملے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں اور جو بھی غلط ثابت ہو جائے اسے کڑی سزا دی جائے۔ میرے نقطہ نظر میں یہ کیس مجرم اور معصوم کے لیول سے بہت اوپر کا کیس ہے۔۔ وجہ یہ ہے کہ جب عائشہ گلالئی صاحبہ کو پی ٹی آئی کی جانب سے دی گئی سیٹ چھوڑنے کا کہا جاتا ہے تو ان کا جواب ہوتا ہے یہ سیٹ ان کے پاس عوام کی امانت ہے اور اس سیٹ کو وہ ایوان میں عوامی اور خواتین کےمسائل کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے استعمال کریں گی۔ یہ نقطہ بہت ہی بھونڈا ہے۔ صرف ایک سوال پوچھنا چاہتی ہوں میں عائشہ گلالئی سے کہ آپ صاحب اختیار ہوتے ہوئے، پاکستان کے قانون ساز ادارے پارلیمنٹ کی رکن ہوتے ہوئے، قانونی کاروائی تک رسائی رکھتے ہوئے چار سال خاموش کیوں رہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان، ایک سال میں کیا حاصل کیا؟ محمد عامر خاکوانی

میں ایک عام انجان کمزور خاتون، جس کے پاس کوئی ایسا سہارا اور سیاسی مہرہ بھی نہیں جو اوپر کی سطح تک رسائی رکھتا ہو، اور سوشل میڈیا میرا واحد ذریعہ اظہار بھی اور لوگوں سے رابطے کا بھی، اور مجھے جب بھی کوئی الٹا سیدھا میسج کرے تو ایک وارننگ کے بعد دوسری بار سیدھا بلاک ہوتا ہے۔ کیونکہ میں جانتی ہوں کہ مجھے خود کو کیسے محفوظ رکھنا ہے ؟ تو پھر آپ سیاسی اثر و رسوخ رکھتے ہوئے قانون سازی کا حصہ ہوتے ہوئے کیوں چپ رہیں؟

اس کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ جب آپ طاقت اور اقتدار رکھتے ہوئے اپنے لیے چار سال آواز نہیں اٹھا پائیں تو میرے جیسی کوئی خاتون آپ کے پاس ایسا مسئلہ لے کر آئے تو آپ کیسے اس کی مدد کریں گی؟ جب آپ اسمبلی کی اس سیٹ پر بیٹھ کر خود کی مدد نہیں کر سکیں تو کسی کی کیا کریں گی؟ اوپر سے اس سارے ڈرامے کی ٹائمنگ اس کیس کو میری نظر میں بہت کمزور کر رہی ہے۔ مگر پھر بھی یہی خواہش ہے کہ اگر واقعی خان صاحب نے ایسی نیچ حرکت کی ہے تو انہیں سزا دی جانی چاہیے۔ کیسے اس ملک اور قوم کی باگ ڈور ان لوگوں کےہاتھ میں تھما دی جائے جن کے ہاتھوں عورت کی عزت محفوظ نہ ہو؟ خیر موجودہ وزیراعظم نے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو کہ اس سارے کیس کی انکوائری کرے گی۔ بہت اچھا اقدام ہے اور اس کا خیر مقدم ہونا چاہیے۔

عائشہ گلالئی صاحبہ نے اپنی کانفرنس میں کہا تھا کہ نواز شریف خاندانی آدمی ہیں اور خواتین کی عزت کرتے ہیں۔ بی بی آپ شاید ان کے معاشقوں سے نا واقف ہیں جو ایسی بات کی آپ نے۔

پھر تصویر نے پلٹا کھایا اور کل ایک بار پھر ٹی وی پر عائشہ احد کو دیکھا اور سنا۔ جی، وہی عائشہ احد جو چند برس پہلے بھی وزیر اعلیٰ پنجاب اور اپنے سسر شہباز شریف اور اپنے خاوند حمزہ شہباز شریف سے اپنا حق اور نکاح کی تصدیق مانگ رہی تھی، وہی عائشہ احد جسے پنجاب لیڈیز پولیس اور پی ایم ایل این کی خواتین کارکنان سے سر عام پٹوایا گیا۔ جس کے خاندان کو جھوٹے مقدمات میں پھنسوا کر ذلیل کیا گیا۔ وہ عائشہ احد جو شاید تھک کر بیٹھ گئی تھی، اب ایک بار پھر آواز اٹھا رہی ہے۔ اس کا مطالبہ بھی ویسی ہی پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل ہے جو ایک عائشہ کے لیے تشکیل دی گئی اور برحق ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان نے کمرشل فلائٹ پر جانے کا کہا تو محمد بن سلمان کیا بولا

عائشہ گلالئی صاحبہ! یہ ہے وہ عزت جو میاں صاحب خواتین کو دیتے ہیں؟ کیا خاندانی آدمی اپنی بہو کو یوں سر عام ذلیل و رسوا کیا کرتے ہیں؟ اور ملک کی باگ ڈور تو پہلے ہی ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہے جن کے لیے عورت کی کوئی عزت و وقعت ہے ہی نہیں۔

کیا پاکستان کے نصیب میں اب ایسے ہی حکمران رہ گئے ہیں؟

مگر اب کی بار عائشہ احد صاحبہ کے دائیں بائیں جو پی ٹی آئی کی کارکنان بیٹھی تھیں ان سے صاف واضح ہوتا ہے کہ اس عائشہ احد کی تھکی ہوئی آواز کو دوبارہ کس نے سہارا دیا ہے؟ دوسری جانب عائشہ گلالئی صاحبہ بھی ایک لائیو نیوز پروگرام میں بوکھلا کر اس بات کا اقرار کر چکی ہیں کہ وہ نون لیگ کے امیر مقام سے رابطے میں رہیں۔

ایک بات ایک بار پھر ثابت ہو گئی ہے۔ کہ مرد بھلے کتنا ہی طاقتور اور با اختیار ہو جائے، وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے عورت کو ہی استعمال کرتا ہے۔ جیسے اس کیس میں سیاسی بساط پر عائشہ گلالئی بمقابلہ عائشہ احد مہرے بنا کر استعمال کی جا رہی ہیں۔ یہ دونوں مقدمات عدالت میں اٹھائے جانے چاہئیں اور ان کا فیصلہ انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہونا چاہیے۔